اے ایم خانتازہ ترین

پس وپیش ………حکومتی سرپرستی کی ضرورت

……………….تحریر : اے ایم خان

Advertisements

ایک رائے کے مطابق زبان کی نمو ۳۰ ہزار سال (ق م) قبل شروع ہوئی تھی ۔ زمانہ قدیم میں لوگ اور علاقے اگر ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود بھی دور ہوا کرتے تھے۔ اِس اجنبیت کے کئی ایک وجوہا ت میں ایک اہم وجہ زبان کی رکاوٹ بھی تھی ۔ ایک طرف زبان لوگوں کا آپس میں قرب اور رابطے کا ذریعہ تھا تو دوسری طرف یہ لوگوں کے مابیں خلاء کا بھی وجہ ہوا کرتا تھا، جوکہ آج بھی ہے۔ اُس زمانے میں زیادہ تر علاقوں اور براعظموں میں زمینی اور سمندری رابطہ (آن لائن رابط جوکہ موجودہ وقت کا مظہر ہے) نہ ہونے کے برابر ہوا کرتا تھا۔ بعد میں ضروریات اور مفادات نے علاقوں اور یہاں تک کہ براعظموں کے مابیں رابطے کو تقویت دی، اورمختلف زبانون کا آپس میں انٹریکشن بھی اِس کے ساتھ شروع ہوا جس سے کئی ایک زبانیں بھی وجود میں آئے۔ وہ علاقہ یا وادی جس کا اپنا منفرد زبان ، رہنے کے طور طریقے ، ثقا فت اور اقدار ہوا کرتے تھے، جولوگوں کا آپس میں روابط بڑھنے سے دوسرے زبانون اور کلچرز سے مکس (mix)، ضم (assimilate) اور تبدیل(modified) ہوتے رہے۔ وقت کے ساتھ یہ کشمکش اب بھی جاری ہے۔
ماہر ین اب تک اِس بات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر چُکے ہیں کہ مادری زبان نفسیاتی تنوع، زباندانی اور سیکھنے کیلئے کتنا اہم ہے ،لیکن ماہر نفسیا ت اِس بات پر متفق ہیں کہ ایک بچے کے ساتھ بات کرتے وقت زبان کا اظہا او محتاط الفاظ کا استعمال بچے کی شخصیت اور نفسیات پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ موجودہ تحقیق اِس فلسفے کی تائید بھی کرتی ہے کہ بچوں میں سیکھنے کا عمل بہترا ور دیرپا کرنے میں اُسکے مادری زبان میں پڑھانا موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرتعلیم مادری زبان میں ہوجاتا ہے توبچہ زبان سیکھنے کے بجائے اپنے مادری زبان میں نئے چیزیں اور تصورات سیکھ لیتاہے۔ مادری زبان میں تعلیم بچے کو کمرہ جماعت میں نئے تصورات کی سمجھ، خود اعتمادی،عزت نفس، اور علمی کامیابی کیلئے کلید تصور کیاجاتاہے۔ بچہ آسانی سے کلاس، دوستوں، فیملی اور معاشرے سے سیکھنا، اور ساتھ معاشرے میں رہنے کے اقدار ، اپنے ثقافت اور ورثے سے منسلک رہنے کا سلیقہ بھی سیکھ لیتا ہے۔ آج ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے ایلمینڑی اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا محمد عاطف خان نے یہ اعلان کیا کہ ’’ خیبر پختونخوا علاقائی زبانون یعنی سرائیکی ، ہندکو اور کہوار زبان کو سرکاری سکولوں میں نئے تعلیمی سال جوکہ اِس سال ماہ اپریل کو شروع ہوتا ہے، متعارف کرنے والا پاکستان کا پہلا صوبہ ہوگا‘‘۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاقائی زبانون میں تعلیم اور کثیر اللثان تعلیم کے فلسفے کو صوبے میں متعارف کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کا مادری زبان کے عالمی دِن پر اِس سال کا تھیم Towards Sustainable Futures through Multilingual Education تھا ، بھی کثیر اللثانی تعلیم پر مرکوز ہونے کے ساتھ اِس بات پر توجہ دیتی ہے کہ چھوٹے اور مقامی زبانیں ثقافت، اقدار، اور روایتی علم وہنر کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جب یہ کام ہو جاتا ہے تو یہ ایک دیرپا مستقبل کی ضمانت ہوسکتی ہے۔
عالمگیریت کے کئی ایک فائدے ہیں لیکن اُن کے نقصانات میں سب سے بڑا نقصان جو دُنیا میں علاقائی زبانوں کو لاحق ہے ، وہ تشویش کا باعث ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دُنیا میں 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں 516 زبانوں کو مردہ (death languages) کہا جاتاہے۔ یو نیسکو کے ایک رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا، کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں 27 کے قریب زبانیں ختم یعنی معدوم ہونے کے قریب ہیں۔ریاست پاکستان میں قومی زبان یعنی اُردو کے علاوہ بڑی زبانیں: پنجابی، سندھی ، بلوچی، پشتو، اور سرائیکی تو محفوظ ہو چُکے ہیں،کے علاوہ تقریباً 30 زبانیں جوکہ صرف خیبر پختونخوا میں بولی جاتی ہیں کو بھی محفوظ کرنے کی آشد ضرورت محسو س کی جارہی ہے۔ علاقائی زبانوں کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخو ا کے سرکاری ویب سائٹ میں اندراج دیکھنے کو ملتے ہے لیکن تفصیلی ریکارڈ ڈیٹا بیس میں موجود نہیں، جوکہ حکومتی عدم توجہی اور اُن زبانو ن کے بولنے والوں کیلئے بد قسمتی کی بات ہے۔ ہمارے لئے اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ماہر ین کے مطابق اُن زبانون کا 1/5 حصہ چند سالوں میں غائب ہونے کا خطرہ واضح نظر آرہی ہے۔معدومیت کے خطرسے سے دوچار زبانوں میں چترال میں بولے جانیوالا یدغا (جوکہ چترال کے پرابیگ میں بولا جاتا ہے ) پاکستان میں بولے جانے والے علاقائی اُن ۲۳ زبانوں میں ایک ہے۔ رپورٹ کے مطابق اِس کے بولنے والے مقامی لوگ 2 ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ نہ صرف یدغا بلکہ چترال میں بولی جانیوالی زبان اُوشوجو، گاورو، کلاشا،گوربتی اور بدیشی کو بھی معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ محققین کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لوگ اپنے زبانوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور اِس وجہ سے اپنے زبانوں پر کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک اپنے زبانوں کی ترقی اور تحفظ پر کام کرتے ہیں ۔ ایک رائے یہ بھی ہوسکتاہے گوکہ حکومت اور غیر سرکاری اداروں کی عدم توجہی ایک طرف ،علاقائی زبانون کے بولنے والے لوگ بھی شاید اپنے زبان کو محفوظ اور ترقی دینے پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں کئی علاقائی زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار، یا اپنی زندگی کے کم ہونے والے دِن اِ سکے استعمال کرنے والے لوگوں کے حساب سے گن رہے ہیں۔اِس سال 21 فروری کو چترال میں بھی مادری زبانون کا دِن منایا گیا۔ چترال میں بولے جانے والے 14 زبانون میں سے چھ یا سات زبانون کی نمائندگی دیکھنے میں آئی۔ چترال میں باقی ماندہ علاقائی زبانین حسب روایت ’’دیگر‘‘ کے خانے میں تو نہیں آگئے، جسطرح مردم شماری میں مشہور زمانہ ’’دیگر‘‘ کا خانہ کئی ایک علاقائی زبانون اور لوگوں کیلئے مختص ہے؟ وقت کی ضرورت یہ ہے ’’دیگر‘‘ کا یہ خانہ ختم ہونا چاہیے ۔ جس طرح ایک مذہبی اکثریت یا اقلیت ، یا ایک خاص زبان بولنے والوں کا حتمی شمار ضروری ہے تو حکومت کو ’’دیگر‘‘ کا خانہ ختم کرکے ’’دیگر‘‘ خانے آنیوالا مردم شماری میں اُن لوگوں اور زبانون کیلئے رکھنا ہوگا تاکہ اُن کا پورا معلومات اور شمار حاصل ہو سکے۔ اقوام متحدہ اور کئی دوسرے اِدارے دُنیا اور پاکستان میں علاقائی زبانوں کے تحفظ اور ترقی پر کام کررہے ہیں، اور فنڈ بھی دے رہے ہیں ،کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی زبانون کو معدویت سے بچایا جاسکے۔ چترال میں کہوار پر لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے کافی کام ہوچُکا ہے ، پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ کہوار زبان میں تعلیم کو کامیاب بنایا جاسکے۔اِ س کام کو بخوبی سرانجام دینے کیلئے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اگر مقامی زبانوں کے تحفظ اور اندراج پر کوئی توجہ دے رہی ہے تو مردم شماری جوکہ اِس سال ہونے والا ہے ، اِس میں زبانو ں کے اندراج کیلئے خانے چھوڑ دینے ہونگے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس زبان کے بولنے والے کتنے لوگ ہیں ، اور کتنے باقی رہ گئے ہیں۔ اِس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ کسی بھی کمیونٹی اور زبان کے حوالے سے حکومت پالیسی تیار کرنا مقصود ہو تو یہ معلومات کام آسکتے ہیں۔پاکستان میں بولے جانے والے بڑے زبانون کے علاوہ دوسرے علاقائی زبانون کیلئے ’’دیگر ‘‘ کا خانہ رکھنا اُن زبانون کو اہمیت نہ دینے ، اور حکومتی عدم توجہی کا واضح ثبوت ہے۔صوبائی حکومت کہوار زبان میں تعلیم کو سرکاری اسکولوں میں متعارف کرنے کا اعلان کرچُکا ہے ۔ اِس عمل میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ کہوار زبان کو پڑھانے کیلئے ٹیچرز کو بھی ٹرین کرنا ہوگا تاکہ حکومت کا یہ پلان کامیاب ہو سکے۔ جس طرح انگلش ، اُردو یا کوئی دوسرے زبان کو سیکھانے کا طریقہ ٹیچرز کو سیکھایا جاتا ہے ، کہوار پڑھانے والے ٹیچرز کو زبان سیکھانے کیلئے پہلے ٹرین کرنا پڑے گا تاکہ وہ زبان سیکھانے کے جدید طریقوں کے مطابق اپنا کام کرسکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى