تازہ ترین

چترال میں دودنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اور پورے ضلع میں بڑی مقدار میں برف پڑنے سے زندگی مفلوج ہو گئی ہے

چترال (محکم الدین) چترال میں دودنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اور پورے ضلع میں بڑی مقدار میں برف پڑنے سے زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ آمدرفت مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے۔ بجلی کٹ گئی ہے۔ اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بالائی چترال کے یارخون لشٹ، بروغل اور گرم چشمہ بگوشٹ میں 40انچ،لا سپور، تور کہو، موڑکہو میں 30انچ چترال شہر میں 20انچ کالاش ویلی بمبوریت میں 36انچ برف پڑی ہے۔Image may contain: snow, tree, sky, car, outdoor and nature موڑکہو کے مقام گہت میں 10خاندان برف کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ ہفتہ کے روز شدید برفباری سے آمدورفت معطل رہنے کے سبب دفاتر میں حاضری انتہائی کم رہی۔ اور لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برفباری سے چترال شہر کے کئی مقامات پر گرے ہوئے درخت اور بجلی کی گری ہوئی تاریں رکاوٹ بنی رہیں۔ اور لوگ پیدل چلنے میں خطرہ محسوس کرتے رہے۔ لواری ٹنل ایریے میں بھی بڑی مقدار میں برف پڑی ہے۔ تاہم گذشتہ جمعہ کے شیڈول کے روز کے مسافر رات 2بجے چترال پہنچ گئے۔Image may contain: snow, tree, plant, outdoor and nature بالائی چترال کے علاقہ بروغل میں حالیہ برفباری سے پہلے ہی لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے۔ اب وہاں حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ یارخون کے سابق ناظم اور چیرمین سی سی ڈی این محمد وزیر خان اور ویلج ناظم بروغل نے وفاقی، صوبائی حکومت چیر مین این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سے فوری طور پر امداد کی اپیل کی ہے۔ اور کہا ہے۔ کہ چترال شہر میں لوگ مفلوج ہو چکے ہیں۔ ایسے میں چترال شہر سے 250کلومیٹر دور بروغل وادی میں لوگوں کی حالت کیا ہوگی۔ہماری حکومت کو سوچنا چاہیے۔ درین اثنا برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور لوگوں کو جلانے کی لکڑی کی اضافی ضرورت پڑ گئی ہے۔ تاہم جلانے کی لکڑی سمیت اشیاء خوردونوش منہ مانگی قیمت پر فروخت کئے جا رہے ہیں۔ چترال میں گذشتہ پانچ سالوں کے بعد ہونے والی برفباری نے پوری چترال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور پہاڑوں و جنگلوں میں بڑے پیمانے پر برف کا ذخیرہ ہو چکا ہے۔ حالیہ برفباری کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے حوالے سے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى