تازہ ترین

سو سالہ محمد بھٹی شاہ بابا تین ہفتوں سے حکومتی امداد کا منتظر برفانی تودے تلے دب کر اس کے دو مکانات تباہ۔امداد بروقت پہنچائی گئی تھی اور امدادی چیک بھی اُسے بہت جلدملےگا ۔اے اے سی مظہرعلی شاہ

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے گرم چشمہ روڈ پر موغ کے مقام پر سو سالہ بھٹی شاہ با با کا مکان پانچ فروری کو برفانی تودے کی ضد میں آکر تباہ ہوا تھا تاہم گھر کے مکین اس سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔Image may contain: 2 people, people standing, child and outdoor مقامی رضاکاروں نے ان کے گھر سے جب ملبہ ہٹایا تو پتہ چلا کا گھر کا چھت مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔اوریہ مکان دوبارہ رہائش کا قابل ہی نہیں۔ بھٹی شاہ با با کا کہنا ہے کہ وہ خود تو انتہائی ضعیف ہے اور چل پھرنے کا قابل نہیں مگر اپنے رشتہ داروں کو اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر بھیجا تاکہ وہ کسی تحصیلدار کو یہاں بھیج کر نقصانا ت کا جائزہ لے اور حکومت ہمیں معاوضہ دے مگر تحصیلدار نے پہلے تو ہم سے گاڑی مانگی اور جب گاڑی ان کو فراہم کرائی گئی تو پھر دو دن بعد آنے کا کہہ کر غائب ہوا اور ابھی تک کسی نے ہمارا حال تک نہیں پوچھا اور نہ ہی کوئی امداد کیا ہے حتیٰ کہ ہمیں کوئی ٹینٹ بھی نہیں دیا گیا جس میں ہم اپنا سر چھپائے۔انہوں نے کہا کہ وہ رشتہ داروں کے گھر رہنے پر مجبور ہے جن کا مکان تنگ ہونے سے ان کو بھی تکلیف ہے اور گھر کے مالک کو بھی ۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کے دعویدار حکومت نے ابھی تک ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہمارے بچے در بدر ٹوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ گھر کا سامان ٹراؤٹ فش فارم میں رکھا ہے جو پچھلے پانچ سالوں سے بند پڑا ہے۔
بابا بھٹی شاہ نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کے افسران اثر رسوخ والوں کے پاس تو جلدی جاتے ہیں ان کے ساتھ مالی امداد بھی کرتے ہیں مگر مجھ جیسے لاچار لوگوں کا حال تک نہیں پوچھتے میں حیران ہے کہ عمران خان یہ کیسے نیا پاکستان بنا رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اگر صوبائی حکومت ان کے ساتھ مدد نہیں کرسکتا تو وفاقی حکومت ان کے ساتھ مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا تباہ شدہ مکان دوبارہ تعمیر کرے اور ان کے اہل و عیال دوسروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور نہ ہو۔
اس سلسلے میں اے اے سی چترال سید مظہر علی شاہ سے رابطہ کیا گیاImage may contain: 1 person, outdoor تو اُنہوں نےانتظامیہ پر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس بارے میں کہاکہ مذکورہ شخص کو ٹینٹ رضائیاں اور چھٹائیاں بروقت پہنچائی گئی تھی جسے گاوں کے لوگوں نےناکافی قرار دیا جس پر مزید ٹینٹ اور رضائیاں اُن کو آج پہنچائی جائیگی۔اُنہوں نے کہا کہ اُن کے گھر کا اسسمنٹ ہوچکا ہے اور اُن کا ایک لاکھ روپے کا چیک بہت جلد اُسے حوالہ کیا جائیگاایک سوال کے جواب پر اُنہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ یکسان سلوک کررہے ہیں۔کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔