
………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ …………..
ایک ہفتہ پہلے خبر آئی تھی کہ پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف سرچ آپریشن کے لئے رینجرز کو خصوصی اختیارات دے دئیے گئے امید پیدا ہوگئی تھی کہ پنجاب میں جھنگ ، مرید کے ، ٹھوکر نیاز بیگ ، ڈیرہ غازی خان ، تو نسہ اور دیگر 28مقامات پر 1978سے1988تک 10سالوں میں جو مراکز قائم ہوئے تھے ان کو ختم کردیا جائے گا ہفتہ گزرنے پر خبر اگئی کہ سرچ آپریشن کا مطلب پٹھانوں کی تلاشی لینا ہے اور کچھ نہیں ٹوپی بیچنے والے پٹھان ، پالش کا کام کرنے والے پٹھان، مسجدوں میں تعلیم حاصل کرنے والے پٹھان یا امامت و خطابت کرنے والے پٹھان اس کے ٹارگٹ ہیں یہ خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں کہ کاروباری رقابت میں پٹھان تاجروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے شیخ سعدی نے ایک حکایت بیان کی ہے ایران کا بادشاہ داریوش اعظم(Cyrus the great)ایک دن شکار پر نکلااس دوران ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ وہ اکیلا تھا اتنے میں سامنے سے آدمی آتے ہوئے دکھائی دیا بادشاہ نے ترکش سے تیر نکالاکمان ہاتھ میں لیا اور تیر پھینکنے لگادوسری طرف سے وہ شخص چلاتے ہوئے قریب آیا اور بادشاہ سے کہا جہان پناہ! میں تمہارا چرواہا ہوں شاہی اصطبل کے گھوڑوں کو چروانے آیا ہوں آپ نے شاہی دربار میں بھی مجھے دیکھا ہے اصطبل میں بھی مجھے دیکھا ہے بادشاہ نے چرواہے کو پہچا ن لیا ۔ اُ س کی جان بچ گئی چرواہے نے باد شاہ سلا مت کو پا نی پلا یا پھر عر ض گزار ہو ا جان کی امان پاوں تو عرض کروں بادشاہ نے اجا زت دی تو چر و ا ہے نے کہا “آپ کے پا س انسانوں کے چر وا ہے کا منصب ہے میں جانوروں کا چو پاں ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ کو نسا جانور کہاں ہے اور کس حال میں ہے میں ہر جا نور کو صورت اور نام سے پہچا نتا ہوں ، تمہارا یہ حال ہے کہ اپنے چرواہے کو نہیں پہنچانتے شیخ سعدی ؒ نے اس حکایت کا نتیجہ ایک شعرمیں یوں بیان کیا ہے۔
دراں دار ملک از خلل غم بود
کہ تد بیر شہ از شباں کم بود
اُس مملکت کا انجام بخیر نہیں ہوگا جہاں بادشاہ کی عقل چرواہے کے برابر نہ ہو بلکہ چرواہے سے بھی کم ہو پنجاب میں سرچ اپریشن وقت کی ضرورت تھی 12کروڑ کی آبادی میں چھپے ہوئے دشمنوں کو باہر نکالنا ضروری تھا۔ مگر اس کی آڑ میں پٹھانوں کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر مناسب نہیں 1960ء کے عشرے میں بنگالیوں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا تھا حکومت نے اعلان کیا تھاکہ ’’ہمیں بنگال کے لوگ نہیں چاہییں بنگال کی مٹی چاہئے‘‘ اس کا نتیجہ بڑا بھیانک ہوااُس نتیجے کا تصور کرکے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس پر جو دستاویزی فلمیں بنائی گئی تھیں وہ اب بھی محفوظ ہیں اُس وقت ایک مکتی باہنی بنائی گئی تھی اب یہاں پاکستان کے خلاف 13مکتی باہنیاں بنائی گئی ہیں ان کو تربیت دی گئی ہے ان کو بے پناہ دولت دی گئی ہے اسلحہ دیا گیا ہے اُن کی مثالی طفیلی کیڑوں کی طرح ہے طفیلی کیڑوں کے بارے میں ماہرین زراعت کہتے ہیں کہ ان میں ضرر رساں کیڑے بھی ہوتے ہیں بے ضرر کیڑے بھی ہوتے ہیں جب فصل خطرے میں ہو تو ضرر رساں کیڑوں کے ساتھ بے ضرر کیڑوں کو بھی ختم کیا جاتا ہے۔ یہی مثال دہشت گردوں کی ہے پنچاب حکومت کہتی ہے کہ کچھ دہشت گرد نقصان دہ اور بعض دہشت گرد ہمارے لئے مفید ہیں مفید دہشت کو کچھ نہ کہا جائے ان کی جگہ پٹھانوں کو پکڑ کر حساب پورا کیا جائے مفید دہشت ضرورت پڑنے پر ہمارے کام آئینگے 2002ء میں انڈونیشیا دہشت گردی کی زد مین آیا تھا چار سال بعد 2006ء میں حکومت نے دہشت گردوں کا پورا نیٹ ورک توڑ دیا فارمولا یہ تھا کہ کوئی بھی دہشت گرد ہمارے لئے مفید نہیں ہے ہمیں کبھی اور کسی بھی حال میں دہشت گردوں سے مدد نہیں لینی چاہیئے۔اس فارمولے کے تحت چار سالوں کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا انڈونیشیا میں پائیدار امن قائم ہوا ہم 1990ء سے چیخ و پکار کررہے ہیں کہ دہشت گردی قابو میں نہیں آرہی پھر بھی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گردکی تمیز سے ہم نے توبہ نہیں کیا ایم کیو ایم میں سے پاک سرزمین پارٹی نکال لاتے ہیں نام بدل کر آنے والے دہشت گرد کو گلے لگا لیتے ہیں۔شیخ سعدیؒ نے ایک اونٹنی کا قصہ لکھا ہے اونٹنی صبح سے قطار میں جارہی تھی اونٹنی کے بچے نے کہا شام ہوگئی ہے اب ارام کرو اونٹنی نے کہا اگر مہار میرے ہاتھ میں ہوتی تو اس قطار سے باہر نکلتی آرام بھی کرتی مگر مشکل یہ ہے کہ مہار کسی اور کے ہاتھ میں ہے میرا کوئی اختیار نہیں شاید ہمارا مسئلہ اونٹنی کے قول کی طرح بہت گھمبیر ہے نہ دہشت گردوں کو پالنا ہمارے اختیار میں ہے نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیارمیں ہے دہشت گرد سب کے سب کسی اور کے مہمان ہیں ہمیں ان کی میزبانی ا ور سہولت کاری کا جو شرف 1978ء میں عطا ہوا تھا وہ تاج اب تک ہماری حکومت کے سرپر ہے میر تقی میر کا لاجواب شعراس پر صادق آتا ہے
ہم مجبوروں پہ ناحق تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سو آپ کرے ہے ہم کو عبث بد نام کیا
پختون کوپہلے بھی دہشت گردی کے لئے سستے مزدور کے طور پر استعمال کیا گیا ریت کی بوری بنا کر دشمن کے سامنے رکھا گیا اب بھی پختون کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنی روایتی سادگی سے باہر نہ آسکا اُس کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اس کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیا گیاتھا 1978ء میں بھی پختون نشانے پر تھا اب بھی پختون ہی نشانے پر ہے۔اس لئے پٹھانوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور یہ تلاشی جاری رہے گی۔
دراں دار ملک از خلل غم بود
کہ تد بیر شہ از شباں کم بود
اُس مملکت کا انجام بخیر نہیں ہوگا جہاں بادشاہ کی عقل چرواہے کے برابر نہ ہو بلکہ چرواہے سے بھی کم ہو پنجاب میں سرچ اپریشن وقت کی ضرورت تھی 12کروڑ کی آبادی میں چھپے ہوئے دشمنوں کو باہر نکالنا ضروری تھا۔ مگر اس کی آڑ میں پٹھانوں کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر مناسب نہیں 1960ء کے عشرے میں بنگالیوں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا تھا حکومت نے اعلان کیا تھاکہ ’’ہمیں بنگال کے لوگ نہیں چاہییں بنگال کی مٹی چاہئے‘‘ اس کا نتیجہ بڑا بھیانک ہوااُس نتیجے کا تصور کرکے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس پر جو دستاویزی فلمیں بنائی گئی تھیں وہ اب بھی محفوظ ہیں اُس وقت ایک مکتی باہنی بنائی گئی تھی اب یہاں پاکستان کے خلاف 13مکتی باہنیاں بنائی گئی ہیں ان کو تربیت دی گئی ہے ان کو بے پناہ دولت دی گئی ہے اسلحہ دیا گیا ہے اُن کی مثالی طفیلی کیڑوں کی طرح ہے طفیلی کیڑوں کے بارے میں ماہرین زراعت کہتے ہیں کہ ان میں ضرر رساں کیڑے بھی ہوتے ہیں بے ضرر کیڑے بھی ہوتے ہیں جب فصل خطرے میں ہو تو ضرر رساں کیڑوں کے ساتھ بے ضرر کیڑوں کو بھی ختم کیا جاتا ہے۔ یہی مثال دہشت گردوں کی ہے پنچاب حکومت کہتی ہے کہ کچھ دہشت گرد نقصان دہ اور بعض دہشت گرد ہمارے لئے مفید ہیں مفید دہشت کو کچھ نہ کہا جائے ان کی جگہ پٹھانوں کو پکڑ کر حساب پورا کیا جائے مفید دہشت ضرورت پڑنے پر ہمارے کام آئینگے 2002ء میں انڈونیشیا دہشت گردی کی زد مین آیا تھا چار سال بعد 2006ء میں حکومت نے دہشت گردوں کا پورا نیٹ ورک توڑ دیا فارمولا یہ تھا کہ کوئی بھی دہشت گرد ہمارے لئے مفید نہیں ہے ہمیں کبھی اور کسی بھی حال میں دہشت گردوں سے مدد نہیں لینی چاہیئے۔اس فارمولے کے تحت چار سالوں کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا انڈونیشیا میں پائیدار امن قائم ہوا ہم 1990ء سے چیخ و پکار کررہے ہیں کہ دہشت گردی قابو میں نہیں آرہی پھر بھی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گردکی تمیز سے ہم نے توبہ نہیں کیا ایم کیو ایم میں سے پاک سرزمین پارٹی نکال لاتے ہیں نام بدل کر آنے والے دہشت گرد کو گلے لگا لیتے ہیں۔شیخ سعدیؒ نے ایک اونٹنی کا قصہ لکھا ہے اونٹنی صبح سے قطار میں جارہی تھی اونٹنی کے بچے نے کہا شام ہوگئی ہے اب ارام کرو اونٹنی نے کہا اگر مہار میرے ہاتھ میں ہوتی تو اس قطار سے باہر نکلتی آرام بھی کرتی مگر مشکل یہ ہے کہ مہار کسی اور کے ہاتھ میں ہے میرا کوئی اختیار نہیں شاید ہمارا مسئلہ اونٹنی کے قول کی طرح بہت گھمبیر ہے نہ دہشت گردوں کو پالنا ہمارے اختیار میں ہے نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیارمیں ہے دہشت گرد سب کے سب کسی اور کے مہمان ہیں ہمیں ان کی میزبانی ا ور سہولت کاری کا جو شرف 1978ء میں عطا ہوا تھا وہ تاج اب تک ہماری حکومت کے سرپر ہے میر تقی میر کا لاجواب شعراس پر صادق آتا ہے
ہم مجبوروں پہ ناحق تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سو آپ کرے ہے ہم کو عبث بد نام کیا
پختون کوپہلے بھی دہشت گردی کے لئے سستے مزدور کے طور پر استعمال کیا گیا ریت کی بوری بنا کر دشمن کے سامنے رکھا گیا اب بھی پختون کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنی روایتی سادگی سے باہر نہ آسکا اُس کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اس کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیا گیاتھا 1978ء میں بھی پختون نشانے پر تھا اب بھی پختون ہی نشانے پر ہے۔اس لئے پٹھانوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور یہ تلاشی جاری رہے گی۔
