مولانا عبدالحی چترالی

قلم کی آواز……..ایران امریکہ اور اسرائیل دوستی

………….. مولانا عبدالحی چترالی………….

Advertisements

۲ دسمبر ۱۸۵۸ ؁ ء کو امریکی صدر ابراہام لنکن نے اپنا مشہور اسٹیٹمنٹ دیا تھا کہ آپ تمام لوگوں کو کچھ وقت کیلئے بے وقوف بناسکتے ہیں اور کچھ لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ تمام لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف نہیں بنا سکتے ہیں۔ امریکہ ایران اور اسرائیل اعلانیہ دشمنی اور خفیہ دوستی سے دنیا کی رائے عامہ کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو صرف الفاظ کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ صرف ظاہری طور پر ایک دوسرے سے دشمنی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ جیسا کہ ایران کی ایک جیل میں زیرحراست صحافی نادر کریمی نے ۲۰۰۹ ؁ ء میں یہ انکشاف کیا تھا کہ تہران اور تل ابیب کے درمیان گہرے دوستانہ لیکن خفیہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے میڈیا کو ایک دوسرے کیلئے تیار کردہ دشمنی کے غبارے میں ہوا بھرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں دراصل اس مخالفت کے پردے میں وہ ایک دوسرے کے نفع کا ساماں کررہے ہیں .
ایران امریکہ اور اسرائیل دشمنی میں سخت تلخ لہجہ استعمال کرکے عالم اسلام کی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنا چاہتا ہے او ر اسی طرح مرگ بر اسرائیل کا نعرہ لگاکر اپنے آپ کو فلسطینیوں کا ہمدرد ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالاں کہ حقیقت میں فلسطینیوں کے حقوق کے دعوے بھی نمائشی اور کھوکھلے ہیں۔
اس خفیہ تعلقات کے موضوع پر تحقیق کی غرض سے کئی مشہور عرب صحافیوں کے مقالے پڑھنے کا اتفاق ہوا، اس دوران مشہور سعودی صحافی ڈاکٹر علی القحبیص صاحب سے اس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رابطہ کیا تو انھوں نے اپنے کچھ مضامین کے ساتھ(John Hopkins) یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر(Trita Parsi)کی کتاب (Treacherous Alliance)بھی مجھے ارسال فرمائی۔ کتاب پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالنے سے معلوم ہوا کہ اسکے مؤلف نے ایران امریکہ اور اسرائیل کے کلامی جنگ کے پس پردہ گہری دوستانہ تعلقات کے موضوع پر بہت ہی مدلل اور حاصل سیر بحث کی ہے ۔ جسمیں ۸ جولائی ۱۹۸۰ ؁ء کو ارجنٹائن کے ایک مال بردار طیارے (جو اسرئیل سے اسلحہ لے کر ایران جاتے ہوئے سوویت ترکی کی سرحد کے قریب گرکر تباہ ہو گیا تھا )کا واقعہ مستند ریفرنس کے ساتھ مذکور ہے۔ اور اسی طرح ۱۹۸۵ء ؁ میں اسرائیل کی کوششوں سے لبنان میں قید امریکیوں کی رہائی کے بدلے امریکا او ر ایران میں اسلحہ فروخت کا معاہدہ طے ہوا اس معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کو ۳۰۰۰ ٹینک شکن میزائل اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے (Hawk) میزائل فروخت کیے تو اسوقت اسرائیل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فروخت کردہ امریکی اسلحہ ایران پہنچائے گا ۔ پھر ۳ نومبر ۱۹۸۶ء ؁ لبنانی رسالہ’’الشراع‘‘ نے اپنی اشاعت میں اسرائیل کے راستے ایران کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کا اسکینڈل منکشف کیا ۔ کتاب میں مذکورہ واقعات اور مشرقی وسطی کے حالیہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر مر گ بر اسرائیل ، مرگ بر امریکا ،امریکا شیطان بزرگ جیسے سیاسی نعروں کو خمینی اشتھاری کمپنی کی پیداوار قرار دینا بجا ہوگا۔ ان نعروں کا مقصد عالم اسلام کے سادہ لوح مسلمانوں کو کلامی جنگ کا سراب دکھا کر پس پردہ اپنے مخصوص ایجنڈے کی ترویج کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ایک زمانہ تھا جب سادہ لوح مسلمان خوارج کے کھوکھلے نعروں سے متاثر ہو گئے تھے اسی طرح آجکل بھی کئی حضرات ایران کی حالیہ شعبدہ باذی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
ایران کے عالم اسلام کے ساتھ کردار کو ہمیشہ ابن علقمی شیعی او رخواجہ نصیرالدین طوسی شیعی کے ہلا کو خان کے ساتھ ملکر ۱۲۵۸ ؁ء میں بغداد میں مسلمانوں کے قتل عام کے تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضروت ہے۔ جسمیں چالیس دن کے قتل عام کے دوران دس لا کھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا.میر جعفر اور میر صادق بھی اس سلسلے کا تسلسل تھے.
اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم تاریخ کے صفحات سے سبق حاصل کریں اور بے وقوفوں کی جنت میں پودینے کے باغ کاشت کرنا چھوڑ دیں، اور ایران کے کردار کو تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہوئے حلب میں شیعہ ملیشا کے ہاتھوں مسلمانوں کے حالیہ قتل عام اور پردہ نشین ماؤں بہنوں ، بیٹیوں کی عصمت دری کے دل خراش واقعات کو یاد رکھتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں اور حالات و واقعات کا زمینی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیں۔
اسی طرح ایران اور بھارت کے درمیان مضبوط تعلقات ، ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہونے والے بھارتی جاسوس اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں موجود بھارتی ٹاسک فورس جو بلوچستان میں بد امنی پھیلانے اور سی پیک کو ناکام بنانے پر کام کر رہی ہے جیسی حالت کو سامنے رکھ کر ایران کے سی پیک میں شمولیت کے پس پردہ وطن عزیز کے خلاف علقمی اور طوسی سازشوں کو ناکام بنانے کیلے ہمارے خفیہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ضروت ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى