تازہ ترینمضامین

دا دبیدا د……….ٹکٹوں کی تقسیم

…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …………
عام انتخابات کے اعلان میں کم و بیش ایک سال یا سوا سال کا عرصہ رہ گیا ہے فروری اور مئی 2018 کے درمیان کسی سہانی صبح کو عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوگا نگران حکومتیں بننے گی اور انتخابی شیڈول آئے گا سیاسی جماعتوں نے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں دو با تیں طے ہو چکی ہیں ان میں تبدیلی نہیں ہوگی پہلی بات یہ ہے کہ نفاذ شریعت کے نام پر کوئی اتحاد نہیں بنے گا جمعیتہ العلمائے اسلام اور جما عت اسلامی الگ الگ ہو کر میدان میں آئینگی دوسری بات یہ طے ہوگئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کسی بھی جما عت کے ساتھ اتحاد نہیں کریگی اپنی انفرادی حیثیت میں الیکشن لڑے گی تما م پارٹیوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ سراُٹھاچکا ہے مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی نے ابھی کوئی نیا اعلان نہیں کیا ٹکٹوں کی تقسیم پرُ انے طریقے پر ہوگی جس کا ووٹ بینک ہوگا اُس کو ٹکٹ ملے گا بعض دیگر پارٹیوں نے کہا ہے جس کا بڑا بینک اکاونٹ ہوگا اس کو ٹکٹ ملے گا بعض جماعتوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پارٹی میں نئے آنے والوں کو پرُانے لوگوں پر ترجیح دینگے بعض نے پالیسی دی ہے کہ صرف قربانی دینے والوں کو ٹکٹ ملے گا پاکستان تحریک انصاف نے انقلابی فیصلہ کر تے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جن ورکروں کو 2013 کے الیکشن میں کامیابی ملی تھی ان میں سے 80 فیصد کی درخواستیں مسترد کی جائینگی ان کی جگہ نئے چہرے سامنے لائے جائینگے کا بینہ کے وزراء اور مشیروں میں سے 80 فیصد کو اگلے الیکشن میں ٹکٹ نہیں ملے گا ۔ ایک دل جلے کا قو ل ہے کہ ا ن میں سے 80 فیصد اس قدر تنگ آچکے ہیں کہ وہ ٹکٹ کے لئے درخوا ست ہی نہیں دینگے دوسروں کا خیا ل ہے کہ وہ کس منہ سے2018 ء میں عوام کا سامنا کر ینگے اس لئے ان کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم کر نا پا رٹی کا بہتر فیصلہ ہے ہما رے ممدوح شیخ رشید احمد بھلے وقتوں میں نواز شریف اور پر ویز مشر ف کی کا بینہ کے وزیر ہوا کرتے تھے یہ مئی 2007 کا ذکر ہے وکلا ء کی تحریک زوروں پر تھی اخبار نویسوں نے شیخ رشید سے پوچھا کہ مخالفین نے جنرل مشرف کے لئے جو مشکلات پید ا کی ہیں ان مشکلات سے وہ کسطرح نکل سکینگے ؟ شیخ رشید نے کہا تمہارا سوال ہی غلط ہے ’’مشکلا ت کسی اور نے پیدا نہیں کیں ہم نے خود اپنے آپ کے لئے پیدا کیا ہے ‘‘شیخ رشید کا یہ کلا سیکی جملہ پاکستان تحریک انصاف پر بھی صادق آتا ہے اور خیر سے پی ٹی آئی شیخ رشید کا اتحادی جماعت بھی ہے 2013 کے عام انتخابات میں شیخ رشید نے قومی اسمبلی میں راولپنڈی سے اپنی ’’آخری سیٹ ‘‘پی ٹی آئی کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کے ذریعے جیتی ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ انتخابات کی تیاری میں سب سے اہم مسئلہ ہے کہتے ہیں تاجر مال فروخت کرنے میں فائدہ نہیں کماتا بلکہ مال کی خریداری کے وقت منافع کماتا ہے اسی طرح الیکشن جیتنے والی جما عت پولنگ اسٹیشن میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑتی ٹکٹوں کی تقسیم کے دن فتح حاصل کر تی ہے لاہور اور پشاور میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو ٹکٹوں کی غلط تقسیم کی وجہ سے شکست ہوئی اور سب نے محسوس کیا کہ اُمید وار کے انتخاب میں غلطی نہ کر تی تو پی ٹی آئی شکست سے دو چار نہ ہوتی یہ حسن اتفاق ہے کہ ٹکٹ کا لفظ’’ وکٹ‘‘ کا ہم وزن اور ہم قافیہ ہے عمر ان خان کا تعلق وکٹ سے بہت پرانا ہے ٹکٹ سے نیا نیا تعلق پیدا ہو اہے اس لئے اس کو بھی وکٹ کی طرح کھیل کھیل میں کامیاب کرنے کا سودا اُن کے سر میں سمایا ہو ا ہے مگر ٹکٹ دینا کھیل نہیں یہ بالکل الگ معاملہ ہے اور اس کے کئی سنجیدہ پہلو بھی ہیں 80 فیصد وزراء ،ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ٹکٹ نہ دینے کا اعلان اگر چہ اپنے اندر انقلابی پہلو رکھتا ہے تاہم اس میں یہ امر بھی پوشیدہ ہے کہ گزشتہ 4سالوں میں ہماری پارٹی نے حکومت میں رہ کر کچھ نہیں کیا اب یہ لوگ دوبارہ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے اس لئے نئے چہرے سامنے لا کر نا کامی کا ملبہ سابقہ وزراء ، ایم این ایز اور ایم پی ایز پر ڈال دیا جائے کپتان کا یہ خیال ہے کہ جس طرح کا رکن مو لانا فضل الرحمن ،سراج الحق ،اسفندیار ولی خان اور زرداری کی بات آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں اس طرح میر ی بات بھی مان لینگے مگر یہاں کپتان سے بھول ہو گئی ہے پی ٹی آئی کے ورکر آنکھیں بند کر کے اپنے لیڈر کی بات ما ن لیتے تو این اے ون پشاور کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی مقبولیت کے عروج کے وقت نا کامی نہ ہوتی پی ٹی آئی کے کارکنوں کا یہ طرہ ا متیاز ہے کہ ان کو سوچنے ،دیکھنے اور سو چ سمجھ کر فیصلہ کر نے کی تربیت ملی ہے وہ اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتے بقول غالب ۔
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبین کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وانہ ہوا
اس طرح پارٹی اُمید وار وں کی انتخابی مہم کا سارا بوجھ صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر آئے گا ان کی مصروفیات اتنی زیا دہ ہیں کہ انہوں نے صوبے کے 25 اضلاع میں سے 21 اضلا ع کاا بھی تک تفصیلی دورہ نہیں کیا ورکروں سے نہیں ملے جلسہ نہیں کیا وہ اکیلے کس طرح انتخابی مہم چلائینگے ۔ یہ صوبے کی حکمران جماعت کیلئے بہت بڑا امتحان ہے ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔