تازہ ترینمضامین

جماعتہ الدعوة پر پابندی تو ہندو انتہا پسند تنظیموں پر کیوں نہیں ؟ 

………محمد صابر…………..
آج سے ٹھیک 10 برس قبل 18 فروری 2007 کو بھارتی سرزمین ریاست ہریانہ کے علاقے پانی پت کےمقام پر ٹرین کے اندر 70 بے گناہ پاکستانی زندہ جلاۓ گئے تھے جن میں بچے خواتین بوڑھے سبھی شامل تھے ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اس وقت کے صدر مشرف اور بھارتی حکومت کی مابین بیک ڈور ڈپلومیسی اور جھوٹے دوستی کی فریب سے دھوکہ کھا کر بھارت اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے تھے مگر ان بے چاروں کو کیا معلوم تھا کہ ان زندگی بیچ راہ ہی میں ان سے چھین لی جاۓ گی ۔
مشرف صاحب نے کشمیر کی آزادی کےلیے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے خفیہ مزاکرات کا دور شروع کرایا ان مزاکرات میں کشمیری حریت کے نمائندگان کو بالاۓ طاق رکھ کر مزاکرات کیے گئے  کشمیر کی آزادی کے حوالے سے مشرف صاحب کی نیت پر مجھے شک نہیں مگر بھارت نے مشرف صاحب کے ساتھ دھوکہ کیا جو کہ بھارت پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ  برسوں سے کرتا چلا آیا ہے بھارت نے دوستی کا ڈونگ رچاتے ہوۓ پاکستانیوں کو بھارت میں خوش آمدید کہا اور پھر ہوا وہی جس کی بھارت سے توقع تھی ۔
بھارت دنیا بھر میں جہاں کہی بھی پاکستان کا تذکره کرتا ہے ساتھ ہی ممبئی اٹیک کا ذکر کرنا کھبی نہیں بھولتا ہے  بھارت ہر سال ممبئی اٹیک میں مارے گئے ان بھاتیوں کےلیے اُس دن کی مناسبت سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک ثابت کرنے کےلیے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے مگر ہمارے ہاں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے بعد سے اب تک تین جمہوری حکومتیں آئیں مگر ہماری جمہوری حکومتیں  بھارتی دہشتگردی کے اس دردناک واقعے کو صحیح معنوں میں بے نقاب کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہی ۔
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی رات بھارت نے حسب عادت فورا ہی پاکستانی انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام لگا دیا کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں آئی ایس آئی ملوث ہے مگر بعد میں بھارتی پولیس کے ایک ایمان دار آفیسر ہیمنت کرکرے کے غیر جانب دار انصاف اور سچائی پر مبنی تحقیقات نے اس الزام کو سرے سے رد کر دیا ہیمنت کرکرے کی رپورٹ کے مطابق اس سانحہ کے پیچھے انڈین آرمی کا آفیسر اور ہندو انتہا پرست تنظیم ” آر آیس آیس“ اور ” ابھی ناوو بھارت“ ملوث پائی گئیں کل 10 لوگ تھے جنہوں نے پہلے تو ٹرین کے دروازوں پر تالے لگائے پھر ٹرین کے اندر دھماکہ کرایا جس کی وجہ سے 60 سے زائد پاکستانی جل کر راکھ ہوگئے اور سنکڑوں کے لگ بگ زخمی ہوگئے ۔
حال ہی میں پاکستانی حکومت نے ایک وطن پرست وطن سے بے پناه محبت کرنے والی فلاحی تنظیم جماعتہ الدعوة پر پابندی اور اس کے راہنما جناب حافظ سعید کی نظر بندی کا فیصلہ کیا ہےجس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے سیاسے نمائندے ہی بھارت نواز ہیں ہمارے اپنے سیاسی قائدین ہی آستین کے سانپ ہیں جنہوں نے اس ملک کی زبوں حالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے ۔
ابھی بھی وقت ہے پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشتگردی جو کہ معصوم پاکستانیوں کو چلتی ٹرین میں زندہ جلاکر کیا گیا عالمی سطح پر اجاگر کیا جاۓ ہم اقوام متحدہ کے مشترکہ اجلاس میں اس سانحہ کو بھارت کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں ۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ کام کرنے کےلیے تیار ہے ہم ٹرمپ کے سامنے بھارتی دہشتگردی اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی دہشتگردی کی بات کرکے ان پر پابندی لگانے کےلیے زور دے سکتے ہیں ۔
جماعتہ الدعوة  کا ذیلی تنظیم جس کا نام فلاح انسانیت فاٶنڈیشن ہے جو کہ انسان دوست ادارہ ہے جو کہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر علاقوں میں اپنی فلاحی خدمات سرانجام رہا ہے چاہے وہ فلسطین ہو یا شام برما ہو یا افغانستان اس کے علاوہ ملک کے اندر کسی بھی ناگہانی آفات کی صورت فوری طور پر خوراک رہائش پینے کا صاف پانی اور طبی امداد فری ایمبولینس سروس وغیرہ بلا کسی امتیاز اور رنگ نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر  یکساں متاثرین میں تقسیم کرتا ہے جس کی تازہ مثال چترال کی ہے پچھلے سال چترال میں جب شدید سیلاب آیا تھا اور چترال کے کئی دیہات سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے اس وقت چترال کے اس پسماندہ وادی میں الخدمت فاٶنڈیشن اور فلاح انسانیت فاٶنڈیشن کے کارکان سب سے زیادہ پیش پیش تھے ، فلاح انسانیت فاٶنڈیشن کی جانب سے چترال ٹاٶن کے اندر صاف پانی کے مسئلے کو حل کرنے کےلیے کئی جگہوں پر کنواے بھی نکالیں جا چکے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر جماعتہ الدعوة پر پابندی لگ سکتی ہے تو ہندو انتہا پسند تنظیموں پر کیوں نہیں ؟  ایک عوام دوست فلاحی تنظیم پر پابندی کس کے کہنے اور کس کے اشارے پر لگائی گئی۔ ہم اگر جب پابندی کی بات ہندو انتہا پسند تنظیم ”آر ایس آیس “ اور ” ابھی ناوو بھارت“ کی کریں تو ہمیں خاموش رہنے کا کہا جاتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ بھارت خفا ہو جاۓ گا ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔