تازہ ترینمضامین

داد بیداد …….. ؔگڈ گورنینس کی کلید

……….ڈاکٹر عنا یت للہ فیضی  …….

نظم و نسق کے لئے مینجمنٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو انگریزی اصطلاح میں گورنینس کہتے ہیں مگر ہمارے سیاستدان جب گڈ گورنینس کہتے ہیں تو ان کا اشارہ بہتر نظم و نسق کی طرف ہوتا ہے کیونکہ فیصلہ نظر نہیں آتا نظم و نسق نظر آتا ہے آپ فوج کے کسی بر یگیڈ یر کے دفتر فون ملائیں بریگیڈیر مو جود نہ ہو تو فون سننے والا آپ کا نام اور فون نمبر لے لیتا ہے آدھے گھنٹہ یا گھنٹہ بعد فون ملا کر کہتا ہے بریگیڈ یر صاحب لائن پر ہے بات کریں اس کے مقابلے میں آپ تھانہ کے ایس ایچ او یا اسسٹنٹ کمشنر کو فون کر کے کسی بڑے واقعے کی اطلاع دیدیں تو وہ مو جود ہو کر آپ کا فون نہیں سنے گا مو جودنہ ہوا تو آپ کا نمبر اور نام کوئی نہیں لکھے گا آپکی فون کا اطلاع کوئی نہیں دے گا سول بیوروکریسی ،پولیس اور دیگر محکموں میں اطلاعات تک رسائی لوگوں کے ساتھ رابطے اور تعلق داری کا سسٹم نہیں ہے رابطہ کاری کا کوئی دستور اور رواج نہیں ہے فوج کے اندر اس کام کو بیحد اہمیت دی جاتی ہے کال بیک کاموثر نظام کام کرتا ہے یہ نظم و نسق کی ایک معمولی مثال ہے اس کو گڈ گورنینس کہا جائے گا 1969 ء سے پہلے سوات کی ریاست میں جو نظم و نسق تھا وہ گڈ گورنینس کی بہترین مثال کہلاتا ہے جنرل فضل حق اور جنرل افتخار حسین شا ہ کے زمانے میں ہمارے صوبے کے سکول ،ہسپتال اور دوسرے محکمے گڈ گورنینس کی بہترین مثال پیش کرتے تھے ان کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے سیاستدانوں کے مخصوص کلچر اور سیاست کی مخصوص مجبوریوں اور قباحتوں کے باوجود آفتات احمد خان شیرپاؤ ،اکرم خان درانی اور امیر حید ر خان ہوتی نے نظم و نسق کی چند اچھی مثالیں قائم کیں سروس ڈیلیوری میں دلچسپی لی پنجاب میں چوہدری پرویز الہی نے چند اچھے کام کئے جن کو یا د کیا جاتا ہے شہباز شریف انتھک محنت کرتے ہیں انہوں نے12کروڑ کی آبادی والے صوبے میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کیلئے دو قسم کے وظائف جاری کئے پنجاب کے ڈو میسائل کیلئے غربت کی بنیاد پر وظائف دیئے جاتے ہیں دوسرے صوبوں سے آنے والوں کو میرٹ کی بنیادپر سکالر شپ دیئے جاتے ہیں کسی کو محروم نہیں کیا جا تا ،سڑکوں ،پلوں اور دیگر سہولیات کا بھی ایسا ہی حال ہے شہباز شریف ترقیاتی سکیموں کا معائینہ کر کے والی سوات کی طرح ریت اور بجری کے معیار کو چیک کرتے ہیں 6 فٹ نیچے اتر کر بنیادوں کو چیک کرتے ہیں اور موقع پر احکامات جاری کرتے ہیں اُن احکامات پر عمل ہوتا ہے تما م اضلاع کے اندر نظم ونسق کا بہترین نظام قائم ہے تمام محکمے ایک ہی افیسر کے ماتحت ہیں وہ افیسر ضلع ناظم کے ماتحت ہے ضلع ناظم وزیر اعلیٰ کے سامنے جواب دہ ہے وزیر اعلیٰ عوام کے سامنے جواب دہی کے لئے تیار ہے اُوپر سے نیچے تک جواب دہی کا نظام قائم ہے خیبر پختونخوا کی صورت حال اس سے مختلف ہے یہاں لائن ڈیپارٹمنٹس کسی کے ماتحت نہیں ہیں ضلعی نظم و نسق میں ڈپٹی کمشنر کا الگ کھوکا لگا ہوا ہے وہ میٹنگ بلائے تو سی اینڈ ڈبلیو کا ایکسین اپنا جو نیئر کلرک بھیج دیتا ہے، ڈسٹر کٹ ایجو کیشن افیسر اپنی جگہ اے ڈی او کو نامزد کرتا ہے دوسرے محکمے بھی اسی طرح کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر کی میٹنگ کو دوسرے محکمے سنجیدہ نہیں لیتے اسی طرح ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (DDAC) کا چیئرمین ایم پی اے ہوتا ہے اُس کی میٹنگ کو بھی کوئی افیسر سنجیدہ نہیں لیتا ضلع ناظم اور تحصیل ناظم برائے نام بیٹھے ہوئے ہیں ضلعی نظم و نسق میں اُن کی کوئی حیثیت نہیں کوئی بھی کاغذ منظوری کے لئے اُن کے پاس نہیں جاتا ضلع کا کوئی افیسر اُن کو اپنا بو س) Boss (نہیں مانتا ضلع کے21 محکمے الگ الگ رہ کر اپنے اپنے صندوقوں میں بند ہیں یہ گورنینس کی وہ مثال ہے جس کو طوائف الملوکی یا افراتفری کا نام دیا جا سکتا ہے سکول ایک سال تک ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹر یس کے بغیر چلتا ہے ہسپتا ل دو سالوں تک ڈاکٹر کے بغیر ہوتا ہے افیسر کی گاڑی کے لئے تیل کا فنڈ چھہ مہینوں سے بند ہے ضلع کے اندر ایڈہاک ملازمین کی تنخواہیں 10 مہینوں سے بند ہیں جولائی 2015 ء میں چترال کے سیلاب متاثرین کے لئے جو دوائیں خریدی گئیں وہ 20 مہینوں سے سٹور میں بند ہیں بلوں کی ادائیگی نہیں ہوئی جب بلوں کی ادائیگی ہوگی اوردوائیں کھولی جائینگی تو نصف سے زیادہ دوائیں زائد المعیاد ہو چکی ہونگی لیڈی ہیلتھ سپروائزر کی 3 پوسٹوں کے لئے 15 خواتین کو برفباری میں انٹرویو کے لئے بلایا جاتا ہے انٹر ویو کے دن سب حاضر ہوتی ہیں تو کہا جاتا ہے واپس جاؤ انٹر ویو منسوخ ہوا اس طرح کی چھوٹی چھوٹی مثالیں گورنینس کی خرابی اور نظم و نسق کی بر بادی کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے صوبائی چیف ایگزیکٹیو کی سطح پر ایک فیصلہ ہونا چاہئے کہ اختیارات کس کے پاس ہونگے ؟حکم عدولی کی سزا کیا ہوگی ؟ اور نظم و نسق کی بر بادی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگلی حکومت آنے سے پہلے صوبے کے اندر نظم ونسق میں آنے والی خامیوں کو دور کرنا ہوگا اختیارات اور فرائض کے عمودی (Vertical) اور افقی (Horizental) سسٹم کو بحال کرنا ہوگالائن ڈیپارٹمنٹ اُفقی سسٹم میں ڈپٹی کمشنر اور ضلع ناظم کو جواب دہ ہونگے عمودی نظام کے تحت اپنے سکر ٹری اور ڈائریکٹر کو جواب دہ ہونگے عمودی نظام کے تحت پالیسی آئیگی اُفقی نظام کے تحت سروس ڈیلیوری ہوگی دونوں ساتھ ساتھ چلینگے تو بات بنے گی مو جودہ صورت حال کو توڑ پھوڑ ،افراتفری اور طوائف الملوکی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا یہ گُڈ گورنینس ہر گز نہیں ہے

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔