
قو موں کازوال
……………….تحریر نوروالہدی یفتالی………………….
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔
مو منون کی مثال آپس میں محبت ، وابستگی او ر ایک دوسرے پر رحم و شفقت کے معاملے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کی حالت ہو تی ہے۔ اس کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بخار اور خوابی میں مبتلا ہوتا ہے (بخاری ومسلم)
انسان اچھے یا برُے نہیں ہوتے ہیں۔ ان کا رویہ ان کی شخصیت کا آئینہ بن کر ان کا تعارف کرتا ہے۔ نہ کسی کی ذہن کو پڑھا جاتا ہے۔ اور نہ اس کے دل کی احساس کو محسوس کیا جا تا ہے۔ انسان کی گفتگو اس کے عمل کے ذریعے اس کی شخصیت کی مثبت اور منفی پہلووں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ او ر یہ ایک کا ئناتی حقیقت بھی ہے۔ کہ ظاہر ہی باطن کی گواہی دیتا ہے ایک انسانی جوڑی سے قو میں جنم لیتی ہے۔
قو موں کے زوال وانحطاط کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مر تبے درجے کو بھول کر پستیوں اور ذلتوں کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی اور شیطانی کاموں سے دلچسپی کسی بھی قوم کو پر یشانیوں اور مصائب کی د لدل میں گرا دیتی ہے۔ دنیا میں عظیم قومیں ہمیشہ مضبوط اخلاقی ، معا شرتی ، معاشی اور اسلامی اصولوں کے پا بند ہو کر اپنا اصلی حیثیت دنیا کو دیکھا دیتی ہیں۔
قومیں ہمیشہ اپنے مظبوط بنیادوں ،ردشن افکار ، جمہوریت پسند سوچ او ر قانون کے احترام سے پہچانی جاتی ہیں۔ دنیا میں زند ہ قومیں کسی بھی ملک کے لئے فخر ثابت ہوتی ہے۔
جس دن قو میں نسلی گروہوں میں بٹ جاتی ہیں اس سے ملک کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ جب آزادی اظہار کے حقوق لوگوں سے چھین جاے تو کسی بھی معا شرے میں الفاف ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جب کسی بھی معاشرے میں ایک دوسرے کے لئے بر داشت نہ ہو ، ا چھے او ر برُے کی تمیز نہ ہو تو معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہالت ، آنا پرستی اور شریعت کی سنہری تعلیمات سے نا واقفیت اس حد تک بڑھ چکی ہے۔ کہ ایک عام انسان معاشرے میں اس طرز کی حالت کی وجہ سے پرشانی کا شکار ہے۔
ہمارے معاشرے میں طبقاتی صورت حال کی حالت نا گفتہ ہے۔ امیر او ر غریب کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ یہ مسئلہ ہمارے معاشر ے میں بگاڑ پید ا کرتا ہے۔ ایک غریب کو وہ عزت او ر احترام نہیں ملتا معا شرے میں جن کا وہ حقدا ر ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ایک غریب آدمی کو بہت محنت کرنے کے بعد اس کاجائز حق بمشکل مل جاتا ہے اسی صورت میں تعلیم ہی ایک ذریعہ ہے جس سے پسے ہو ئے طبقوں کے افراد اپنی حالات بدل سکتے ہیں۔ او ر ہم طبقاتی درجے بندی سے نکل سکتے ہیں۔
لہذا معا شرے میں امن روادری ، محبت یگا نگت اور مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے اور معاشرتی امن میں بگا ڑ کا باعث بننے والے افراد کا قلع قمع کرنا چاہئے۔۔۔۔
