تازہ ترین

پشاور میں موٹروے کو جی ٹی روڈ سے منسلک کرنے والے مختلف فلائی اوورز سمیت چارپلوں کی اصولی منظوری

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے پشاور میں موٹر وے کو جی ٹی روڈ سے منسلک کرنے والے زکوڑی فلائی اوورII، ورسک، ناصر باغ اورپجگی فلائی اوورز، بڈھنی پل جبکہ مردان میں جواد چوک اور کاٹلنگ فلائی اوورزسمیت چارپلوں کی تعمیر کی اصولی منظوری دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں پہلے سے موجود پیٹرن اختیار کیا جائے اور با ضابطہ منظوری کے لئے سمری بھیجی جائے جس میں منصوبوں کا تخمینہ لاگت اور ریٹس کا تعین بھی شامل ہونا چاہئے۔Image may contain: 5 people, people sitting and text انہوں نے مذکورہ منصوبوں کی تعمیر میں درپیش مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنے جبکہ منصوبوں کی کم سے کم وقت میں تکمیل یقینی بنانے کے لئے این ایل سی کے ساتھ معاہدے میں ٹائم لائنز کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر برائے تعمیر و توانائی محمد عاطف خان، مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، کمشنر پشاور، این ایل سی کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی حکومت کے این ایل سی کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا اور اس سلسلے میں متعدد فیصلے کئے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے فلائی اوورز اور پلوں کی تعمیر کے مذکورہ بالا منصوبوں کے تخمینہ لاگت اور دیگر آئٹمزمیں تبدیلیوں کی منطقی توجیہہ کر کے محکمہ مواصلات و تعمیرات اور پی ڈی اے کی طرف سے مشترکہ سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے پشاور، مردان، پبی اور تمام اضلاع کی خوبصورتی کے پلان پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تیز رفتار حکمت عملی کے تحت ترقیاتی عمل نظر آنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پشاور کے اندرون شہر کی سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت کے لئے 220کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔ خوبصورتی کے لئے علیحدہ فنڈز موجود ہیں۔ ان وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے اور کام کی رفتار تیز کی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن میں سڑکیں تقریباً مکمل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی ٹاؤن میں ریلوے ٹریک اور خوبصورتی پر بھی کام کرنا ہے ۔ سڑکوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنی ہیں۔ یہ بھی پشاور کی خوبصورتی کے مجموعی پلان کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے لئے ٹائم لائنز کے تعین اور کام کی رفتار کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تینوں پیکجز کا ٹینڈر 30اپریل تک یقینی بنایا جائے۔پہلے دو پیکجز کا ٹینڈر 15اپریل جبکہ تیسرے پیکج کا ٹینڈر 30اپریل تک جاری ہو جانا چاہئے۔پراجیکٹ کی ایوالویشن 8دنوں میں اور کنٹریکٹ سائٹ پر موبیلائزیشن 15 دنوں میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ایف ڈبلیو او کے شروع کردہ یوٹیلیٹز اور سروس روڈ کی تعمیر نو پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر تعمیری کام کے دوران ٹریفک کا بہاؤ برقرار رکھنے کے لئے متبادل روٹس کا مناسب انتظام یقینی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 40 ارب روپے کی مجوزہ لاگت سے یہ منصوبہ پشاور کی ٹریفک کا کل وقتی حل ہے جو 8روٹس کو باہم مربوط کرے گا۔ یہ تیز رفتاری سے مکمل ہونے والا اپنی نوعیت کا منفرد پراجیکٹ ہو گا جس کو آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔