تازہ تریننہگت حمید

سیاسی پڑاو

………نگہت حمید….. ……

Advertisements

سیاست کے لغوی معنی حکومت چلانا اور لوگوں کی امرونہی کے ذریعے اصلاح کرنا ہے۔ باالفاظ دیگر، سیاست ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلےعوامی رائےعامہ کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں فنِ حکومت کو سیاست کہا جاتا ہے جبکہ اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں کہ جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح کے قریب اورفساد سے دور ہو جائیں۔…اور سیاست دان اس کو کہ دیا جاتا ھے جو سیاست میں حصہ لے کرعوام کی خدمت کرتا ھو…..اس کا مطلب یه ہوا که سیاست عوام کی خدمت سے مشروط ھے… اور عوام کی خدمت ہی اصل سیاست ہے… اور یوں عوام کی خدمت کے بعیر سیاست کچھ بھی نھیں..اسلیے ہم بجا طور پر یه کہ سکتے ہیں .که سیاست کا تعلق براه راست عوام کیساتھ ھے اسلیےعوام کو یه حق حاصل ہے که وه عوامی اور اجتماعی وسیع تر مفاد میں اپنے کسی نمائندے یا اپنے کسی رکن کیساتھ اختلاف یا حمایت کرتے ہوۓ سیاسی تنقید یا تائید کرسکتا ہے….لیکن اختلاف تنقید وحمایت ایک مخصوص دائره کار میں رہتے ہوۓ ہونی چاہیے…تاکه آپ کی خاندانی سماجی و معاشرتی تربیت اور حسب ونسب کی وضاحت ہو سکے…. تنقید کا مطلب ہر گز یه نہیں که اپنی ذاتی عناد اور ذاتی مفاد کی خاطر اپنے کیے سارے گند اور کچڑ سیاست کی آڑ میں کسی مخصوص خاندان فرد اور جماعت پر ڈالی جاۓ.اور معاشره پورا متاثر ہو…… اب اگر ہم بات کریں چترال کی تو چترال کی سیاست میں مختلف سیاسی جماعتوں اور راھنماوں نے وقتا فوقتا طبع ازمائی کرتے اور مختلف سیاسی چال چلاتے اۓ ھیں لیکن اکثر وبیشتر چترال کی سیاست پر ایک درویش صفت انسان ,جمہوریت ,سیاست اور اخلاقیات کا عملی نمونه باباۓ چترال شہزاده محی الدین Image result for shahzada mohiuddinنے ہمیشه قبضه جماتے آیا ھے……جسکی وجھ شاہی خاندان کی شائستگی , حلیمی, علم دوستی, عوام دوستی , شاہانہ مزاج , سماجی و معاشرتی بہتر تعلیم وتربیت ,سیاست شناسی ,مردم شناسی ,دور اندیشی خاندانی اثرروسوخ ہی ہے ..نه کہ کسی سن و ہجری کے چترال میں سانحات و فسادات……اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چند مفاد پرست افراد وطبقات نے اپنے ذاتی مفاد کیلیے کسی سن وہجری میں ان مختلف خونی ڈراموں کی شروعات کی تھیں…جو خود آج کل کنیڈا اور امریکه میں عیاشیوں میں مصروف ہیں…جس کی بنأ شہزاده محی الدین صاحب چترال کے دورافتاده اور پسمانده وادیوں جہاں ان مخصوص طبقات و افراد کی اکثریت تھی انہیں ان سانحات و فسادات سے خوفزده رکھ کر ووٹ حاصل کرتا رھا… اور چند حروف تہجی کے مسلم لیگیوں یعنی ان مخصوص طبقات کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے اور انگلیوں پر نچواتے ہوۓ پہلے ضلع کونسل کے صدر پھر صوبائی کے ممبر پھر قومی اسمبلی کے ممبر پھر وزیر صحت پھر ضلع ناظم اور اخری بار ممبر قومی اسمبلی بنے……ایسے بے ضمیر بے لگام لوگوں کو شرم آنی چاہیے اپنی ایسی بے ضمیر شرپسند و انتہا پسندانہ سیاست اور مبالعہ امیز گند پر………… رہی بات شہزاده محی الدین صاحب کے پارٹی وابستگیوں اور چترال کےدور افتاده وادیوں میں ووٹ بنک کی….تو یہ بات جان لینا چاہیے..که سیاست,ریاست اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ہوتی ہے.اور ریاست و عوام کی وسیع تر مفاد میں سیاسی وابستگیاں , اتحاد و اختلاف ہوتے رہتے ہیں.اور اسی ہی کی بنأ شھزاده صاحب بیشتر اوقات میں پارٹی مفادات سے ذیاده عوامی مفادات کو ترجیح دیتے ہوۓ مختلف سیاسی پارٹیز کیساتھ وابستگی اختیار کرتے آۓ….جس کا مقصد ساحل وسائل کے تحفظ کیساتھ مقامی افراد کے حقوق اور ان کی تشخص ممکن ہو سکے…ضلع کے وسیع تر مفادات سے متصادم اقدامات اور پالیسیوں کی ہر سطح پر مخالفت ہو سکے… عوامی مفادات کی بہتر طریقے سے تحفظ کرنے کیساتھ ساتھ چترال کے مظلوم اور محکوم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑ سکے… چترال کا امن اور بھائی چارے کو عالمی سطح پر اُجاگر کرتے ہوۓ مذ ہبی اور غیر مذ ہبی انتہا پسندی کی مزمت کر سکے تاکہ مذ ہبی انتہا پسندی کی گنجائش نه ره سکے اور یوں غریب پسمانده چترالی عوام میں روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا ھو سکے… چونکه شھزاده صاحب کی اس دور اندیشی اور سیاسی جدوجہدکا مقصد عام آدمی کے حقوق کا تحفظ تھا اور ماضی و حال کی سیاسی سرگرمیوں میں اس کی سیاسی گروپ یا پارٹی کا اتحادی اور ساتھی بننا علاقے کے مسائل کے علاوہ ملک و قوم کو بحرانوں سے نکال کر نئے عزم کیساتھ قومی وقار کو بحال کرنے اور ترقی وخوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا تھا اسلیے اسکا یہ ایجنڈا درست اورعین مناسب و آئینی تھا..جسکی وجه سے عام آدمی کو اس کے حقوق ملتے رہے اور معاشرے میں بدامنی اور بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکا اور عوام کو صحت تعلیم اور روزگار کے مواقع ملتے رہے آئین شکنی خودبخود ختم ہوتی گئی …. غریب کی جھونپڑی میں جل رہے دیے جلتے گئے.منفی اور غلط طرز سیاست کی وجہ سے عوام جس مشکلات کا شکار تھے شہزاده صاحب کے درست اور مناسب اقدامات اور بروقت فیصلوں کی بدولت کم ہوتے گئے… اور یوں مخلص عوامی مفاد پرست افراد اور زیرک و دانا لوگ ملتے رہے اور کاروان بنتا گیا..اور اخلاقیات سے عاری اور کردار کشی کےعادی مفاد پرست سیاست و سیاست دانوں کا جنازه نکلتا گیا..تاہم منفی اور علط طرز سیاست والوں ابھی بھی جان لینا چاہیے…..کہ شہزاده صاحب کے اس کاروان اور ووٹ بنک کے پیچھے کسی قسم کی منافرت,فرقه واریت انتھا پسندی اور کسی دوسرے سانحات و واقعات کا کوئی عمل دخل نہیں…..ہاں اگر کوئی عمل دخل ہے تو وه ہیں. حسن اخلاق,نیک کردار و خنده روئی,حلم و بردباری, احساس ذمه داری, خوش اخلاقی,سیاسی و ثقافتی و اقتصادی ہم اہنگی,تواضع و انکساری, نرمی و مہربانی,,اعلی تعلیم وتربیت, مثبت فلاحی سوچ وفکر وعیره کیساتھ یه بھی که شاہی خاندان اور بس….

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى