تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …….غلام کی ذہنیت اور نفسیا ت کا اثر

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …………
ہم فخر سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہسپانیہ پر 800 سال حکومت کی ہم اس پر بھی فخر کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اُس وقت علوم و فنون کو ترقی دے کر او ج آسمان تک پہنچایا جب یورپ میں جہالت اورتاریکی کا دور تھا تیسری صدی عیسوی سے تیر ھویں صدی عیسوی کا دور یورپ کی تاریخ میں تاریک دور (Dark age) کہلاتا ہے ہم اس پر بھی بجا طور فخر کرتے ہیں کہ ہندو ستان پر مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی سلاطین دہلی سے لیکر مغل سلطنت کے زوال تک یہاں مسلمانوں کا اقتدار تھا یہ فخر اپنی جگہ درست ہے لیکن اس پر بھی غور کر نے کی ضرورت ہے کہ آج مراکش سے لیکر انڈونیشیا اور راس کماری سے لیکر دور خیبر تک مسلمان کس حال میں ہیں اس حال تک کیسے پہنچے اور کیونکر پہنچے میںآج دورحاضر کے دو مفکرین کا حوالہ دینا چاہتا ہوں ڈاکٹر مبارک علی مطالعہ تاریخ میں کہتے ہیں کہ جاگیر داری نظام نے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیر وں میں جکڑ دیا غلام نسل غلاما نہ ذہنیت لیکر پیدا ہوئی فکر کی آزادی سلب ہوئی اور عقل و دماغ کے دریچوں پر دبہز پر دے ڈال کر بادشاہوں کی مدح سرائی کی گئی چنانچہ ہمارے ادبی مشا ہیر کا سب سے بڑا ادبی سرمایہ قصا ئد پر مشتمل ہے جو باعث شرم ہے ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے دانش رومی و سعد ی کے حرف اول میں غلاموں کی نفسیات کا پر دہ چاک کیا ہے اور بتا یا ہے کہ مسلمانوں کو کسطرح مشرق کی دانش اور مشرق کے ادبی و علمی سرمایے سے محرم کیا گیا ؟ اُن کا مطالعہ لائق تو جہ ہے علامہ اقبال نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے
اویہ اہل کلیسا کا یہ نظام تعلیم
اِک سازش ہے دین و مروت کے خلاف
لارڈ میکا لے نے ہند وستان میں جو نصاب تعلیم متعارف کر ایا اُس نصاب نے غلامانہ ذہنیت کو پرواں چڑھا یا غلا مانہ نفسیات کی آبیا ری کی اس مخصوص ذہنیت اور مخصوص نفسیات نے ہمیں سات تحفے دئیے پہلا تحفہ یہ ہے کہ عورت ماں باپ، شوہر اور بچوں کی خدمت کرے تو کنیز کہلا ئے گی اگر ہوٹل ، بازار میں دوسر وں کی خدمت کرے تو آزاد تصور جا ئیگی دوسرا تحفہ یہ تصور ہے کہ انسانیت کے بڑے بڑے محسن یورپ میں پیدا ہوئے مشرق میں کوئی پیدا نہیں ہوا تیسرا تحفہ یہ دیا کہ انگریز ی زبان ترقی کا کلید ہے اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں چوتھا تحفہ یہ دیا کہ مذہب سے جان چھیڑا ؤ یہ تمہیں ترقی کرنے نہیں دیگا پانجواں تحفہ یہ دیا کہ قرآن ، حدیث اور عربی کی جگہ جرمن ، فرنچ اور انگر یزی میں علوم کا بڑا ذخیر ہ ہے اُن سے فائد ہ اُٹھا ؤ چھٹا تحفہ یہ دیا کہ ماں باپ ، چچا ، ماموں، خالہ ، پھو پھی بہن بھائی پاوں کی زنجیریں ہیں اُن سے دُور بھاگو اور ساتواں تحفہ یہ دیا کہ تمہارا کوئی کلچر نہیں کلچر یورپ میں ہے جہاں انسان اور حیواں میں کوئی فرق نہیں عورت اور کتیا یا ایک ہی مقام ہے ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اپنے الفاظ میں کلچر کا یہ نقشہ کھینچا ہے ہمیں پٹی پڑھائی گئی کہ ’’ یورپ کے شت و جیل باغ وراغ اور ارض و سما بیحد حسین ہیں شیراز اصفہاں کشمیر بغداد یا قاہر ہ کچھ بھی نہیں ) کام کے دریا دو ہیں ڈینیو ب اور ٹیمز سندھ ، چنا ب راوی ، دجلہ و نیل گند ے نالے ہیں ، ککو پرندوں کا بادشاہ ہے اور یہ بلبل چکو ر ، کوئل ، شہباز مور وغیر ہ سب بیہو دہ و بے کار ہیں غلام کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اُس کا حسین و جمیل بچہ اس کو نظر نہیں آتا آقا و مالک کا بدرنگ ، کالا کلو ٹھا بچہ اس کو شہزادہ لگتا ہے غلاموں کی نفسیات کا یہ لازمی جزو ہے کہ وہ خود نہیں سوچتا ، دوسر وں کے سوچے ہو ئے خیالات کو مُنہ میں ڈال کر اُن کی جگا لی کرتا ہے آج آپ مصر ، ترکی ، بھارت اور ایران جیسے ترقی یافتہ اقوام کی ذہنیت کو دیکھیں، یا مراکش ، انڈونیشیا ، سوڈان، الجزائر اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے اندر علمی و ادبی ترقی کی رفتار کو دیکھیں افغانستان ، سعودی عرب، اردن اورکویت ، جیسے جہالت میں ڈوبے ہوئے معاشروں میں مسلمانوں کی حالت زار کودیکھیں ہرجگہ آپ کو غلامانہ ذہنیت اور غلامانہ نفسیات کے کر شمے نظر آئینگے ہمارے پاؤں میں زنجیر یں نہیں ہیں تاہم دل و ماغ کو زنجیروں میں جکڑ ا گیا ہے شیخ سعدی ؒ نے ایک حکایت اس قسم کی غلامی کا ذکر کیا ہے ایک لڑکا بھیڑ کے گلے میں رسی ڈالکر ساتھ لے جا رہا تھا لڑ کا آگے آگے بھیڑ اُس کے پیچھے تھا ایک مردِ دانا نے کہا کہ بھیڑ رسی کی بدولت تمہارے پیچھے خراماں ، خراماں چل رہی ہے لڑ کے نے رسی کھولی ،بھیڑ اُسی طرح اُس کے پیچھے چلتی رہی لڑ کے نے کہا بھیڑ رسی کی قید میں نہیں احسان کی قید میں ہے میں اسکو چارہ کھلاتا ہوں اس لئے میرے پیچھے بھاگی بھا گی آرہی ہے گویا آزاد ہو کر بھی اُس ذہن میں غلافی کا اثر ہے اُس کی نفسیات پر غلافی کا غلبہ ہے اُس کی گردن میں رسی نہ وگی تب بھی غلا ما نہ ذہنیت اس کو تمہا رے پیچھے آنے پر مجبور کریگی عالم اسلام کو ، پاکستا نیوں کو ، افغانستانیو ں کو دیگر مسلم اقوام کو غلا مانہ ذہنیت سے کب نجاب ملے گی ؟ اس کا دار و مدار ہمارے نظام تعلیم پر ہے ہمارا تعلیمی نظام غیروں کی غلامی سے آزاد ہوگا تو ہمارے آنے والی نسلیں ذہنی غلافی سے چھٹکا را حاصل کر سکینگی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى