تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……..مجھے اتحادیوں سے بچاؤ

…………….ڈاکٹر عنا یت للہ فیضی ؔ …………..

Advertisements

عرصہ ہوا صاحب طر ز ادیب سجاد حید ریلدر م نے ایک انشائیہ لکھا تھا ’’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ ‘‘خلاصہ کلام یہ تھا کہ میں بہت کچھ کرنا چا ہتا ہوں میرے دوست مجھے کرنے نہیں دیتے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا مسئلہ بھی کم و بیش ایسا ہی ہے ان کی حکومت بہت کچھ کرنا چاہتی ہے اور کر بھی سکتی ہے مگر حکومت کے اتحادی انہیں کوئی نیک کام کرنے نہیں دیتے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا منصوبہ حکومت کا اچھا منصوبہ ہے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ بھی ایسا ہی کارنامہ ہے جو سنہرے حروف سے لکھا جائے گا مگر مسلم لیگ(ن) کے اتحادیوں کا موقف یہ ہے کہ ہم ایسا نہیں ہونے دینگے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزی کہتے ہیں کہ کابل کی حکومت سے پوچھے بغیر فاٹا کے انضمام کی کوئی گنجا ئش نہیں وہ فاٹا کے دفا ع کے لئے پاک فو ج کے کر دار اورفوجی عدالتوں پر بھی ناراض ہیں اس طرح مسلم لیگ (ن)کے دوسرے اتحادی مولانا فضل الرحمن کی پارٹی جمعیتہ العلمائے اسلام (ف)کا موقف یہ ہے کہ فاٹا کو فاٹا ہی رہنے دیا جائے ،کیونکہ فاٹا کے لوگوں کا رسم رواج ہے دستور ہے جرگہ ہے اگر فاٹا کو چھیڑا گیا تو سب کچھ متاثر ہوگا پھر تم ہاتھ ملتے رہ جاوگے مولانا کو معلوم ہے کہ قرآن میں قدیم اقوام کا ذکر آیا ہے ان کی بہتری کا کوئی منصوبہ پیغمبر کی زبان پر آتا تو وہ اس کو قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکا رکرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا کا دستور ایسا نہیں ہم نے اپنے آباو اجدا د کے دستور میں یہ بات نہیں سنی اس طرح مسلم لیگ (ن)کے دو اتحادی اس کو ایک تاریخی کا رنامہ سر انجام دینے سے منع کر تے ہیں اگر اتحادیوں کے شر سے خدا نے اس حکومت کو محفوظ رکھا تو فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا تاریخی کارنامہ اس حکومت کے حصے میں آئے گا اور فوجی عدالتیں دوبارہ قائم ہو جاینگی مگر اتحادی ہر گز نہیں چاہتے کہ یہ کارنامہ مسلم لیگ (ن)کے حصے میں آئے اتحادیوں کے دو مسائل ہین یا تو وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مخلص نہیں ہیں یا وہ فاٹا کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو پسند نہیں کرتے فاٹا کے انضمام کا پہلا فائدہ فاٹا کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو ہوگا دوسرا فائدہ مسلم لیگ (ن) کے حکومت کو ہوگا فاٹا کے عوام کو آزادی ،انسانی حقوق ،جمہوری اور شہری حقوق دینے کے چار اہم مواقع پہلے ضائع کر دیئے گئے 1947 ء کا ریفرنڈم پہلا موقع تھا اس ریفرنڈم کے بعد تما م قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنا چاہئے تھا جنرل یحییٰ خان نے جب 1969 میں ریاستوں کو ضم کیاُ س وقت قبائلی علاقوں کو بھی ضم کرنا چاہئے تھا اپریل 1978 ء میں جب افغانستان کے اندر انقلاب آیا اُس وقت قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے کاسنہرا موقع ہاتھ آگیا تھا 2000 ء میں جنرل مشرف نے قومی تعمیر نو کے محکمے کے ذریعے انتظامی اصطلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا قانون نا فذ کیا اُس وقت قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے چاہیے تھا یہ چاروں مواقع ضائع کر دئیے گئے اب پانچواں مو قع ہے اور یہ زرین موقع مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے ہاتھ آیا ہے مسلم لیگ (ن) کو چار اہم باتوں کا کریڈٹ جاتا ہے پاکستان کو ایٹمی طاقت اس پارٹی کی حکومت نے بنا یا پاکستان کو موٹروے اس پارٹی کی حکومت نے دیا پاکستان کو میٹرو بس ا س پارٹی کی حکومت نے دیا پاکستان کو سی پیک کا جامع منصوبہ اس پارٹی کی حکومت نے دیا اگر قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کر کے آئین ،قانون ،انصاف ،شہری حقوق ،انسانی حقوق اور جمہوری حقوق تک فاٹا کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کو رسائی دی تو یہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کا یک اور کارنامہ ہوگا مسلم لیگ (ن) کے اتحادی یہ نہیں چاہتے کہ محمد نواز شریف کو ایک اور کریڈٹ مل جائے فاٹا میں پولیس اور عدالت نہ ہونے سے ڈیڑھ کرورڑ عوام غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں یہ تہہ در تہہ غلامی ہے اوپر گورنر سکرٹریٹ ہے اس کے نیچے فاٹا سکر ٹریٹ ہے سیفران بھی ہے پولٹیکل ایجنٹ بھی ہے دوسری طرف ملک کی غلامی ہے قوماندان کی غلامی ہے یہ نا قابل بر داشت زنجیریں ہیں جو قبائلی عوام کی گردنوں پر ہیں ان کے پاوں میں سمگلر وں کی بیڑیاں ہیں پنجاب ،سندھ، ایران ،بھارت ،میکسیکو ،دوبئی ،ہانگ کانگ اور ابو ظہبی کا سمگلر بھی قبائلی عوام کے سروں پر سوار ہوکر دھند ا کرتا ہے کرپشن میں ملوث لوگوں کے لئے فاٹا سونے کا انڈا دینے والی چٹریا ہے اس لئے کرپشن ما فیا پورا روزگار لگا رہا ہے کہ فاٹا میں پولیس ،عدالت اور قانو ن نہ آئے فاٹا کے لوگوں کو شہری حقوق نہ ملیں اور جمہوری آزادی نہ ملے مگر ہماری دعا ہے کہ خدا محمد نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ن)کو اُن کے اتحادیوں کے شر سے محفوظ رکھے اور مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو توفیق دے کہ فوجی عدالتوں کو فوراً قائم کرے اور فاٹا کو صوبے میں ضم کرکے تاریخ کا ایک اور اہم کارنامہ اپنے نام کردے آتش کی غز ل کا مشہور مقطع ہے ۔
نہ پوچھ عالمِ بر گشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باران کی آرزو کرتے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى