تازہ ترینمحمد صابر

جے آئی یوتھ چترال اور ہمارے نوجوان

مراسلہ نگار کے ساتھ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں؛ایڈیٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد صابر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں یوں تو بہت ساری سیاسی پارٹیاں ہیں مگر جماعت اسلامی پاکستان کی سب  سے بڑی سیاسی اور مذہبی جماعت ہے ۔ کسی بھی سیاسی پارٹی یا جماعت کی فعالیت اور استقلال کےلیے ضروری ہے کہ اس پارٹی یاجماعت کے اندر جمہوریت ہو اس تناظر میں دیکھا جاۓ تو جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جس کے اندر واقعی میں جمہوریت ہے جس کی تائید پلڈاٹ کی ایک سروے سے ہوتی ہے جس کے مطابق پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے حوالے سے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی جماعت اسلامی ہے ۔
جماعت اسلامی کی جانب سے گزشتہ سال شباب ملی کو ختم کرکے یوتھ ونگ کا اعلان کیا گیا تھا جسے جے آئی یوتھ کا نام دیا گیا جس کا مقصد نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے کر پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے اور ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل ہے ۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کی تشکیل نو اور کردار سازی کےلیے ایک انسٹیٹیوٹ کی ضرورت تھی جس کی کمی کافی شدت سے محسوس کی جارہی تھی ، لیکن جماعت اسلامی نے اس کمی کو جے آئی یوتھ کی صورت میں پورا کردیا ۔  جے آئی یوتھ ونگ نوجوانوں کو تعلیم و تربیت ، تزکيہ نفس ، خدمت و ایثار ، حب الوطنی اور سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کےلیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے ۔ جے آئی یوتھ سوشل گیڈرنگ ، مختلف ورکشاپس اور اسپورٹس سمیت دوسرے کئی پروگرامات کے ذریعے نوجوانوں کو متحد کرنا چاہتی ہے اس حوالے سے ضلع چترال کے اندر کھیلوں کے مختلف ایونٹز منعقد کراۓ گئے اور کھیلاڑیوں کو انعامات سے بھی نوازا گیا  ۔ جے آئی یوتھ نوجوانوں کومنشیات کی لعنت سے دور رکھنے کےلیے انہیں تفریح اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے یہ کلمئہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے جہاں کا دستور قرآن وہ سنت ہے ، مگر بد قسمتی سے مفاد پرست عناصر اور بے دین حکمرانوں کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ سود اور شراب حرام اور دیگر کئی برائیاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں مگر کون ان کے روکتھام میں کردار ادا کرے گا ؟ وہ کونسے نوجوانوں نے مستقبل میں ملک وہ قوم کی بھاگ دوڑسنبھالنی ہے ؟ آج کے ہمارے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینی کی ضرورت ہے انکی کی نفسیات کو پرکھنے اور تعلیم و تربیت ، کردار سازی اور تفریح کےلیے مواقع پیدا کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ یہی معمران ملک وہ قوم ہیں ۔ ملک میں جاری لوٹ کھسوٹ ، ظلم و بربریت ، مہنگائی ، غربت و بے روزگاری، اقربا پروری ، دہشتگرد گردی ، انتہا پسندی اور لاقانونیت نے ہمارے نوجوانوں کو موجودہ ملکی نظام سے مایوس اور نا امید کر دیا ہے ۔ ایسے حالات میں ہمارے نوجوان بے راہ روی اور غلط راستوں پر جاسکتے ہیں یا دہشتگردوں کا اعلئ کار اور سہولت کار بن سکتے ہیں ایسے میں نوجوانوں کی نفسیات کو پیش نظر رکھنا از حد ضروری تھا ۔
یقیناً جماعت اسلامی یوتھ ونگ نوجوان قیادت کومنظم کرکے ظلم کا خاتمہ کرسکتی ہے ۔ بے روزگاری ، غربت و افلاس اور انتہا پسندی کو ہرا سکتی ہے ۔
اس سلسلے میں نوجوان قیادت کو  ملکی سیاست کی پیچ وتاٶ سے آگاہی اور آنے والے انتخابات کےلیے بھرپور طور پر تیار کرنے کےلیے پہلی بار جے آئی یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کا آئیڈیا سامنے لایا گیا جو کہ ایک مکمل جمہوری عمل ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جاۓ کم ہے ۔
جے آئی یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن صوبے کے دیگر حصوں کی طرح ضلع چترال میں بھی منعقد کراۓ گئے ۔ پہلے مرحلے میں چترال ون ، چترال ٹو بروز ایون میں کامیاب انٹرا پارٹی الیکشن  منعقد کراۓ گئے پھر ضلع چترال کے سات مختلف یونین کونسلوں میں ترتیب وار الیکشن منعقد کراۓ جائیں گے ۔ جن میں جے آئی یوتھ کے چارہزار سے زائد ووٹرز اپنے حق راۓ دہی کا استعمال کرکے یونین کونسلوں کی سطح پر  صدر ، جنرل سیکٹری ، اور ممبر ایکزیکٹیو کونسل منتخب کرینگے ۔ جے آئی یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں دروش کے تین یوسیز میں کامیاب الیکشن منعقد کراۓ گئے جوکہ پہلے مرحلے کی کمی خامیوں سے کافی تجربہ حاصل کرکےمنعقد کراۓ گئے تھے جس کے بہت ہی اچھے نتائج سامنے آئے ۔  ضلع میں جے آئی یوتھ انٹرا پارٹی الیکشن کی وجہ سے ضلع چترال کے نوجوانوں میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے کو آۓ گی   ۔
پاکستان کے اصل سرمایہ نوجوان ہیں جن کو مایوسی اور تاریکی سے نکالنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے جے آئی یوتھ کا کردار نہایت ہی شاندار ہے ۔ جے آئی یوتھ ونگ چترال اور جے آئی یوتھ ونگ پاکستان  نوجوانوں کو منظم اور اکھٹا کرکے ظلم کا خاتمہ کریگی اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان صحیح اور حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بن کر امت مسلمہ کی قیادت کریگا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى