ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ………خیبر پختونخواہ کا انتظامی بحران

………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……….

Advertisements

خیبر پختونخوا میں شرح غربت میں چار سالوں کے اندر 10 فیصد اضافہ ہوا ہے 44 فیصد سے 54 فیصد تک آگئی ہے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے مگر شرح معلوم نہیں چپڑاسی ،ڈرائیور اور سپاہی کی آسامیوں کے لئے ایم ایس سی اور بی ایس چار سالہ کو رس کرنے والے نوجوان درخواست دیتے ہیں یہ دونوں چیزیں نظر آرہی ہیں عام آدمی محسوس کر رہا ہے جن اضلاع میں 2015 میں سیلا ب اور زلزلہ آیا تھا ڈیڑھ سال گزر نے کے بعد سڑکوں ،پلوں اور دیگر منصوبوں کی بحالی پر کام شروع نہیں ہوا چترال ٹاون میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دو پیدل پل سیلا ب میں بہہ گئے تھے ایک پل پر 6 لاکھ روپے خرچ آتا ہے 18 مہینے گزر نے کے باوجود 6 لاکھ روپے نہیں دئیے گئے سکول جانے والی بچیاں زانگو میں سفر کرتی ہیں اور 20 روپے آنے جانے کے لئے ادا کرتی ہیں پورے صوبے میں ایسی ہی بدانتظامی نظر آتی ہے پشاور کا سول سکرٹریٹ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اپریل 2013 میں جو فائلیں تیار کی گئی تھیں وہ سب گر دآلود ہوچکی ہیں 6 بڑے محکموں میں چیف پلانینگ افسروں کے پاس گذشتہ 4 سالوں میں کوئی منصوبہ نہیں آیا کوئی پی سی ون نہیں آیا سالانہ ترقیاقی پروگرام کا فنڈ ہر سال خرچ کئے بغیر واپس کیا جاتا ہے مگر اصل بحران یہ نہیں ہے اصل بحران یہ ہے کہ صوبے کے اندر چار سطحوں پر بیورو کریسی کو لڑا ئیوں میں الجھا یا گیا ہے اپریل 2014میں پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس اور پراونشیل مینجمنٹ سروس کے افسروں کو آپس میں لڑایا گیا اور اس لڑائی سے صوبے کا انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے چیف سیکر ٹری سے لیکر اسسٹنٹ کمشنر تک سارے افیسربد اعتمادی کا شکار ہو چکے ہیں اکتوبر 2014 ء میں پولیس سروس اور ڈی ایم جی کے درمیان اختلافات کو ہوا دی گئی پولیس سروس والوں سے کہا گیا کہ ڈی ایم جی کا چیف سکرٹری تم پر حکم نہیں چلائے گا تمہارا آئی جی خود مختار ہوگا یہ بد اعتمادی کی دوسری خطر نا ک لہر تھی جسے مسلسل پروان چڑھا یا گیا جہانگیر ترین ،اسدعمر اور عمران خان کا یہ خیال ہے کہ افیسروں کی باہمی لڑائی سے منتخب نما ئندوں کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرینگے حالانکہ اس کا نتیجہ الٹا ہوا افیسروں کی باہمی لڑائی سے دفتری نظام میں خرابی آگئی سروس ڈیلیوری متاثر ہوئی سیاسی حکومت بد نام ہوگئی ترقیاتی عمل رُک گیا غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بھی غلط فہمیاں پیدا کی گئیں یہ تیسری لڑائی تھی مگر سب سے خطرناک چوتھی لڑائی یہ ہے دسمبر 2015 میں ضلعی ناظمین کے حلف اُٹھانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر وں کی میٹنگ بلائی گئی میٹنگ میں ان کو ہدایا ت دی گئیں کہ ضلع ناظم کو لگا م دو اختیارات اپنے پاس رکھو فنڈ اپنے پا س رکھو ضلع ناظم کو اختیارات مل گئے تو کرپشن ہوگی اس کا حسا ب ڈپٹی کمشنر سے لیا جائے گا یہ تمہاری خراب کار کردگی میں شمار ہوگی چنانچہ پشاور ،مردان ،ایبٹ آباد سے ڈی آئی خان ،چترال اور کوہستان تک ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کا الگ کیمپ قائم ہے ضلع ناظم کا کیمپ الگ ہے دونوں کے درمیان باقاعدہ اور باضابطہ رسہ کشی ہو رہی ہے اس لڑائی اور رسہ کشی کا نقصان عوام کو ہورہا ہے مگر سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوگا اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو پتہ لگے گا کہ چار مختلف سطحوں پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بد اعتما دی اور لڑائی کی فضا پید ا کر کے پارٹی قیادت نے خود اپنے پا ؤ ں پر کلہاڑی ما ری تھی انتظامی بحران کے کیا نقصانات ہیں ؟اس پر غور کرنے سے تین بڑے نقصانات سامنے آجاتے ہیں پہلا نقصان یہ ہے کہ ترقیاتی اہداف حاصل نہیں ہوتے بجٹ کے استعمال کا سہ ماہی ہدف حاصل نہیں ہوتا جن سکیموں کے پی سی ون ستمبر کے مہینے میں منظور ہونے چاہئیں وہ اگلے سال مئی تک تیار ہی نہیں ہو ئے مجبوراً فنڈ استعمال نہیں ہوتا سکیمیں شروع نہیں ہوتیں ترقیاتی عمل متا ثر ہوتا ہے عوام میں بے چینی پھیل جا تی ہے دوسرا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عوامی مسائل کی فائلیں روک لی جاتی ہیں جس فائل پر 15 دنوں میں حکمنامہ جاری ہونا چاہئے اُس فائل پر 6 مہینوں میں بھی سمری آتی ، پی یو سی اُسی طرح پینڈنگ رہتی ہے تیسرا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ڈونر برادری کا اعتماد مجروح ہو اہے ڈونر امداد سے چلنے والے بڑے بڑے منصوبے بند ہو چکے ہیں سیلاب اور زلزلہ کے بعد امداد کے لئے آنے والے ڈونر سرکاری رویے سے نالاں ہو کر واپس چلے گئے این او سی کے چکر میں 30 ارب روپے کی گرانٹس واپس کر دی گئیں 4 سا ل گزر نے پر انتظامی بحران کُھل کر سامنے آگیا ہے مگر اب تک اس بحران کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں کیا گیا مجبوراً عوام کو اسکا نتیجہ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

جہاں بھونچال، فصیلِ بام و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى