
……………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………
اُس نے بہت ترقی کی ٹیکسا س میں رہتا ہے دونوں بچے پڑھتے ہیں بیوی بھی کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹاتی ہے بڑا وسیع کاروبار ہے اتنی مصروفیت ہے کہ باپ کی بیماری میں پاکستا ن آنے کی فرصت نہ ملی ، ماں کی بیماری میں وطن آنے کی فرصت نہیں ملی اُس نے کہا ہسپتال پہنچا دو بل میں ادا کرونگا برف پڑی تھی راستے بند تھے ماں ہسپتال پہنچنے سے پہلے سفر آخرت پرروانہ ہوگئی دوسال پہلے باپ ہسپتال بھی داخل تھا تو انہوں نے ہسپتال کے بل ادا کئے تھے مگر باپ کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا مرنے سے پہلے آئے، اس کے سر ہانے پر بیٹھ دو چار باتیں کرے ما ں کی آرزو تھی کہ مرنے سے پہلے بیٹے کا چہر ہ ایک بار دیکھے بیٹے کی پیشانی کو ایک بار بوسہ دیتے، ایک بار بیٹے کو اپنے سینے سے لگا تے مگر یہ آرزو پوری نہ ہوسکی ڈاکٹر نے بتا یا اس کی ایک آنکھ کھلی رہ گئی تھی آخر ی دیدار کے لئے کفن کا سر ا کھو لا گیا تب بھی اس کی ایک آنکھ کھلی تھی گاؤں کے بوڑھے کہتے ہیں یہ آنکھ بیٹے کے انتظار میں کھلی رہ گئی ہوگی یہ اکیسو یں صد ی ہے دنیا نے اتنی ترقی کی ہے کہ پوری دنیا سکڑ کر گوبل ویلج بن چکی ہے ٹیکسا س اور پشاور کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا سکا ئپ ، ویڈیو کال اور سوشل میڈیا نے پشاور اور ٹیکسا س کو ہمسایہ بنا دیا ہے مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں ڈالر ، سونا ، چاند ی ، روپیہ ، پیسہ ، گاڑی ، کوٹھی ہر طرح کی دولت آگئی مگر محبت اور مروت ختم ہوگئی ماں باپ اپنے بیٹے کی صورت دیکھنے کی حسرت لیکر دنیا سے چلے جاتے ہیں انگر یزوں کی طرح نئے سال کی مبارکباد ، کر سمس پر ایک کارڈ عید پر ٹیلیفوں اور اس طرح کی دو چار طر یقے رہ گئے ہیں جو رشتہ ، ناطہ اور تعلق کی علامت سمجھے جاتے ہیں بھائی کے پاس بھا ئی کے لئے وقت نہیں ہے بہن کے پاس بہن کے لئے وقت نہیں ہے جس اولاد کو ہزاروں ارمانوں اور آرزووں کے ساتھ پا لا گیا تھا وہ ترقی کی منزلیں طے کر کے 10 ہزار کلو میٹر دور چلی گئی ایک دل والے نے اپنی نانی کا مقولہ نقل کیا ہے انہوں نے نانی سے کہا میرے لئے کا میابی کی دعا کرو، نانی نے کہا بیٹے نے جن کے لئے کا میابی کی دعا مانگی وہ کامیاب ہو کر دوبئی ، لندن ، اور امریکہ پہنچ گئے اب ان کی صورتیں دیکھنے کو میری آنکھیں تر ستی ہیں تمہارے لئے میری دعا ہے کہ تھوڑے پر قناعت کرو ، اللہ کی دی ہوئی روزی کا شکر بجا لاؤ اور گھر بیٹھو تمہا ری صورت دیکھ کر میری آنکھوں میں ٹھنڈ ک آجاتی ہے دل کو سکون اور قر ار آجاتاہے چنا نچہ نانی نے کا میابی کی دُعا مانگنے سے معذرت کر لی اُس نے کہا یہ دعا مجھے راس نہیںآتی با نو قد سیہ کا ناول ’’ حاصل گھاٹ ‘‘ ایک شہکار ناول ہے ناول کا مرکزی کردار بیٹے اور بیٹی کی دعوت پریورپ جا تا ہے پہلے بیٹے کے پاس جاتا ہے بیٹا کہتا ہے ہمارے پاس وقت نہیں ہے ہم الگ الگ ، ناشتہ کر کے دفتر جا ئینگے بچے سکول جائینگے تم جب چاہو ، فریج سے سامان اُٹھا کر اپنا نا شتہ بناؤ اسی طرح لینج اور ڈنر کروہمارا انتظار نہ کرو چند دنوں کے بعد اکتا کر بیٹی کے پاس جاتا ہے بیٹی کے گھر میںیہی ماحول ہے بیٹی کہتی ہے تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ، ٹی وی دیکھو ،اخبار پڑھو بالکو نی میں بیٹھ کر شہر کا نظا رہ کرو ہمارا انتظا ر نہ کرو ہمارے پاس وقت نہیں ہے مولانا طارق جمیل نے ایک خطبے میں یہ بات دوسرے انداز میں کہی ہے وہ کہتا ہے کہ ہر زمانے کاا یک عذاب ہوتا ہے ہمارے دورکے عذاب کا نام مصروفیت ہے ہر شخص مصروف ہے کسی کے پاس وقت نہیں یہ عذاب ہے جو ہم پر مسلط ہوا ہے علامہ اقبال نے ایک نظم کہی ہے یہ نظم بالِ جبریل میں ہے نظم کا عوان ہے ’’ لینن( خدا کے حضور میں )‘‘ اسس نظم میں علامہ اقبال نے دو ر حاضر کے فتنوں کا ذکر لینن کی زبان سے اگلوایا ہے لینن کہتا ہے
اے اُنفس و آفاق میں پیدا تیر ے آیات
حق یہ ہے کہ زند ہ و پا ئیند ہ تیری ذات
وہ قوم کہ فیضانِ سما وی ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و نجا رات
یہ علم ،یہ حکمت ، یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لُہو ، دیتے ہیں درسِ مساوات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
آخر ی مصرعہ آج کل کے سوشل میڈیا پر صادق آتا ہے بیٹی 2 سال بعد دوسرے شہر میں آگئی ہے ماں بہت ساری باتیں کرنا اور سننا چاہتی ہے مگر بیٹی کے ہاتھ موبائیل سیٹ ہے وہ فیس بُک پر دوبئی میں مقیم سہیلی کے ساتھ باتوں میں مصروف ہے ماں کچھ پوچھتی ہے تو بیٹی ہوں ، ہاں کر کے پھر مشغول ہوجاتی ہے ’’ احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات ‘‘ یہ بات اقبال نے خو د نہیں کی اُس نے ماڈرن دنیا کے بڑے لیڈر لینن کو خدا کے حضور میں حاضر کر کے اُن کی زبان سے یہ بات کہلو ائی تاکہ ماڈرن دور کے شید ائیوں کے لئے قابل قبول ہو یہ کیسی ترقی ہے جس نے رشتوں کے تقد س کو پا مال ک
