
مضامین
جھوٹ اور مبالغہ آرائی اور چترال
………محمد صابر ……….
جھوٹ کو اپنانا اور جھوٹ کو پھیلانا رونوں ہی ناپسندیدہ افعال ہیں ۔ خصوصا ایک پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ معاشرے میں باکثرت جھوٹ کا سہارا لینا نہایت معیوب سجھا جاتا ہے ۔ کسی بھی خطے ملک اور علاقے کے باسیوں میں جھوٹ بولنے کی روایت عام ہو جائے تو یقینا اس خطے ملک اور علاقے کے افراد کی اخلاقی زوال شروع ہو جاتی ہے ۔ پرانے وقتوں میں اپنی بات یا کوئی خبر دور دراز کے علاقوں تک پہنچانا ہوتا تو پیغام رسانی کےلیے خط و کتابت کا سہارا لیا جاتا جاتا تھا ، جو کہ آج کل ٹیلی فون ، موبائل اور انٹرنیٹ کی بدولت سمٹ کر رہ گیا ہے ۔ میرے خیال میں اُس زمانے میں کم معلوماتی وسائل کی وجہ سے کسی بھی خبر یا واقعے کو جھوٹ اور سچ کی ترازو میں تولنے کےلیے کافی وقت درکار ہوتا تھا ۔ مگر موجودہ دور میں اب ایسا ممکن نہیں رہا ۔ کیونکہ آج کل کے اس تیز دور میں کسی خبر یا واقعے تک رسائی حاصل کرنے کےلیے آپ ٹی وی اور انٹرنٹ کا آسان استعمال کرکے سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا سکتے ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے ۔ اللہ پاک نے انسان کو سوچنے کےلیے دماغ دیکھنے کے لیے آنکھیں دی ہیں مگر ہم نا ہی دیکھتے ہیں اور نا ہی سوچتے ہیں ۔
جو قوم جھوٹ کو اپناتی ہے اس قوم کے زوال کا وقت شروع ہو جاتا ہے جھوٹ کو اللہ رب العزت کے ہاں سخت ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے ۔ جھوٹ کو کسی بھی معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا ہے ۔ اگر ہم چترال کی بات کریں تو وادئ چترال جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے زمانئے قدیم سے لیکر اب تک چترال اور چترالی باشندوں نے بہت کچھ دیکھا اور سہا ہے ۔ آج سے 20 برس قبل کی بات کریں تو چترال کی پسماندگی کو دیکھ کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا ہے ۔ باجود ترقی کے آج بھی کوئی خبر ، واقعہ آپ کو من و عن صحیح صحت کے ساتھ سننے کو نہیں ملے گا ، چاہے وہ خبر چترال کے حدود میں واقع ہو یا ملک کے کسی بھی حصے میں وہ بات ہماری سماعتوں سے ٹکرانے کے بعد عجیب و غریب جہتیں اور حالتیں بدلے گا ۔ ہم اس کو یوں بیان کریں گے جیسے کہ اس خبر کو ہم گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا حال احوال بتا رہے ہوں ۔ مثال کے طور پر کسی نے ایک واقعہ یا کوئی بات کسی کو بتادیا اب وہ دوسرا شخص ایک دو باتیں اپنی طرف سے گھڑ کر اس واقعے کو آگے فاورڈ کرے گا پھر تیسرا شخص مزید اہک دو الفاظ کا اضافہ کرکے اس خبر کو چوتھے بندے کو تک پہنچاۓ گا وہ بات یا خبر ساتویں آٹھویں شخص تک پہنچتے پہنچتے ایک ڈراونا صورت حال اختیار کرتا ہے ۔ ۔ ۔
یہ مشق اور روایت یہاں برسوں سے جاری ہے بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ واقع اس علاقہ کے لوگ نہایت سادہ مہذب اور شریف النفس ہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے ہم کسی کی بھی سنی سنائی بات پر فورا یقین کر لینگے وہ بھی بلا تحقیق ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب چترال میں ٹی ، وی انٹر نٹ میسر نہیں تھے تب چترالی عوام کو ملک کے حالات و واقعات کا بہت کم ہی علم رہتا تھا اس دور میں لوگوں کو معلومات و واقعات تک رسائی کے لیے صرف ریڈیو کی سہولت حاصل تھی وہ بھی بہت کم لوگ ایفورٹ کرسکتے تھے ۔ یہ وادی پہاڑوں کی بیچ واقع ہونے کی وجہ سے الک تھلگ علاقہ ہے ، اس کے علاوہ پرانے وقتوں کی سردی اور برف باری اب کہاں جب چار چار پانچ پانچ فٹ برف پڑتی تھی بجلی کا نام و نشان تک نہ ہوتا تھا ۔ آمدو رفت محدود ہوا کرتی تھی ۔ اس دور کے حالات کی مناسبت سے ہمارے اس وقت کے ان بزرگوں سے ہمیں کوئی گلہ نہیں۔ ہمارے آباء واجداد عظیم لوگ تھے ۔ قن کی سادگی شرافت انکساری اور بہادری کی کیا مثال مگر ہماری آج کی نسل ہر ایک کو کسی بھی چیز پر قدرت حاصل ہے زمانہ قدیم کے بعد میں چترال کی مارکیٹ نے گروتھ کیا اب ہر چیز مارکیٹ سے بآسانی مل جاتی ہے لینڈ لائن پھر موبائل فونز نے ودای چترال کو ملک کے ساتھ ملا کر رکھ دیا ہے مگر لواری ٹنل کے بننے کے باوجود بھی آج ہم مشکلات و مسائب سے دوچار ہیں پہلے خطوط کا سلسلہ مہینوں تک جاری رہتا تھا لیکن اب گھر بیٹھے میسج ٹائپ کریں سیکنڈوں میں ڈیلیوری پائیں ان سب سہولیت کے باجود بھی ہم خبر اور واقع کے حوالے سے مبالغہ آرائی اور جھوٹ سے کام لیں تو اس سے بڑا ظلم اور نا انصافی میرے خیال میں کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے ۔ ہم میں جھوٹ کی اس قدر عادت پڑ گئی ہے کہ سیاست دانوں کو چھوڑیں ان کا کام ہی جھوٹ بولنا ہے عام آدمی یعنی عوام جب اس قدر جھوٹے تو سیاست دانوں سے کوئی گلہ نہیں ۔ سیاست دانوں کا کام ہی اپنی سیاست چمکانا ہے ۔ اب آپ ایس آر ایس پی کے بجلی گھر ہی کو لے لیں برموغ گولین کے مقام پر بننے والے 2 میگا واٹ بجلی گھر کو لیکر آج تک چترال کی تاریخ میں اتنی سیاست نہیں ہوئی دو سال پہلے اس کی بنیاد رکھی گئ تھی ۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک سال کا وقت رکھا گیا تھا ۔ مگر دو سال بھی گزر گئے مگر آج بھی صحیح حقائق کسی کو بھی معلوم نہیں آۓ روز جھوٹ پہ جھوٹ کی وجہ سے عوام عوام کا اعتماد سیاسی عناصر اور بجلی گھر سے متعلق افراد سے اٹھ چکا ہے ۔ اور ہم بھی بہت سادہ اور عجیب ہیں کہ اس دھوکہ اور فریب کو سمجھنے کے بجائے مسلسل دو سالوں سے خوش فہمی میں مبتلا ہی
