داد بیداد

دادبیداد ……..تحریک انصاف اور چترال

…………….ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ ……….

ڈاکٹر صلاح الدین کا خوبصورت کالم نظر سے گزرا کالم نگار نے عنوان باندھا ہے ’’تحریک انصاف کا پشاور تب سے اب تک ‘‘خلاصہ کلام یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئر مین کی خالی کی ہوئی نشست اے این پی کو مل گئی 3ایم این اے اور 8 ایم پی اے منتخب ہوئے تھے ان میں سے 2ایم این اے اور 6 ایم پی اے باغی ہو چکے ہیں ضلعی حکومت ارباب عاصم نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حاصل کی تھی اس کی صورت ڈانواں ڈول ہے الیکشن میں جانے کے لئے سکندر کی طرح عمران خان کے دونوں ہاتھ خالی ہیں کالم پڑھ کر میں نے سوچا تو کسی شاعر کا لاجواب مصرعہ یا د آیا ’’اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ‘‘چترال میں اگر چہ تحریک انصاف کو کسی سیٹ پر کامیابی نہیں ملی تاہم تینوں سیٹوں پر دوسری پارٹیوں سے زیادہ ووٹ ملے تھے قومی اسمبلی کے حلقے میں جنرل مشرف کی مقبولیت کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عبدالطیف کو 26ہزار ووٹ ملے تھے جبکہ جنرل مشرف کے امید وار نے محض 3 ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی بلدیاتی انتخابات میں 5یونین کونسلوں میں تحریک انصاف کے ناظمین کا میاب ہوئے جبکہ 24 میں سے19 ناظمین دیگر جماعتوں سے آئے 4 سالوں کے دوران صوبائی اور مرکزی قیادت نے کوئی رابطہ عوام مہم نہیں چلائی عمران خان ہنگامی دورے پر دوبار آئے پارٹی کارکنوں سے نہیں ملے وزیر اعلیٰ بھی دوبار ہنگامی حالات میں آئے نہ عوام سے ملے نہ کارکنوں سے ملاقات کی ضیاء اللہ آفریدی واحد وزیر تھے جنہوں نے چترال کا دورہ کیا کا رکنوں سے ملاقاتیں کیں مگر واپس پشاور آنے کے بعد گرفتار کئے گئے جیل میں ڈالے گئے کا بینہ کے واحد وزیر تھے جنہیں کارکنوں سے ملاقات کا موقع ملا تھا انٹرا پارٹی الیکشن میں ضلع کے صدر منتخب ہونے والے عبد للطیف کو 2015 میں تنظیم توڑنے کے بعد غیر فعال کیا گیا دو سال بعد تنظیم بحال ہوئی عبداللطیف کو دوبارہ صدر بنا یا گیا ہے مگر اب حالات بہت مختلف ہیں 2013 کے انتخابات میں عمران خان کی شخصیت سے لوگ متاثر تھے پہلی بار ان کی پارٹی کو آزمایا جا رہا تھا اندازہ یہ تھا کہ اپنے نام کے عین مطابق تحریک انصاف ہمارے ساتھ انصاف کا رویہ اختیار کریگی صاف ستھری انتظامیہ دے گی ترقی کا موقع فراہم کرے گی محرومیوں کا ازالہ کرے گی اگر صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نہ آتی تو عوام کی توقعات اسی طرح بر قرار رہ جاتیں عمران خان کی مقبولیت کا کرشمہ بر قرار رہتا لیکن صوبے میں پی ٹی آئی کی 4 سالہ حکومت نے صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا پشاور کا جو نقشہ ڈاکٹر صلاح الدین نے کھینچا ہے وہی صورت حال چترال کی ہے دو مثالیں دی جارہی ہیں وزیر بلدیات عنایت اللہ نے گرم چشمہ کا دورہ کیا ،گو بور فسٹیول میں میں انعامات تقسیم کر کے یونین کونسل کے نا ظم محمد حسین کے لئے ایک کروڑ روپے کے گرانٹ کا اعلان کیا گرانٹ مل گئی ترقیاتی کام ہورہے ہیں صوبائی وزیر اعلیٰ شندورفسٹیول میں شرکت کے لئے یونین کونسل لاسپور میں اترے ہیلی پیڈ پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے یونین کونسل کے ناظم زلفی ہنر شاہ اور کونسلروں نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا سیلا ب سے تباہ شدہ چارپلوں کی بحالی کے لئے وزیر اعلیٰ نے 3کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا وعدہ کیا مگر ایک پائی بھی نہیں ملی کسی دفتر میں اس وعدے کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے ظاہر ہے یونین کونسل کے ناظم اور کونسلروں کی درخواست ہی گم ہوگئی ہوگی عنایت اللہ کے دفتر میں ریکارڈ رکھا جاتا ہے ،وزیر اعلیٰ کے دفترمیں کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا اب زلفی ہنر شاہ اور منتخب کونسلر عوام کے پاس جاکر کیا کہینگے ضلعی صدر عبداللطیف کیا صفائی پیش کرینگے اب زلفی ہنر شاہ کے یونین کونسل میں ایک زنانہ ہائی سکول ،دومردانہ پرائمیری سکو ل ایک زنانہ پرائمری سکول بند کر کے طلبا اور طالبات کو 4کلومیٹر سے 10کلومیٹر کے فاصلے پر دوسرے سکولوں میں بھیجنے کا حکم آگیا ہے دوسری پارٹیوں نے سکول تعمیر کرلی تھی زلفی ہنر شاہ کی پارٹی نے مو جودہ سہولیات کو تالہ لگا دیا ہے
نا طقہ سر بگر یباں ہے کیا کہئے
خامہ انگشت بدندان ہے کیا کہئے
پی ٹی آئی کی قیادت کہتی ہے کہ 2017 الیکشن کا سال ہے اسمبلیاں ٹوٹنے والی ہیں الیکشن ہونے والے ہیں ملکی قانون کے تحت 2018 میں الیکشن ہونے کی امید ہے جب بھی الیکشن ہونگے ساری پارٹیاں اپنی کارکر دگی کو لیکر عوام کے پاس جائیں گی تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کو مایوس کیا ہے اگر ضلعی ہیڈکوارٹر کے کسی دفتر میں بایو میٹرک سسٹم لگا یا گیا ہے تو یہ دوردراز پہاڑی گاؤں ،لاسپور ،یارخون ،کریم اباد ،اویر وغیرہ میں جاکر ووٹروں کو سمجھانے کی بات نہیں ہے بایو میٹرک سسٹم کے فضائل پر تقریر پارٹی کے کام نہیں آئے گی پل کی بحالی ،پانی کے منصوبے کی مرمت ،سڑکوں کی مرمت ،نئی سکیمیں ،نئی منصوبے ،ایسی باتیں ہیں جو حکمران پارٹی کو عوام میں مقبول بناتی ہیں مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں نے عوام کی خدمت کی ہے صرف پی ٹی آئی کا خدمت والا خانہ اب تک خالی ہے مگر یہ بات ہم کس کو بتائیں گے ؟
بقول شاعر ۔
میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیر ا نقطہ بھی سند ہے۔۔ حد ہے
تیری ہر بات ہے سرآنکھو ں پر
میر ی ہر بات ہی رد ہے۔۔ حد ہے

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔