تازہ ترینمضامین

پاور کمیٹی کا شکریہ

………………….ڈاکٹر عنا یت االلہ فیضیؔ ………

اُن کا جو کام ہے اہلِ سیا ست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
میں چترال ٹاون کی پاور کمیٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ کمیٹی نے اپنی میٹنگ میں میری ٹو ٹی پھوٹی تحریر’’گو لین کا دو میگا واٹ بجلی گھر‘‘ کو زیربحث لا یا۔ پھر آن لائن اخبارات کے ذریعے میرے چار سوالوں کے جوا بات عنا یت فر مائے اور مجھے منا ظر ے کا چیلنج دیا۔ منا ظرہ وہاں ہو تا ہے جہاں دو مخالف فریق مختلف رائے رکھتے ہوں۔ میں پاور کمیٹی کے ساتھ متفق ہو ں جب ہمارا نقطہ نظر ایک ہے۔ تو منا ظرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ کھوار کا شاعر کہتا ہے
مہ غمے! تو تان چوڑے ،اوا دی غمو بیان کوم کا صحیح بو ئے کا غلط!
ملکو روئے شیطان نسانی، چنگی کو نیاں شکایت ژان چنگیک ہوئے روئے رو یان عادت
میرا محولہ بالا مضمون 28 جنو ری کی شام کو لکھا گیا۔ 30 جنوری کو شائع ہوا۔ 28 جنوری کے دن چترال ٹاون اور کو ہ کے عوام کے درمیان مقابلے کی فضا چیوپل سے ڈی سی ہاؤس تک دیکھنے میں آئی ۔ اُس تنا ظر میں اس مضمون کے ذریعے چا ر فنی اور تکنیکی سوالات میں نے اُٹھائے تھے۔جن کے جو ابات پاور کمیٹی نے10 دن بعد مرحمت فر مائے پہلی بات یہ سامنے آئی کہ پاور کمیٹی خو د بجلی گھر نہیں چلائے گی اس کا بجٹ صرف تنظیمی امور کے لئے ہے بجلی گھر چلانے کیلئے نہیں ۔پاورکمیٹی کو ایک لمٹیڈ کمپنی ، سی بی او یا سی سی بی کے طور پر رجسٹر ڈکرنے کا مسئلہ زیر غور ہے ۔ایس آر ایس پی خو د بجلی گھر کو چلا کر محا صل جمع نہیں کرے گی ۔پیڈو اور واپڈا کے ساتھ معاہدہ ہونے والاہے اگر یہ وضاحت یکم فر وری یا 2 فر وری کو منظر عام پر آتی تو بہتر ہو تا۔5 فر وری کی بر ف باری کے بعد صورت حال یک سر تبدیل ہو گئی ہے۔ اب ٹاون میں
بر ف، سڑکیں،گلیاں ، بجلی کے ٹو ٹے کھمبے اور ٹوٹی ہوئی تاریں زیر بحث ہیں 10 دن بعد سامنے آنے والے بیان پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے
’’سرآئینہ میر ا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے‘‘ چترال ٹاون کے لو گوں کو یا د ہے کہ 20 دسمبر اور 28 جنو ری کے درمیان چا ر با ر بجلی آنے کے
اعلانات کئے گئے عوام کی تو قعا ت کو آسمانوں اور ستاروں کی سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد بجلی نہ آئی تو لو گوں میں مایوسی اور بدگمانی پھیل گئی ۔
28 جنوری کو امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جسے جر گہ کے ذریعے وقتی طور پر حل کیا گیا۔جر گہ کے بعد ریڈیو پر وگرام میں پھرپرانی باتیں دہرائی گئیں ۔ تب میں نے چار سوالات اُٹھائے ۔ یہ سوالات اُ س ماحول میں بر محل تھے اس لئے اُس وقت کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اس میں پاور کمیٹی کی تضحیک کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ باہر سے کسی کی ڈکٹیشن نہیں تھی۔ مجھے اُس بد بخت کا نام بھی معلوم نہیں جو پاور کمیٹی کا مخالف ہو یا
ایس آر ایس پی کے بجلی گھر سے عنا د رکھتا ہو ، حاشا و کلا ایسا بد بخت کو ن ہو سکتا ہے ؟ میں ایک با ر پھر پاور کمیٹی کا شکریہ ادا کر تا ہوں ۔
بقول فیض’’ تیرے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے ‘‘

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔