تازہ تریننورالہدیٰ یفتالی

سماجی انصاف

……….. تحریر۔ نور الھد ی یفتالی……….

Advertisements

نوشیراوان اپنے زمانے میں سب سے عادل او ر سماجی اصولوں پر قائم رہنے و الا عادل گزرے ہیں جو کسی بھی صورت سماجی اصولوں کو انتہائی اہمیت د یتے تھے او ر اپنے رعایاء کی ہر صورت میں خیال رکھا کرتے تھے۔ نوشیراوان کے ایک خاص ملازم ایک دفعہ شکار گا ہ میں کباب بنا رہے تھے ، نمک نہ تھا۔ اپنے ایک ملازم کو گاوں کی طرف بھیجا کہ وہاں سے نمک لے آئے اور اپنے خاص ملازم کو ہدایت کی نمک کی قیمت ادا کر کے لائے۔ قیمت ا د ا کئے بغیر چیز لینے کی رسم نہ پڑ جائے اور گاوں اجاڑ نہ ہو جائے۔ ملازمین شاہی نے عرض کی کہ جہاں پناہ ایک چٹکی نمک لینے میں کیا حرج ہے، نوشیروان نے کہا کہ دنیا میں ظلم او ر سماجی نا انصافی پہلے بہت تھوڑی تھی اور جو کوئی بعد میں آیا وہ اس میں اضافہ کرنے لگا او ر حتیٰ کہ و ہ انتہا کو پہنچ گیا۔ اگر بادشاہ رعایاء کے باغ سے ایک سیب توڑ لے تو اس کے ملازم درخت کو جڑ سے اکھاڑ دینگے۔او ر اگر بادشاہ د و انڈے مفت کھا لے تو اسکے سپاہی ہزا ر مرغ لوگوں سے بہ جبر چھین کر سیخ پر چڑھائینگے اس سے معاشرے میں سماجی انصاف ناپید ہوگی۔
یہ ہی وہ اسلامی اصولوں پر مبنی طرز حکومت تھی جس کی بنیاد حضرت قائد اعظم نے رکھی ، بد قسمتی سے اس ملک میں کچھ اور طرز کی حکومت قائم ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے پوری انسانیت کو ایک آدم علیے السلام کی نسل سے جنم دے کر شروغ دن سے ہی سماجی انصاف کی بنیاد رکھ دی تھی۔
وطن عزیز کا ہر فرد سماجی انصاف کو صرف ایک لفظ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ہماری حکمران طبقہ لفظ سماجی انصاف کو کتنی بار اپنی تقاریر میں ایک Political Tool کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور ہم جیسے ساوہ او ر حالات کے مارے قوم کو Emotional Blackmail کر نے کے لئے یہ لفظ بہت گہرا اثر دکھاتی ہے۔ عالمی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر لاکھوں روپوں کی استعمال کے ذریعے سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر اقتدار کے کرسیوں پر بیٹھے ہمارے نام نہاد حکمران، تعلیمی اسکارلز اور مذہبی دانشوروں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ اداروں کے یہ اعلیٰ حکام اپنی خطاب اور تقاریر میں اپنی منطقی الفاظ سے گھنٹوں لیکچر دیتے ہیں اور ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جسے سن کر ایک سچا مسلمان اور ا یک محب وطن شخص متاثر ہوئے بعیر نہیں رہ سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ اس کائنات میں پاکستان وہ واحد خطہ ہے ۔ جہاں انصاف کی فراہمی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کاش یہ تقاریر اور سیمینار پر کی گئی ان باتوں، اصولوں پر خود ہمارے حکمران عمل کرتے تو یقیناً اس ملک میں انصاف و عدل کی فراہمی عام ہوتی۔ یہ حکمران طبقہ خود اسلامی اصولوں ، سماجی انصاف اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے، اپنے اختیارات کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر صحیح طریقے سے انجام دیتے، انصاف کی اس خالی خانے میں تھوڑی سی بھی اپنا حصہ ڈال دیتے تو شاید اس ملک خداداد میں کافی تبدیلی ہم محسوس کرتے ۔لیکن بد قسمتی اس ملک کی کہ ہمارے بے حس حکمران ان خوبیوں سے کوسوں دور ہیں۔
اسلام کے نام پر وجود میں لائے گئے اس وطن عزیز میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو وہ حق حاصل ہے جن کا وہ حق بنتا ہے۔ اس معاشرے اور اس ملک میں رہنے والے تمام افر اد کو ہمارے حکمران جواب دہ ہیں۔ بغیر کسی امتیازی سلوک ، انصاف اور مساوات کی برابری پر سب کو ایک نگاہ سے دیکھنا ، لوگوں کی روزمرہ معاملا ت زندگی کے درمیان بغیر حق تلفی کے فیصلہ کرنا، معاشرے میں رہنے والے ہر مکتب فکر کی حقوق کی پاسداری کرنا، ملک اور معاشرے میں انصاف کی جامع اصولوں کو رائج کرنا، لوگوں کے لئے تعلیمی ، مذہبی ، سیاسی، معاشی، قانونی اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک معاشرہ تشکیل دینا یہ ہمارے بے حس اور ناکام حکمرانوں کی سب سے اہم ذمے داری ہے۔ اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ ملک خداداد میں یہ اصول کچھ اور ہی ہیں۔ کمزور اور غریب کیلئے الگ قانون ہے جبکہ طاقت ور کے لئے الگ قانون ہے۔اس ملک میں کمزور کو الگ طرز اور طریقے سے Deal کی جاتی ہے اور ان کمزور اور غریب کیلئے الگ Tone استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ طاقت ور اور سرمایہ دار کیلئے الگ قانونی اصول ہیں۔ دین اسلام کے نام پر جدو جہد کرکے وجود میں لائی گئی اس ملک میں بہت کچھ غلط ہو رہا ہے۔ بیرونی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی وجہ سے آج ہمارے مساجد، ہمارے تعلیمی ادارے، ہمارے درگاہ تک محفوظ نہیں۔ ہر طرف ملک میں نفسا نفسی اور پریشانی کا عالم ہے۔ ہمارے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بے حس اور رزیل حکمران خود لاکھوں روپوں کی فل سکیورٹی میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں جبکہ ان بے حس حکمرانوں کو تحفظ دینے والے بھی کسی لے لخت جگر، کسی کے باپ اور کسی کی بھائی ہیں۔
کراچی سے لیکر خیبر تک عوام عدم تحفظ کا شکار ہے۔ آئے روز ملک میں خوف ، مایوسی اور محرومی کی ایک فضاء ہے۔ قدم قدم پر انسانوں کی حق تلفیاں، ملک میں مہنگائی ، بد امنی، کرپشن اور اقرباء پروری سر عام ہے۔
یہ سب ہماری بے حس اور ناکام حکمرانوں کی بدولت ہے۔ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ اس ملک میں ریڑی والے نے کبھی بھی قانون اور آئین کو پامال نہیں کیا ا ور نہ کوئی قصاب والے نے کوئی کرپشن کی ہے۔ غریب کو صرف دو وقت کی روٹی کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ آئین کی پامالی اور قانون کو اپنے لئے آسان بنانے اور اپنے کرپشن کو چھپانے کیلئے ملک کی آئین اور قانون کیساتھ بہت بڑی مذاق کی گئی ہے۔ سماجی انصاف کی کمزوری ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے کو ہمارے اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جبکہ ملک میں برائے نام حکومت قائم ہے۔ اربوں روپوں کی کرپشن کرنے والے ایوانوں اور اقتدار میں بیٹھے ہوئے ملک کی سلامتی پر لیکچرز دے رہے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 200 روپے کی چوری کرنے والے پانچ سالوں سے جیلوں میں ہیں۔ جن حکمرانوں کو بیچارے عوام اپنے مسائل، اپنی تحفظ اور سماجی انصاف کی خاطر ووٹ جیسے قیمتی امانت کے ذریعے عوامی طاقت کا تاج پہنا کر ایوانوں میں بھیج دیتے وہ کرپشن اور ذاتی مفادات کی الجھنوں میں الجھ کر اپنے کارے کارتوت چھپانے کی پریشانی میں ملک کو تباہی کے کنارے تک لائے ہیں۔ ہم بھی عجیب زہنیت رکھنے والے قوم ہیں جو اس ملک کی آیئین کی پامالی، قانون کی بے حرمتی، کرپشن جسیسی لعنت کاموں میں قانونی طور پر مجرم ہیں انکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان لوگوں کی با عزت رہائی کیلئے اپنی پوری ایڑی چوٹی کی زور لگا دیتے ہیں تاکہ یہ مافیا باعزت بری ہو اور دوبارہ ان بے حس لوگوں کو طاقت ور بنا کر پھر سے ایوانوں میں بھیج دیتے ہیں، اور آس لگا بیٹھتے ہیں کہ ملک میں سماجی انصاف کا بول بالا ہو، معاشرے میں تعلیمی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور اصولوں کی بالا دستی ہو، تو یہ ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔
خدا را اس ملک کی تقدس کا احترام کیجئے اور اپنے آنے والی نسلوں کی ترقی اور انکی مستقبل کا زرا سوچئے۔ جو لوگ خود مجرم ہوں وہ اس ملک کو کیا خاک انصاف دینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى