
مراسلہ نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں:ایڈیٹر
……………………۔سلیم بخاری۔………………..
کیا ہمارے ڈاکٹرز اورانجینئرز اپنے شعبے میں کارکردگی دیکھانے کے قابل نہیں رہے کیا ان کی تعلیم ناقص ہے یا ان کی تربیت میں کوئی عیب ہے؟ہمارے ملک میں میڈیکل کا شعبہ ،سائنس کا نا کام فیلڈ تصور ہوتا ہے، کیونکہ یہا ں جو طریقہ علاج ہے وہ بہت ہی مختلف ہے۔ ادویات کا معیار بین ا لاقوامی سطح کا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحبان مریض کے علاج کو انسانیت کی خدمت نہیں مانتے۔ ان کے ہاں مریض کا علاج مریض کے اوپر احسان ہوتا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ڈاکٹرز صاحبان مریضوں کے ساتھ بات تک کرنے کو گوارہ نہیں کرتے، بہت سارے مریضوں کا علاج بغیر تشخیص کے ہوتے ہیں کیونکہ تشخیص سے لیکر علاج تک مریض کو وقت دینا پڑتا ہے جو ہمارے معزز ڈاکٹر ز صاحبا ن کے پاس نہیں ہو تا، انہیں اپنے کلینکس بھی چلانے ہوتے ہیں۔۔۔۔
سرکاری ہسپتالوں میں علاج تو دور کی بات ، ہسپتالوں کی انتظامی امور بھی خستہ حال ہیں۔ کوڑا کرکٹ کے لے کوئی پلاننگ اور انتظام نہیں، مریضوں کے وارڈ زکے اندر صفائی کی ناقص صورت حال ہے، حتیٰ کہ پرائیویٹ رومز کے حالات بھی نا گفتہ بہ ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں لگے الٹراساؤنڈ سسٹم ، ایکسرے کا نظام، آپریشن تھیٹرز ، اور لیباٹریو ں کی ناقص لیب رپورٹ، ہسپتال انتظامیہ کی نا قص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بہت سارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈائلیسیس( گردے صاف کرنے والے مشین اور علاج) کی سہو لت موجود نہیں ۔اس لئے نہیں کہ وہاں مشینوں کی سہولت نہیں ہیں بلکہ ڈائلیسس کا پوری مشینری بغیر استعمال کے زنگ آلود ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔دوسر ی طرف اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سارے مریض خود اپنا علاج کسی کمپونڈر سے کرواتے ہیں اور اس کے بعد Self medication یعنی خود اپنا علاج مریض خود سے شروع کرتا ہے۔جو ادوایات ان کو ڈرگسٹ اینڈ کیمسٹ کے دوکانوں سے ملتے ہیں وہ بھی ملٹی نیشنیل معیار کے نہیں ہوتے ۔جو مریضوں کے لئے زہر سے کم نہیں ۔
اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ترقی کا یہ صدی سائنسدانوں اور انجینئرز کی مرہوں منت ہے جہاں کمپیوٹر ز نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب برپاکیا ہے وہا ں خلاؤں کے دور دراز سفر کو بھی آسان بنا دی ہے۔بلندوبالا عمارتیں، ہوائی آمدورفت ،اور سمندری سفر یورپ کی ترقی کا ضامن ہے۔ صورت حال ہمارے ہاں یکسر مختلف ہے، یعنی جیسا دیس ویسا بھیس۔ہمارے انجینئرز تھیوری کی حد تک اور ڈگریوں کے حد تک تو صحیح ہے لیکن عملی میدان میں ان کی کارکردگی سروے کرنے کے علاوہ ا ور کچھ بھی نہیں۔
ہمارے انجینئرینگ یونیورسٹیوں کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ یہاں ستر کے دہائی کی مشینیں اب بھی پڑی ہوئی ہیں جو چلتے کم اور ہمارے سیاستدانوں کے طرح شور زیادہ مچاتے ہیں۔بجلی گھروں کے تعمیرہو ، سرنگیں نکا لنے ہوں، پلیں تعمیرکرنے ہوں،یا پھر سڑکیں بنانے ہوں تو ہمیں انجینئرز کوریا اور چائینہ سے بھلانے پڑتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے انجینئرز یہ فرق نہیں کرپارہے ہیں کہ Stabalizers مشینیں بجلی کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں پھر یا گھروں کو جلانے کے لئے۔ ہوائی جہازوں کے بلیک باکس ڈی کوڈ کرنے کے لئے ہمیں فرانس سے مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ ہمارے انجینئرز صرف باکس کو بلیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے فلائٹ انجینئرز کو اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ جہاز کے انجینئر کی پرفارمنس کیا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جہازہنگامی صورت میں گلائیڈ کرکے بھی اُتر سکتا ہے۔لیکن وہ انجن پر کم اور ہوا پر زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں۔ پاور ہاوس میں بجلی تیار ہونے کے بعد ترسل کاکام ہمارے انجینئرز کو سپرد کیجاتی ہے۔ جس کا انجام کئی مہینوں تک لوڈ شیڈینگ کے صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔یہاں میرا ا ن ڈاکٹر زاور انجینئرز صاحبان سے صرف ایک سوال ہے کہ اس مٹی میں بسنے والوں اس ملک کے ساتھ اتنی بے رحمی ، بے دردی،نا انصافی اور سوتیلے ماں کا سلوک کیوں؟ فرنگیوں کے ملک میں تو ان کے جانور تک دہونے کے لئے تیار ہو لیکن اپنے مٹی پہ انسانیت کے خدمت نہیں کرسکتے، کیوں؟ فرنگیوں کے سڑکوں کوصاف کرنے کیلئے کسی بھی ناجائز ویزہ لینے کے لئے تیاربیٹھے ہو لیکن اپنے ملک کے سڑکیں بناتے وقت کرپشن اور نا قص میٹریل کا استعمال کیوں؟اگر پاکستان کے ڈاکٹر اور انجینئرز اپنے آپ کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم پانج سالوں کیلئے عملی طور پر دیکھانا ہوگا کہ ہم ہسپتال چلاسکتے ہیں پل اور سڑکیں بنا سکتے ہیں۔
