تازہ ترینحسین احمد فرحت

نفرت کی آگ ۔ ۔ ۔

……………تحریر:  حسین احمد فرحت دروش۔ ………….
اتحاد و اتفاق  ایسی چیز ہے کہ جب تک  کوئی قوم آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہے کوئی بھی  دشمن اسکو نقصان نہیں پہنچا  سکتا ہے _ہمارا ملک پاکستان ایک خاص نظریے کے تحت وجود میں آیا تھا ،ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیاں دے کر اس ملک عظیم کو حاصل کیا تھا، وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی دوسری قوم مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کے مطابق انھیں زندگی گزارنے نہیں دے گی ، اسی سوچ کو لے کر انہوں نے تحریک چلائی، خون کی ندیاں بہائیں ، ماؤں،بہنوں ،بھائیوں اور بزرگوں نے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کئے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے مال و جایئداد بھی قربان ہوے، یہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے حالات و واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں اوروہ الفاظ بھی لہو لہو ہیں_ تب جا کے ہمارا یہ پیارا ملک معرض وجود میں آیاہے، آج آزادی کے کئی سالوں بعد اگر چہ ہم بظاھر آزاد دیکھا ئی دے رہے ہیں مگر افسوس حقیقتا آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں،آخر کیا وجوہات ہیں ،کیوں ہم ریورس گیر پہ ہی گزارا کر رہے ہیں _ کئی وجوہات ہوسکتے ہیں جو ہمیں آگے نہیں جانے دیتے ہیں،مغرب اگر آج ترقی یافتہ ہونے کا دعوا کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیوں وہ ہمار سے آگے ہیں ، اس سوال کا جواب بھی بڑا آسان ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ،ہر طبقہ فکر کے لوگ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دیتے بلکہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں ، یہ بات بھی اگرچہ قابل توجہ  ہے کہ ہم ہر بار مغربی ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کیوں کہ ہمارا جدید  نظام تعلیم انہی کا بنایا ہوا ہے، اس کی جگہ ہمیں خاتم النبیین حضرت محمّد صل اللّه علیہ وسلم کے سنہرے دور کی مثالیں دینی چاہیے،انصاف ،مسا وات،صلح رحمی اور ایثا ر کا دور دورہ تھا ،حقدار کو اسکا حق آسانی سے مل جاتا تھا،مگر افسوس کہ ہمارے آج کے اسلامی معاشرے سے یہ صفات نا پید ہوتے جا رہے ہیں،آج سندھی ،بلوچی ،پنجابی اور پٹھان کے درمیان  نفرت کی دیوار بڑھتی جا رہی ہے ،ایک دوسرے کی جاں لینے پے تلے ہوے ہیں ،اگر کوئی بندہ بڑی داڑھی کے نظر آئے تو وہ دہشدگرد کہلاتا ہے،اس کے برخلاف اگر کوئی بندہ کلین شیو کر کے تھر ی پیز سوٹ پہن کے نظر آے وہ جینٹل مین، آج اگر کوئی بندہ کے پی کے سے پنجاب جاتا ہے تو شک کی بنیاد پر پکڑا جاتا ہے اور کوئی پنجابی یہاں آتا ہے تو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،بلوچ بھائیوں کو پس پشت ڈالا جاتا ہے ،سندھی بھائی ایک علحیدہ سوچ رکھتے ہیں ،مختصراً یہ کہ نفرت کی آگ بہت تیزی سے ہر سو پھیل رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن ہم سب اس آگ کی لپیٹ میں آکر بھسم ہو جائیں_ آج ہمیں من حیث القوم اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا ،ہمیں یہ عہد کرنی ہو گی کہ پاکستان کے اندر جو بھی ہو گا جہاں بھی ہو گا وہ ہمارا بھائی ہو گا، ہمیں نفرت کی اس آگ کو پھیلنے سے جلدی روکنا ہو گا ،اس وطن عزیز کو اپنے آنے والے پیاروں کےلیے خوشیوں کا گہوارہ بنانا ہو گا ، آج ہم جس ڈیپارٹمنٹ میں بھی ہوں یہ عہد کریں گے کہ ہم تمام پاکستانیوں کو ایک نگاہ سے دیکھیں ،نسلی ، لسانی اور طبقاتی زنجیروں سے خود کو آزاد کر کے اپنی تمام ترصلاحیتوں اورقوتوں کو ملک عزیز کے لیے قربان کریں۔ تا کہ ہمارا یہ ملک جس عظیم جس مقصد کے لیے بنا تھا اسکو حاصل کر سکیں ۔ ۔ ۔
آج ہمارے پاس کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہیں،وسائل ،طاقت ،ٹیلینٹ سب کچھ ہے ہاں اگر نہیں ہے تو وہ اتفاق و اتحاد کی کمی ہے جو کہ موجودہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے ____
اسئ لیے آیئں آج ہم سب یہ عہد کریں کہ آج سے ہم سندھی ،بلوچی ،پنجابی اور پٹھان نہیں بلکہ ایک قوم ،ایک جاں اور ایک آواز “پاکستان”  بن کر ابریں تا کہ کسی دشمن کو ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنے پے مجبور کرے _
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى