
……………… تحریر بقلم۔۔ ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال………….
تبلیغ دین ایک فرض کفایہ ہے لیکن جب امت مسلمہ کے افراد میں سے دین کا شعور ختم ہونے لگے،اللہ اور اسکے پیارے رسول ﷺ کی محبت کا نور ماند پڑ جائے،جنت کا شوق،جہنم کا خوف اور آخرت کی فکر جیسی بنیادی اور ضروری چیزوں سے مسلمان بالعموم غافل و بے پرواہ ہوجائیں تو ایسے لادینی کے دور میں دعوت تبلیغ فرض عین ہے۔ایسے لادینی کے دور میں دین کی اشاعت کیلئے اللہ کی راہ میں ایک کوڑی بھی خرچ کرنا لاکھوں روپے خرچ کرنے کے برابر ہے۔الحمد للہ اس جذبے سے چنے کی ریڑی سے لیکر زرگری کی دکان تک،عام دفتروں سے لیکر اسمبلی کے ہالوں تک،گھریلو خواتین سے لیکر مدارس کی معلمات تک دعوت وتبلیغ کے نام سے جماعت قریہ قریہ بستی بستی گھر گھر اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔
الحمد للہ ہم سب کا ایمان ہے کہ دونوں جہانوں کی پوری کی پوری کامیابی اللہ تعالیٰ نے پورے دین پر چلنے میں رکھی ہے اس بات کا یقین دلوں میں اتر جائے اور پورا دین زندگی کے ہر شعبے میں زندہ ہوجائے اسکے لئے دعوت الی اللہ کی مبارک محنت ایک عظیم الشان سبب ہے ۔پہلے یہ کام انبیاء کرام ؑ کے ذمہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیبﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرماکر یہ مبارک عمل اس امت کے ہر ہر فرد،مرد،عورت،بوڑھے،بچے،جوان سبھی کے ذمہ لگادیا۔جب تک امت یہ ذمہ داری سمجھتی تھی پوری دنیا میں شان و شوکت تھی،رعب و دبدبہ تھا اور جب سے یہ مبارک عمل چھوٹا،امت پریشانیوں میں گھر گئی۔اب امت کے مسائل کا حل اپنے مقصد اصلی کی طرف لوٹنا اور دعوت الی اللہ کے فریضہ کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہے۔اس کی برکت سے تین بڑے فائدے حاصل ہونگے۔
۱۔جودین زندگیوں میں موجود ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اسکی حفاظت فرمائیں گے۔ ۲۔جو دین مٹ چکا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے زندہ فرمائیں گے۔ ۳۔غیر مسلم اسلام میں فوج در فوج داخل ہونگے۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں،برکتوں،خوشیوں،امن،چین اور سکون کے فیصلے نازل ہونگے اور آخرت میں وہ انعامات ملیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے نہیں اور کسی دل میں خیال تک نہیں گزرا۔
الحمد للہ اسی نسبت سے 5جنوری 2017کو ہماری کمزور جماعت اللہ کے راستے میں نکل گئی اور چترال مرکز سے عمومی تشکیل صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں ہوگئی۔اور ہم 6جنوری کو چترال سے اللہ کا نام لیکر روانہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رائیونڈ مرکز پہنچ گئے۔مرکز میں ہم لوگ تین دن ٹہرے رہے اور ہدایات سننے کے بعد اپنے رخ کی طرف روانہ ہوگئے۔24گھنٹے کی سفر کے بعد ہم حیدرآباد مرکز پہنچ گئے،وہاں ایک دن ٹہرکر ہم اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ضلع ٹنڈومحمد خان حیدرآباد شہر سے 200کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔الحمد للہ ہم وہاں پہنچنے کے بعد ایک چھوٹی سی مسجد میں قیام کیا۔مقامی احباب نے رہنمائی فرمائی تو ہم ایک دن ٹہرنے کے بعد اپنے رُخوں پر چلے گئے۔ہمارے پاس کوئی دس مساجد تھیں جن میں ہم نے لازمی جانا تھا۔المختصر یہ کہ ہم نے دس مساجد میں تبلیغ کا کام کیالیکن کسی مسجد سے کوئی بھی جماعت وصول نہیں ہوسکا۔مساجد کی حالت زار ناگفتہ لب تھے ۔مسجدیں ویران پڑی ہوئی تھیں۔ہم نے گشت کیا لوگوں کو بلایا تو پتہ چلا کہ تین تین چار چار سالوں سے مسجدوں میں آذان نہیں ہوئی تھی۔ایک دو مسجدیں تو ایسی بھی دیکھ لئے کہ بالکل کھلے ہوئے اور اندر کبوتروں کے گھونسلے رکھے ہوئے تھے ،صحن اور برآمدوں میں کتے سوئے پڑے تھے۔الحمد للہ اللہ کے فضل سے ہم نے مسجدوں کی دوبارہ صفائی کی اور تھوڑی بہت تعمیر کی اور آذان دینا شروع کیا۔لوگوں کو بلانا شروع کیا۔یہ علاقہ بالکل پسماندہ تھا۔علاقے میں سکول ،ہسپتال کا ہونا تو دور کی بات،ضروریات زندگی کے اشیاء بھی ندارد تھے۔لوگ بالکل غریب تھے لیکن خلوص کے لحاظ سے مالدار تھے۔محبت والے تھے۔ہماری باتیں بڑے احترام سے سنتے تھے۔اپنی بساط کے مطابق ہمارا اکرام بھی کیا کرتے تھے۔لیکن ان بیچاروں کو دیکھ کر ہمیں ترس آتا تھا کہ یہ خود قابل رحم ہیں۔ان کے ساتھ اگر محنت ہوتا تو ضرور یہ نمازی بنتے،مساجد کو آباد کرتے۔علاقے میں اکثر لوگوں کو کلمہ ہی نہیں آتا تھا۔الحمد للہ ہم نے حتی المقدور لوگوں سے ملے،ان کو کلمہ سکھایا اور نماز کی دعوت دی۔مسجد میں لاکر نماز سکھایا۔اور انہوں نے بھی عہد کرلیا کہ آئندہ ہم اپنی مساجد کو آباد کریں گے۔الحمد للہ اسی طرح ہم نے 33دن صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈومحمد خان میں گزارے۔لیکن 33دن ہم روتے رہے کہ یہ بھی ہمارے بھائی ہیں،یہ بھی امت مسلمہ ہیں۔ان کے بارے میں قیامت کے روز ہم سے پوچھ ہوگی۔تبلیغ کی محنت کا خلاصہ ہی یہی ہے کہ تمام امت مسلمہ جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔تمام عالم انسانیت اللہ کو راضی کرنے والا بن جائے۔قیامت کے دن اگر تمام لوگ جنت میں چلے گئے اور ایک شخص جہنم میں گیا تو اس ایک کے بارے میں سب سے پوچھ ہوگی،اسی طرح اگر تمام لوگ جہنم میں چلے گئے صرف ایک شخص جنت میں چلا گیا تو اس ایک سے بھی پوچھ ہوگی کہ تو نے کیوں ہمارا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔
میرے محترم بھائیو! تبلیغی دعوت میں کام کرنے والے سب لوگوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ تبلیغی جماعتوں کے نکلنے کا مقصد صرف دوسروں کو پہنچانا اور بتانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے سے اپنی اصلاح اور اپنی تعلیم و تربیت بھی مقصود ہے(بلکہ حقیقی مقصد یہ ہے کہ ہماری اصلاح ہو)۔بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بس پہنچا دینے کا نام تبلیغ ہے،یہ بڑی غلط فہمی ہے۔تبلیغ یہ ہے کہ اپنی صلاحیت اور استعداد کی حد تک لوگوں کو دین کی بات اس طرح پہنچائی جائے جس طرح پہنچانے سے لوگوں کے ماننے کی امید ہو۔انبیاء ؑ یہی تعلیم لائے تھے۔تبلیغ کا اصل مقصد طاغوت سے ہٹنا اور اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے اور یہ بِدون قربانی کے نہیں ہوسکتا۔دین میں جان کی بھی قربانی ہے اور مال کی بھی۔سو جان کی قربانی یہ ہے کہ اللہ کے واسطے اپنے وطن کو چھوڑے اور اللہ کے کلمے کو پھیلائے،دین کی اشاعت کرے۔مال کی قربانی یہ ہے کہ سفرِتبلیغ کا خرچ خود برداشت کرے اور جو کسی مجبوری کی وجہ سے کسی زمانے میں خود نہ نکل سکے وہ خصوصیت سے اس زمانے میں دوسروں کو تبلیغ میں نکلنے کی ترغیب دے،اور دوسروں کو بھیجنے کی کوشش کرے،اس طرح الدال علی الخیر کفاعلہ کی بناء پرجتنوں کو یہ بھیجے گا ان سب کی کوششوں کا ثواب اس کوبھی ملے گا۔اور اگر نکلنے والوں کی مالی امداد بھی کریگاتو مالی قربانی کا بھی اس کو ثواب ملے گا۔پھر ان جانے والوں کو اپنا محسن سمجھناچاہئے کہ جو کام ہمارے کرنے کا تھا مگر ہم کسی عذر کی وجہ سے اس وقت نہیں کرسکے تو یہ حضرات ہمارے فرض کو ادا کر رہے ہیں۔دین یہی ہے کہ قاعدین معذورین کو اپنامحسن سمجھیں۔
طبیعت مایوسی کی طرف زیادہ چلتی ہے کیونکہ مایوس ہونے کے بعد آدمی اپنے کو عمل کا ذمہ دار نہیں سمجھتا اور پھر اسے کچھ نہیں کرنا پڑتا۔خوب سمجھ لیں کہ یہ نفس اور شیطان کا بڑا دھوکہ ہے۔
اسباب کی کمی پر نظر ڈال کر مایوس ہوجانا اس بات کی نشانی ہے کہ تم اسباب پرست ہو اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی غیبی طاقتوں پر تمہارا یقین بہت کم ہے۔اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرکے اور ہمت کرکے اٹھو تو اللہ تعالیٰ ہی اسباب مہیا کریں گے،ورنہ آدمی خود کیا کرسکتا ہے۔مگر ہمت اور استطاعت بھر جہد شرط ہے۔
جب کوئی اللہ تعالیٰ کا بندہ کسی امر خیر کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے تو شیطان طرح طرح سے اس کی مزاحمت کرتا ہے اور اسکی راہ میں مشکلات اور رکاوٹیں ڈالتا ہے۔لیکن اگر اس کی یہ مزاحمتیں اور رکاوٹیں ناکام رہتی ہیں اور وہ بندہ خدا ان سب کو عبور کرکے اس کارخیر کو شروع کر ہی دیتا ہے تو پھر شیطان کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے اخلاس اور اس کی نیت میں خرابی ڈال کے یا دوسرے طریقوں سے اس کار خیر میں خود حصہ دار بننا چاہتا ہے یعنی کبھی اس میں ریا دکھلاوے اور شہرت کی خواہش کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اورکبھی دوسرے اغراض کی آمیزش اور ملاوٹ سے اس کی للٰہیت کو برباد کرنا چاہتا ہے اور اس میں وہ بسا اوقات کامیاب ہوجاتا ہے اس لئے دینی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس خطرے سے ہر وقت چوکنا رہیں اور اس قسم کی شیطانی وساوس سے ہروقت اپنے دل کی حفاظت کرتے رہیں اور اپنی نیتوں کا برابر جائزہ لیتے رہیں کیونکہ جس کام میں رضاالٰہی کے علاوہ کوئی دوسرا غرض کسی بھی وقت شامل ہوجائے تو وہ اللہ کے یہاں قبول نہیں۔
یہ مضمون اندازہ سے بہت بڑھ گیا،شروع میں تو مختصر ہی لکھنے کا خیال تھا مگر بے ارادہ طویل ہوتا چلا گیا اور اب اس درجہ تک پہنچ گیا کہ اس کے پڑھنے کی امید بھی کم ہوچلی کہ دینی مضامین پڑھنے کیلئے بھی ہم لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے۔اس لئے دفعتہ ختم کردیا۔حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف و کرم سے اس ناپاک کو بھی جو ہر وقت معاصی اور دنیا ہی میں غرق رہتا ہے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے اور اس ناپاک دنیا سے نفرت کا ذائقہ نصیب فرمائے۔اور تمام امت مسلمہ کو دین کی صحیح حقیقت اور فقاہت نصیب فرمائے۔آمین۔وما علینا الا البلاغ
الحمد للہ ہم سب کا ایمان ہے کہ دونوں جہانوں کی پوری کی پوری کامیابی اللہ تعالیٰ نے پورے دین پر چلنے میں رکھی ہے اس بات کا یقین دلوں میں اتر جائے اور پورا دین زندگی کے ہر شعبے میں زندہ ہوجائے اسکے لئے دعوت الی اللہ کی مبارک محنت ایک عظیم الشان سبب ہے ۔پہلے یہ کام انبیاء کرام ؑ کے ذمہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیبﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرماکر یہ مبارک عمل اس امت کے ہر ہر فرد،مرد،عورت،بوڑھے،بچے،جوان سبھی کے ذمہ لگادیا۔جب تک امت یہ ذمہ داری سمجھتی تھی پوری دنیا میں شان و شوکت تھی،رعب و دبدبہ تھا اور جب سے یہ مبارک عمل چھوٹا،امت پریشانیوں میں گھر گئی۔اب امت کے مسائل کا حل اپنے مقصد اصلی کی طرف لوٹنا اور دعوت الی اللہ کے فریضہ کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہے۔اس کی برکت سے تین بڑے فائدے حاصل ہونگے۔
۱۔جودین زندگیوں میں موجود ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اسکی حفاظت فرمائیں گے۔ ۲۔جو دین مٹ چکا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے زندہ فرمائیں گے۔ ۳۔غیر مسلم اسلام میں فوج در فوج داخل ہونگے۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں،برکتوں،خوشیوں،امن،چین اور سکون کے فیصلے نازل ہونگے اور آخرت میں وہ انعامات ملیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے نہیں اور کسی دل میں خیال تک نہیں گزرا۔
الحمد للہ اسی نسبت سے 5جنوری 2017کو ہماری کمزور جماعت اللہ کے راستے میں نکل گئی اور چترال مرکز سے عمومی تشکیل صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں ہوگئی۔اور ہم 6جنوری کو چترال سے اللہ کا نام لیکر روانہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رائیونڈ مرکز پہنچ گئے۔مرکز میں ہم لوگ تین دن ٹہرے رہے اور ہدایات سننے کے بعد اپنے رخ کی طرف روانہ ہوگئے۔24گھنٹے کی سفر کے بعد ہم حیدرآباد مرکز پہنچ گئے،وہاں ایک دن ٹہرکر ہم اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ضلع ٹنڈومحمد خان حیدرآباد شہر سے 200کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔الحمد للہ ہم وہاں پہنچنے کے بعد ایک چھوٹی سی مسجد میں قیام کیا۔مقامی احباب نے رہنمائی فرمائی تو ہم ایک دن ٹہرنے کے بعد اپنے رُخوں پر چلے گئے۔ہمارے پاس کوئی دس مساجد تھیں جن میں ہم نے لازمی جانا تھا۔المختصر یہ کہ ہم نے دس مساجد میں تبلیغ کا کام کیالیکن کسی مسجد سے کوئی بھی جماعت وصول نہیں ہوسکا۔مساجد کی حالت زار ناگفتہ لب تھے ۔مسجدیں ویران پڑی ہوئی تھیں۔ہم نے گشت کیا لوگوں کو بلایا تو پتہ چلا کہ تین تین چار چار سالوں سے مسجدوں میں آذان نہیں ہوئی تھی۔ایک دو مسجدیں تو ایسی بھی دیکھ لئے کہ بالکل کھلے ہوئے اور اندر کبوتروں کے گھونسلے رکھے ہوئے تھے ،صحن اور برآمدوں میں کتے سوئے پڑے تھے۔الحمد للہ اللہ کے فضل سے ہم نے مسجدوں کی دوبارہ صفائی کی اور تھوڑی بہت تعمیر کی اور آذان دینا شروع کیا۔لوگوں کو بلانا شروع کیا۔یہ علاقہ بالکل پسماندہ تھا۔علاقے میں سکول ،ہسپتال کا ہونا تو دور کی بات،ضروریات زندگی کے اشیاء بھی ندارد تھے۔لوگ بالکل غریب تھے لیکن خلوص کے لحاظ سے مالدار تھے۔محبت والے تھے۔ہماری باتیں بڑے احترام سے سنتے تھے۔اپنی بساط کے مطابق ہمارا اکرام بھی کیا کرتے تھے۔لیکن ان بیچاروں کو دیکھ کر ہمیں ترس آتا تھا کہ یہ خود قابل رحم ہیں۔ان کے ساتھ اگر محنت ہوتا تو ضرور یہ نمازی بنتے،مساجد کو آباد کرتے۔علاقے میں اکثر لوگوں کو کلمہ ہی نہیں آتا تھا۔الحمد للہ ہم نے حتی المقدور لوگوں سے ملے،ان کو کلمہ سکھایا اور نماز کی دعوت دی۔مسجد میں لاکر نماز سکھایا۔اور انہوں نے بھی عہد کرلیا کہ آئندہ ہم اپنی مساجد کو آباد کریں گے۔الحمد للہ اسی طرح ہم نے 33دن صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈومحمد خان میں گزارے۔لیکن 33دن ہم روتے رہے کہ یہ بھی ہمارے بھائی ہیں،یہ بھی امت مسلمہ ہیں۔ان کے بارے میں قیامت کے روز ہم سے پوچھ ہوگی۔تبلیغ کی محنت کا خلاصہ ہی یہی ہے کہ تمام امت مسلمہ جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔تمام عالم انسانیت اللہ کو راضی کرنے والا بن جائے۔قیامت کے دن اگر تمام لوگ جنت میں چلے گئے اور ایک شخص جہنم میں گیا تو اس ایک کے بارے میں سب سے پوچھ ہوگی،اسی طرح اگر تمام لوگ جہنم میں چلے گئے صرف ایک شخص جنت میں چلا گیا تو اس ایک سے بھی پوچھ ہوگی کہ تو نے کیوں ہمارا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔
میرے محترم بھائیو! تبلیغی دعوت میں کام کرنے والے سب لوگوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ تبلیغی جماعتوں کے نکلنے کا مقصد صرف دوسروں کو پہنچانا اور بتانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے سے اپنی اصلاح اور اپنی تعلیم و تربیت بھی مقصود ہے(بلکہ حقیقی مقصد یہ ہے کہ ہماری اصلاح ہو)۔بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بس پہنچا دینے کا نام تبلیغ ہے،یہ بڑی غلط فہمی ہے۔تبلیغ یہ ہے کہ اپنی صلاحیت اور استعداد کی حد تک لوگوں کو دین کی بات اس طرح پہنچائی جائے جس طرح پہنچانے سے لوگوں کے ماننے کی امید ہو۔انبیاء ؑ یہی تعلیم لائے تھے۔تبلیغ کا اصل مقصد طاغوت سے ہٹنا اور اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے اور یہ بِدون قربانی کے نہیں ہوسکتا۔دین میں جان کی بھی قربانی ہے اور مال کی بھی۔سو جان کی قربانی یہ ہے کہ اللہ کے واسطے اپنے وطن کو چھوڑے اور اللہ کے کلمے کو پھیلائے،دین کی اشاعت کرے۔مال کی قربانی یہ ہے کہ سفرِتبلیغ کا خرچ خود برداشت کرے اور جو کسی مجبوری کی وجہ سے کسی زمانے میں خود نہ نکل سکے وہ خصوصیت سے اس زمانے میں دوسروں کو تبلیغ میں نکلنے کی ترغیب دے،اور دوسروں کو بھیجنے کی کوشش کرے،اس طرح الدال علی الخیر کفاعلہ کی بناء پرجتنوں کو یہ بھیجے گا ان سب کی کوششوں کا ثواب اس کوبھی ملے گا۔اور اگر نکلنے والوں کی مالی امداد بھی کریگاتو مالی قربانی کا بھی اس کو ثواب ملے گا۔پھر ان جانے والوں کو اپنا محسن سمجھناچاہئے کہ جو کام ہمارے کرنے کا تھا مگر ہم کسی عذر کی وجہ سے اس وقت نہیں کرسکے تو یہ حضرات ہمارے فرض کو ادا کر رہے ہیں۔دین یہی ہے کہ قاعدین معذورین کو اپنامحسن سمجھیں۔
طبیعت مایوسی کی طرف زیادہ چلتی ہے کیونکہ مایوس ہونے کے بعد آدمی اپنے کو عمل کا ذمہ دار نہیں سمجھتا اور پھر اسے کچھ نہیں کرنا پڑتا۔خوب سمجھ لیں کہ یہ نفس اور شیطان کا بڑا دھوکہ ہے۔
اسباب کی کمی پر نظر ڈال کر مایوس ہوجانا اس بات کی نشانی ہے کہ تم اسباب پرست ہو اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی غیبی طاقتوں پر تمہارا یقین بہت کم ہے۔اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرکے اور ہمت کرکے اٹھو تو اللہ تعالیٰ ہی اسباب مہیا کریں گے،ورنہ آدمی خود کیا کرسکتا ہے۔مگر ہمت اور استطاعت بھر جہد شرط ہے۔
جب کوئی اللہ تعالیٰ کا بندہ کسی امر خیر کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے تو شیطان طرح طرح سے اس کی مزاحمت کرتا ہے اور اسکی راہ میں مشکلات اور رکاوٹیں ڈالتا ہے۔لیکن اگر اس کی یہ مزاحمتیں اور رکاوٹیں ناکام رہتی ہیں اور وہ بندہ خدا ان سب کو عبور کرکے اس کارخیر کو شروع کر ہی دیتا ہے تو پھر شیطان کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے اخلاس اور اس کی نیت میں خرابی ڈال کے یا دوسرے طریقوں سے اس کار خیر میں خود حصہ دار بننا چاہتا ہے یعنی کبھی اس میں ریا دکھلاوے اور شہرت کی خواہش کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اورکبھی دوسرے اغراض کی آمیزش اور ملاوٹ سے اس کی للٰہیت کو برباد کرنا چاہتا ہے اور اس میں وہ بسا اوقات کامیاب ہوجاتا ہے اس لئے دینی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس خطرے سے ہر وقت چوکنا رہیں اور اس قسم کی شیطانی وساوس سے ہروقت اپنے دل کی حفاظت کرتے رہیں اور اپنی نیتوں کا برابر جائزہ لیتے رہیں کیونکہ جس کام میں رضاالٰہی کے علاوہ کوئی دوسرا غرض کسی بھی وقت شامل ہوجائے تو وہ اللہ کے یہاں قبول نہیں۔
یہ مضمون اندازہ سے بہت بڑھ گیا،شروع میں تو مختصر ہی لکھنے کا خیال تھا مگر بے ارادہ طویل ہوتا چلا گیا اور اب اس درجہ تک پہنچ گیا کہ اس کے پڑھنے کی امید بھی کم ہوچلی کہ دینی مضامین پڑھنے کیلئے بھی ہم لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے۔اس لئے دفعتہ ختم کردیا۔حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف و کرم سے اس ناپاک کو بھی جو ہر وقت معاصی اور دنیا ہی میں غرق رہتا ہے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے اور اس ناپاک دنیا سے نفرت کا ذائقہ نصیب فرمائے۔اور تمام امت مسلمہ کو دین کی صحیح حقیقت اور فقاہت نصیب فرمائے۔آمین۔وما علینا الا البلاغ
