تازہ ترین

تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے چترال کی سطح پر ایک غیرمعمولی نمایندہ اجلاس کا انعقاد

چترال ( محکم الدین ) تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے چترال کی سطح پر ایک غیرمعمولی نمایندہاجلاس چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں Image may contain: 4 people, people standing and indoorممتاز عالم دین اور دانشور مولانا حسین احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ جس میں مفتیان عظام ، علماء کرام ،ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبدالشکور، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد اور مذہبی پارٹیوں کے ذمہ داروں و مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔Image may contain: 2 people, beard, hat and indoor اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا حسین احمد ، مفتی گل عزیز ، مفتی شفیق احمد اور گلاب خان نے کہا ۔ کہ تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ملک میں قانون موجود ہونے کے باوجود مصلحت پسندی سے کام لینا قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ اس سے فکری انتشار کے حامل افراد کو اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے خلاف اظہار کیلئے مزید شہہ مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مملکت خداداد پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے ۔Image may contain: 5 people, table and indoor لیکن موجودہ وقت میں ملک میں سرگرم عمل کئی این جی اوز اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ذہنی فساد و تضادات پیدا کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ۔ کہ عقیدہ ختم نبوت پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ۔ Image may contain: 3 peopleاور اس حوالے سے کسی بھی کاذب کو قانون کے مطابق سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ تاہم عالمی تحفظ ختم نبوت تنظیم یہ سمجھتی ہے ۔ کہ مسلمانوں کا اس سلسلے میں باہمی اتفاق و اتحاد از بس ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہستی ہیں ۔ جن کا ہر ایک فعل محفوظ کیا گیا ۔ Image may contain: one or more people, people sitting and indoorتاریخ میں کوئی ایسی ہستی نہیں گزری ۔ جس کے تمام ادا ،حرکات و سکنات کو زیب قرطاس کیا گیا ہو ۔ اور یہ صرف محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ رسالت مآبؐ کے وصال کے بعد بے سرو سامانی کی حالت میں مسلمانوں نے نبوت کا دعوی کرنے والے مسلمہ کذاب کے خلاف جو جہاد کیا ۔ ا س سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ۔ کہ عقیدہ ختم نبوت کے سلسلے میں مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ۔ کہ سنی سنائی باتوں کو ہوا دے کر تصادم کی راہ اختیار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ، کہ یورپ ایک طرف آزادی اظہار رائے کی بات کرکے خرافات کے فروغ کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ تو دوسری طرف یہودیوں کی قتل عام یعنی ہولوکاسٹ کے بارے میں اظہار پر پابندی لگا کر خود اپنی آزادی اظہار کی نفی کرتا ہے ۔ یہ درحقیقت اُن کا دوہرا معیار ہے ۔ جسے وہ کبھی اپنے مفادات کے حصول کیلئے اور کبھی ا پنے مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ مولانا حسین احمد نے کہا ۔ کہ تحفط ناموس رسالت کے سلسلے میں چترال بھر کے مساجد میں سیرت کے محافل سجائے جائیں گے ۔ جبکہ کانفرنس اور سیمینار ز کا بھی اہتمام کیا جائے گا ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔