
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے زیر انتظام ” اعلیٰ تعلیم ۔ رسائی اور معیار” کے عنوان پر منعقدہ دوروزہ ورکشاپ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تعلیم ہی واحد خزانہ ہے جسے گھر گھر تک پہنچاکر امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کیا جا سکتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے سسٹم میں جان بوجھ کر دوہرے نظام تعلیم کو فروغ دیا گیا تاکہ غلام ہمیشہ غلا م ہی رہے ۔ ہمارے ملک کے ترقیافتہ دُنیا کے مقابلے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ بھی یہ دوہرا اور غیر معیاری تعلیمی نظام ہے جس پر کبھی توجہ نہ دی گئی۔ ان کی حکومت امیر اور غریب کو تعلیم کے
یکساں اور معیاری مواقع دینے کیلئے کوشاں ہے۔ مجموعی بجٹ کا 28 فیصد یعنی 500 ارب روپے کے مجموعی بجٹ سے 150 ارب روپے تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں ۔ پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کردیا ہے۔ نئے ایکٹ کے تحت یونیورسٹیز کو جوابدہ بنایا گیا ہے۔ ہم کالجز کو بھی خود مختاری دینے پر کام کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم تک یکساں رسائی اور معیار کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں ماہرین کی تجاویز و سفارشات پر عمل درآمد کی بھر پور کوشش کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے زیر انتظام ” اعلیٰ تعلیم ۔ رسائی اور معیار” کے عنوان پر منعقدہ دوروزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی اور سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید ظفر علی شاہ نے بھی ورکشاپ سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے معیاری نظام تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہماری تنزلی کی بنیادی وجہ ہمارا کمزور تعلیمی نظام ہے ۔ کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ تعلیمی اداروں کا حال اور معیار کیا ہے۔ بحیثیت قوم ہمارے لئے انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہماری ایک یونیورسٹی بھی دُنیاکی 500 معیاری یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ ہمیں اس پہلو پر سوچنا ہو گا۔ صرف عمارتیں بنا دینا کارنامہ نہیں ہے بلکہ اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں لانا اصل کارنامہ ہے۔ تعلیم ایک ایساقیمتی خزانہ ہے کہ دُنیا میں جس نے بھی اس خزانے کو صحیح طریقے سے استعمال کیا اس کو بہترین نتائج ملے ہیں اور جس نے اس خزانے کی قدر نہ کی ناکامی اس کا مقدر بن گئی ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی جماعتیں حکومت میں آنے کے بعد سوچنا شروع کرتی ہیں جبکہ ہم حکومت میں آنے سے دو سال قبل اصلاحات پر ہوم ورک کر چکے تھے ۔ہم نے مکمل منصوبہ بندی کرلی تھی کہ اداروں کو کس طرح ڈیلیور کرنے کے قابل بنانا ہے ۔اُن کی حکومت عوام سے کئے گئے تبدیلی کے وعدے پر سو فیصد عمل پیرا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں بنیادی تعلیم پر کبھی توجہ نہ دی گئی کسی نے نہیں سوچا کہ سکولوں میں اساتذہ موجود ہیں یا نہیں کسی نے توجہ نہیں دی کہ سکولوں میں تعلیم کا معیار اور نتائج کیا ہیں۔ اُن کی حکومت بنیادی تعلیم پر بھر پور توجہ دے رہی ہے۔اس ملک میں غریبوں کے ساتھ بڑا ظلم ہوتا آیا ہے ہمارے سرکاری سکولوں سے آنے والے بچے کالجز میں مقابلہ نہیں کر سکتے حالانکہ غریب عوام کے بچوں کا بھی حق ہے کہ اُنہیں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق معیار ی تعلیم دی جائے ۔10 سال اُردو میں پڑھنے والے بچے جب کالج میں جا کر انگلش میڈیم کا سامنا کرتے ہیں تو وہ امیروں کے بچوں کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے سرکاری سکولوں میں پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کیا ہے جب یہ بچے آگے جا کر کالجز میں آئیں گے تو امیر کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے ادارے بجٹ کے اندر رہ کر کام نہیں کر رہے تھے جہاں 10 افراد کی ضرورت تھی وہاں 100 بھرتیاں عمل میں لائی گئیں ۔اداروں پر بوجھ بڑھتا گیا مگر نتیجہ صفر رہا ۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں وائس چانسلرزاور پرنسپلز کی بھرتیاں بھی سیاسی بنیادوں پر کی گئیں جب اتنی اہم پوسٹوں پر سفارشی لوگ آئیں گے تو پھر وہ نتائج کیسے دے سکتے ہیں۔ اُن کی حکومت نے بھرتیوں اور تعیناتیوں کا یہ سفارشی سلسلہ ختم کیا ۔اب پرنسپل اور وائس چانسلرز میرٹ کی بنیاد پر تعینات ہو رہے ہیں۔ پی ٹی سی سے لیکر نیچے تک این ٹی ایس جبکہ کالجز میں ایٹا کے ذریعے میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنا رہے ہیں۔ ہم نے اساتذہ کی پروموشن کو نتائج سے منسلک کیا ہے جو نتیجہ دکھائے گا اُسی کو ترقی ملے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سیاسی لوگ صرف اپنے ووٹ کیلئے بھرتیاں کرتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے اس کلچر کا خاتمہ کیا ۔ قابل اور اہل امیدواروں کو آگے لانے کیلئے ایک سسٹم وضع کیا کیونکہ ہمیں بہترین لوگ چاہئیں جو اس صوبے کو آگے لے جا سکیں۔ ہم اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہماری توجہ سسٹم اور اداروں کو ٹھیک کرنے پر مرکوز ہے۔ پرویز خٹک نے کہاکہ وہ ایک وقت نا اُمید ہو چکے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔تحریک انصاف میں آنے کے بعد عمران خان کے پروگرام کو دیکھ کر ایک نئی اُمید پیداہوئی ۔عمران خان کے ویژن کے مطابق سسٹم کو ٹھیک کرنے پر کام شروع کیا۔ قومی ترقی اور بہتری کیلئے چار بنیادی عوامل پر خصوصی توجہ دی سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا ، اداروں کو با اختیار اور فعال بنایا ، کرپشن کو زیر و لیول پر لانے اور شفافیت کیلئے قابل عمل اصلاحات کیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صحت اور تعلیم ہماری شروع دن سے اولین ترجیحات رہے ہیں۔میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوٹ کا قانون پاس کرکے ہسپتالوں کو خود مختاری دی ۔ون لائن بجٹ دے رہے ہیں۔لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مکمل اختیارات اور وسائل دیئے ۔صوبائی محکموں میں آزاد اور بااختیار بورڈ بنارہے ہیں۔ ہمارا کام قانون بنانا ، اداروں کو فعال کرنا اور پھر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے جبکہ ماضی میں قانون بنانے والے خود ہی قانون توڑتے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب پورے صوبے میں سو فیصد ڈاکٹرز اور اساتذہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہسپتال ڈاکٹرز کیلئے ، سکول اساتذہ کیلئے اور تھانے پولیس کیلئے بنائے گئے ہیں۔باقی سب اداروں کا بھی یہی حال تھا اور جس غریب عوام کو ڈیلیور کرنے کیلئے یہ ادارے بنائے گئے اُن کا اس سسٹم میں کوئی حصہ نہیں تھا یہ ایک عجیب و غریب معاملہ تھا جس کی وجہ سے غریب کا اعتماد ان اداروں سے اُٹھ چکا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت کے ادارہ جاتی اصلاحات ، میرٹ ، قانون کی بالادستی اور شفافیت کی وجہ سے اب ادارے ڈیلیور کررہے ہیں۔ عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے ۔وزیراعلیٰ نے ورکشاپ کے شرکاء سے کہاکہ وہ سسٹم میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کریں اور بہتری کیلئے تجاویز دیں۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ماہرین قابل عمل تجاویز دیں گے اور یقین دلایا کہ عوام کی فلاح اور قومی ترقی کیلئے دی گئی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
