تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ………..ترکی میں صدراتی نظام

…………..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی ؔ …………..

Advertisements

ترک صدر رجب طیب اردوان نے ترکی میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کے قانون پر ستخط کردئیے ہیں یہ بل ترک پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا یوں ترکی نے پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف قدم بڑھایا ہے اور یہ بہت بڑی تبدیلی ہے ترک قوم کیلئے عالم اسلام کیلئے اور اسلامی ممالک کے عجمی بلاک کیلئے اس کے دو رس اثرات سامنے آئینگے ترکی عالم اسلام کا اہم عجمی ملک ہے ترک قوم کی شجاعت اور بہادری تاریخ میں شہرت رکھتی ہے عباسی خلافت کے قیام میں ترک جر نیلوں کا بڑا کر دار تھا یحی برمکی اور خالد برمکی کے نام سے اسلامی تاریخ میں خاندان برامکہ مشہور ہوا عباسی خلفاء کے دربار میں عرب شاہزادوں اور شیوخ نے عجمی اثر و نفوذ پر اعتراض کیا تو عباس خلافت کا زوال شروع ہوا یہ تاریخ کا ایک باب ہے موجودہ ترکی کی آبادی کے لحاظ سے 9 کروڑ کی آبادی کا متمول ، صنعتی اور زرعی ملک ہے تعلیم کے میدان میں اس کی دانشگا ہیں اور یونیورسٹیاں یورپ کا مقابلہ کرتی ہیں ترک انجینئر پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں خصوصا ارکیٹکچر کے شعبے میں ترک انجینئروں کا بڑا مقام ہے پاکستان اور ترکی میں چار مما ثلتیں پائی جاتی ہیں پہلی مماثلت یہ ہے کہ دونوں ممالک میں فوجی حکومتیں رہی ہیں دوسری مماثلت یہ ہے کہ سول حکومت میں بھی فوج کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور تیسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں ممالک کو مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقے کی طرف سے انتہا پسندی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خطرے کا سامنا رہتا ہے چو تھی مماثلت یہ ہے کہ دونوں ممالک کو قوم پرست عناصر کی طرف سے علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا ہے یہ چار مماثلتیں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں ترکی کے جنرل کنعان ایورن اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیا ء الحق آپس میں گہرے دوست تھے دونوں نے ایک ہی دور میں اپنے اپنے ملکوں میں مارشل لاء لگایا تھا رجب طیب اردوان ، عبدا للہ گل اور ترکی میں برسر اقتدار جماعت جسٹس اینڈ ڈیو لپمنٹ پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے قریبی تعلقات ہیں صنعت و حرفت ، بنیادی ڈھا نچے کے منصوبوں کی تعمیر اور توانائی کے شعبے میں ترکی پاکستان کے ساتھ کئی سکیموں کے اندر شراکت داری میں کام کررہا ہے یہ دوستی مستحکم بنیا دوں پر استوار ہوچکی ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہورہی ہے ترکی میں صدارتی نظام آنے کے بعدیہ سوال دوبارہ زیرغور آسکتا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام کیوں نہیں؟ پاکستان کے مخصوص حالات میں صدارتی نظام کا تجر بہ موجو دہ پارلیمانی نظام سے بہتر ہوگا یا نہیں ؟ 1973 ؁ء کے آئین آٹھویں ترمیم نے بگا ڑدیا تھا ستر ھو یں ترمیم کے ذریعے 1973 ؁ء کا آئین بحال کیا گیا اب صدارتی نظام کی بحث چھڑ گئی تو ایک بار پھر 1973 ؁ء کے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ضرورت پیش آئیگی دو ایوانی مقننہ ، وزیر اعظم کے انتخاب کا طریقہ کار ایک طرف رکھ دیا جائے گا ، صدر کے براہ راست انتخاب کے لئے ایران اور افغانستان کی طرح نئے قوانین لانے پڑینگے اس طرح 1973 ؁ء کے آئین کی روح متاثر ہوگی اورااس آئین کا ڈھا نچہ بھی تبدیل ہوجائے گا اس کے لئے حکمران جماعت کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت پڑیگی اور پاکستان کے معروضی حالات میںیہ آسان کام نہیں ہے صدارتی نظام کا فائد ہ کیا ہوگا ؟ اس پر بھی بحث کی ضرورت ہے سب سے بڑا فائد ہ یہ ہوگا کہ انتظامی اخراجات میں نمایاں کمی آئیگی وزیراعظم سکرٹریٹ اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کی بچت ہوگی کا بینہ کا حجم چھوٹا ہوگا کا بینہ کے اخراجات کی بچت ہوگی ملکی معیشت پر بوجھ کم ہوگا ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی 1960 کے عشرے میں ایسا ہی ہوا تھا 1980 ؁ء کا عشر ہ بھی صدارتی نظام سے قریب تر تھا محمد خان جو نیجو نے جب خود کو وزیراعظم کہنا شروع کیا تو اُن کی چھٹی کردی گئی جنرل مشرف کے دور کو بھی صدارتی اختیارات کادور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا میر ظفر اللہ خان جمالی ، چو ہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز کے اختیارات بھی صدر مملکت استعمال کرتے تھے سیاسی استحکام ،معاشی ترقی اور جمہو ری کلچر کے لئے صدراتی نظام پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہوگا صدر کا براہ راست انتخاب ہونے سے بے شمار خرابیوں کا ازالہ ہوگا اور جمہو ریت کی گاڑی بار بار پٹڑی سے نہیں اُتر ے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى