تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ………..طورخم سے چمن تک

……………….ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ …………….

Advertisements

پاک افغان سرحد جب بھی بند کی جاتی ہے طورخم سے چمن تک احتجاج ہوتا ہے شدید ردّ عمل سامنے آتا ہیں کیونکہ سرحد کے دونوں طرف عوام کا روز گار سرحد کھولنے سے وابستہ ہے معاشی سرگرمیوں کا دارومدار سرحد کے کھلنے پر ہے یہ روزی ،روٹی کا مسئلہ ہے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے مگر سرحد کو بند کرنے یا کھولنے کا فیصلہ لنڈی کوتل ،جمرود ،لواڑگئی یا پشاور میں نہیں ہوتا فیصلہ ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کے لوگ غریبوں کی روزی ،روٹی اور غریبوں کے روز گار کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ان کے سامنے بین لاقوامی مسائل ہوتے ہیں نئی دہلی ،وشنگٹن ڈی سی ،کابل ،تل ابیب اور رریاض یا کویت سے تعلق رکھنے والے مسائل ہوتے ہیں اس طرح ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیوں کی موت آجاتی ہے 2017 اکیسویں صدی کا ایسا سال ہے جس سال چین اور نیپال کی سرحد پر ویزے کی پابندی نہیں ،بھارت اور نیپال کی سرحد ویزے کی پابندی سے آزاد ہیں یورپ کی 43 ممالک نے اپنی سرحدو ں پر ویزے کی پابندی اُٹھالی ہے پاکستان اور افغانستا ن کی سرحد کو باربار سر بمہر کرنا پڑتا ہے باربار احتجاج کی نوبت آتی ہے باربار یہ مسئلہ نئے سرے سے سر اُٹھاتا ہے امریکی تھنک ٹینک اس مسئلے کی دو وجوہات بتاتے ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف شرح خواندگی 20 فیصد سے کم ہے لوگ ان پڑھ ہیں ان کو سرحد کی بندش اور آزادی سے کوئی سروکار نہیں اپنی مز دوری کی فکر ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ سرحدکے دونوں طرف غربت کی شرح 70 فیصدسے زیادہ ہے 5 ہزار کی آبادی میں بمشکل 30 فیصد لوگ روزانہ ایک ڈالر کے برابر کمائی کرتے ہیں چند خاندانوں کے پاس دولت ہوتی ہے وہ اپنی دولت کو پشاور ،لاہور ،کراچی اور دوبئی میں جائدادوں کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں ان کی دولت سے مقامی آبادی کو فائدہ نہیں ہوتا جو لوگ انقلاب ثور سے پہلے اخبارات پڑھتے تھے پشاور اور جلال اباد کے درمیاں سفر کرتے تھے جشن کابل دیکھنے کے لئے جاتے تھے یا جشن خیبر کے لئے افغانیوں کو دعوت دیتے تھے وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انقلاب ثور سے پہلے حکومتوں کے درمیاں چپقلش کا عوام پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا انقلاب ثور کے ساتھ یورپ اور امریکہ سے لوگ آگئے ،عربوں کی آمد ہوئی ،بھارت نے یہاں قدم رکھا اس کے بعد حکومتوں کی باہمی مخالفت سے زیادہ مقامی آبادی کے اندر فسادات اور جھگڑے شروع ہوئے قبائلی ملک زمین اور جاگیررکھتا تھا اس کی قومیت تھی وہ لوگوں کو جانتا اور پہچانتا تھا 1978ء میں انقلاب ثور کے بعد ملک کی جگہ قوماندان نے لے لی اس کی نہ قوم ہے نہ اس کا قبیلہ ہے نہ اس کا حسب نسب ہے نہ اُس کی کوئی زمین اور جاگیر ہے اُس کے پاس دولت ہے اسلحہ ہے وہ دڑ ،خوف اور دہشت کی علامت ہے اس لئے قبائل کے معاشرے کے بنیادیں ہلا دی گئیں سرحد کے دونوں اطراف میں نئے لوگ وارد ہوئے جولائی 1978 ء میں ایسی فیکڑیاں لگائی گئیں جہاں کوکنار کے پھول کو سفید پاوڈر میں تبدیل کیا جانے لگا اور ’’نار کو ڈالر ‘‘کا زیر زمین کاروبار غیر ملکیوں کے ہاتھوں شروع ہوا یہ تاریخ نہیں زمانہ حال کا واقعہ ہے لواڑ گئی ،علی مسجد ،شاگئی اور جمرود میں اس کے گواہ ہزاروں کی تعداد میں زندہیں آج آپ کو چمن سے لیکر طورخم تک دو شکایتیں سننے کو ملتی ہیں پاکستانی کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین نے ہمارے کاروبار،روزگار اور معاشرتی ڈھانچے کو بر باد کر دیا دوسری طرف افغانیوں کی شکا یت یہ ہے کہ 1978 ء میں ثور انقلاب سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی پاکستانیوں نے سبز باغ دکھا کر ہمیں گھروں سے نکالا اپنے مخصوص ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں مہاجر کر کے دربد ر کیا مہاجر ت کے دوران 500غریب لوگوں کو ارب پتی بنا یا گیا 60 لاکھ کو پاکستان میں اور 40لاکھ کو ایران ،بھارت ،امریکہ وغیرہ میں در بدر کیا گیا آج افغانیوں کے جو بچے کراچی ،لاہور ،آگرہ ،جالندھر ،آمریکہ ،برطانیہ ،فرانس اور عرب ملکوں میں پل کر جوان ہوئے وہ اپنی زبان ،اپنی شناخت اور اپنی تہذیب و ثقافت سے بیگانہ ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج افغانستان کی 4کروڑ آبادی میں پاکستان کا ایک بھی دوست نہیں طور خم سے چمن تک پاک افغان سرحد کو بار بار بند کرنا حکومت پاکستان کی مجبوری ہے کیونکہ سرحد کھلنے سے دہشت گر د ی میں اضافہ ہوتا ہے سکیورٹی ہر حکومت کی پہلی ترجیح ہوتی ہے 1970 ء کے عشرے میں عوامی نیشنل پارٹی پاک افغان سرحد کھولنے کے حق میں مظاہر ہ کرتی تھی گذشتہ 40 سالوں میں اس پارٹی کواتنا تنگ کیا گیا کہ اب یہ پارٹی بھی پاک افغان سرحد بند کرنے کے حق میں ہے مسئلے کا حل یہ ہے کہ جمی کارٹر ،رونالڈ ریگن ،ضیاء الحق اور انکے ہم عصر حکام نے پاک افغان سرحدوں پر جو نا گوار مسائل پیدا کئے تھے ان مسائل کا دروازہ بند کیا جائے اور 1978 ء سے پہلے کے حالات کو جوں کا تون بحال کیا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى