تازہ ترین

سی پیک میں مجموعی طور پر سات میگا پراجیکٹس ڈالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین کو سی پیک کے تناظر میں صوبائی محکموں میں بنائے گئے مختلف ورکنگ گروپس میں شامل کرنے اور سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کو ازدمک میں ضم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے گیارویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ بن چکا ہے جو مشترکہ تعاون کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے منٹس میں بھی آچکا ہے ۔ہمیں سی پیک کے کسی روٹ پر اعتراض نہیں تھا بلکہ ہمارا موقف تھا کہ ترقی پذیر اضلاع کا بھی حق ہے کہ ایک روٹ وہاں سے گزارا جائے۔ ہم سی پیک میں مجموعی طور پر سات میگا پراجیکٹس ڈالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ مشترکہ تعاون کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں مزید منصوبے ڈالنے کی کوشش کریں گے تاہم جو منصوبے سی پیک کا حصہ نہیں بن پائیں گے وہ مارچ کے اواخر میں بیجنگ میں مجوزہ روڈ شو میں مارکیٹ کریں گے اس سلسلے میں تمام محکموں کے ورکنگ گروپس پہلے سے کام کر رہے ہیں ۔ چینی حکومت خیبرپختونخوا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دے چکی ہے ہم اپنے منصوبے چین کی صف اول کی پانچ سرمایہ کار کمپنیوں کو دیں گے ۔ اگر ہم محنت کریں گے تو مزید 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کار ی لاسکتے ہیں ۔ ازدمک کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کا کردار اس سلسلے میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے چینی کمپنیوں کو تجویز دی ہے کہ وہ پاکستانی صنعتکاروں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں ۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی شامل کرنے کیلئے طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ حکومت ا س سلسلے میں بھر پور تعاون کرے گی ۔ انڈسٹریل اسٹیٹس میں موجود spare پراپرٹی کی کمرشلائزیشن کیلئے ازدمک کے بور ڈ آف ڈائریکٹر ز کے پانچ اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو اپنی رپورٹ 15 دن کے بعد بی او ڈی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی پابند ہو گی ۔وزیراعلیٰ نے ٹیم ورک کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں۔ ذمہ داریاں تقسیم کریں اور ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔ آئندہ تین چار ماہ ہمارے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ہم نے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ اس صوبے میں سرمایہ کاری کا مستقبل بڑا تابناک ہے۔ چین کی وجہ سے دیگر ممالک کے بھی سرمایہ کار خیبرپختونخوا میں آرہے ہیں کیونکہ انہیں محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ اس دائرے سے نکل رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی صنعتی پالیسی کے رولز آف بزنس کے حوالے سے پیش رفت طلب کی جس پر بتایا گیا کہ رولز تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم صوبے میں تیز رفتار صنعتکاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے قانونی طریق کار ناگزیر ہے۔ ہم قوانین اور ترامیم اسی لئے لارہے ہیں تاکہ ترقی کا یہ عمل کل وقتی اور دیر پا ہو۔ ہم صوبے کیلئے سوچتے ہیں۔ ہمارے سسٹم میں ذاتی مفادات اور ذاتی پسند و ناپسند کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ہم ڈیڈانوسٹمنٹ پر یقین نہیں رکھتے اور نہ قومی وسائل کے ضیاع کی اجازت دے سکتے ہیں۔ ہم صوبے کو پھنسانا نہیں چاہتے کہ کل ہمارے بچے ہمیں بد دُعائیں دیں بلکہ ہم ان کا مستقبل بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ دعائیں دیں۔وزیراعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور ڈیڈ سرمایہ کاری کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور قرضوں کی واپسی کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل ایسے منصوبوں پر خرچ ہونے چاہئیں جن سے ریٹرن بھی ملے اور صوبہ ترقی کرسکے ۔یہ ہماراملک ہے ہم نے اس کو آگے لیکر جانا ہے ۔وزیراعلیٰ نے تیز رفتار صنعتکاری کے اہداف کو حاصل کرنے اور صنعتی پالیسی کے تحت حطار میں موجود سہولیات کو دیگر صنعتی زونز تک وسعت دینے کی غرض سے مطلوبہ مالی ضروریات پورا کرنے کیلئے کمرشلائزیشن پلان پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم 30 فیصد ترقیاتی بجٹ مقامی حکومتوں کو دے چکے ہیں۔ اب اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ہم نے کمرشلائزیشن پلان بنایا ہے۔یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں گزشتہ کابینہ اجلاس میں بات ہو چکی ہے اور ریٹس کے تعین کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹس کو گیس سے بجلی پیدا کرنے کیلئے پروپوزل بنا کرپیش کی جائے ہم نے وفاق سے 100 ایم ایم سی ایف گیس اسی مقصد کیلئے حاصل کی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو متعلقہ صنعتی زونز میں ہی بجلی پیدا کرکے سستے نرخوں پر مہیا کی جا سکے ۔وزیراعلیٰ نے سی پیک پر حکومت کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ 1700 میگاواٹ کے پن بجلی کے منصوبے سی پیک میں شامل کئے جا چکے ہیں ۔گریٹر پشاور ماس ٹرانزٹ سسٹم پر بھی جے سی سی کے اجلاس میں اتفاق دیکھنے میں آیا ہے ۔اس منصوبے کے تحت پشاور ، نوشہرہ ، چارسدہ ، مردان اور صوابی کو باہم منسلک کیا جائے گا۔اس منصوبے کو درگئی سے بھی لنک کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے سے اس سلسلے میں بات ہو چکی ہے اور انہوں نے رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ریلوے پراجیکٹ کے ایم او یو پر دستخط پانچ ماہ پہلے ہو چکے ہیں۔گلگت شندور چترال تا چکدرہ روڈ بھی سی پیک میں شامل ہو چکا ہے ۔ہم نے ثابت کیا کہ اس کی وجہ سے واخان بھی کھل جائے گا ۔یہ دونوں طرف استعمال ہو سکتا ہے ۔ اگلے ہفتے چین کی سرمایہ کار کمپنی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کیلئے آسکتی ہے جو حصہ صوبے کا بنتا ہے وہ ہم خود بنائیں گے ۔ این ایچ اے پہلے سے سروے کر چکا ہے ۔ہم اُن کی معاونت بھی حاصل کریں گے ۔وفاقی حکومت انڈس ہائی وے کی اپ گریڈیشن کرے گی ۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سی پیک میں ہر صوبے کیلئے مساوی صنعتی زونز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سب نے تین تین پراجیکٹس دیئے ہیں جن میں سے فزیبلٹی کی بنیاد پر کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا ۔ ہم نے بھی حطار ، رشکئی اور ڈی آئی خان کے تین پراجیکٹس دیئے ہیں۔ازدمک ان کی فیزیبلٹی تیار کر رہی ہے ۔بجلی کے منصوبوں پر بھی رواں ماہ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوسکتے ہیں۔کوہاٹ سے جنڈ روڈ بھی سی پیک کا حصہ ہے ۔چشمہ لفٹ کینال منصوبہ بھی پی ایس ڈی پی میں منظور ہو چکا ہے ۔اسی طرح پشاور سے ڈی آئی خان روڈ کو ڈبل کرنے اور پشاور سے ڈی آئی خان ریلوے ٹریک کی بھی پی ایس ڈی پی نے منظوری دے دی ہے۔ہم آئندہ جون تک بہت سے منصوبوں پر معاہدے کرچکے ہوں گے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ محکمے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دیں اور مارچ میں مجوزہ روڈ شو کیلئے بھر پور تیار ی یقینی بنائیں ۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى