تازہ ترینمضامین

مک مکا….لوکل گورنمنٹ اور جماعت اسلامی کا کردار

: تحریر :اسرار الدین کسانہ…………
چترال ایکسپریس اَن لائن میں 18 فروری 2017 کو لو کل گورنمنٹ چترال کے ایک بہت ہی سنجیدہ ایشو پر جماعت اسلامی چترال کے سابق کونسل ناظم اور جماعت اسلامی خیبر پختونخواکے ناظم مالیات کا دو غلا پن سے بھر پور انداز میں بیوروکریسی کا آڑے ہاتھو ں لینا ،اور چترا ل کے سادہ لوح عوام کو مزید بے قوف بنا نے کی سیاسی ’’ادا ‘‘نے واقعی مجھے قلم اُٹھانے پر مجبور کر دیا پہلے آپ کو بتا تے ہیں کہ محترم شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں ’’کہ لوکل گورنمنٹ چترال کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی طرف سے کنٹر یکٹ کی بنیاد پر اپوائمنٹ شدہ کلاس فور ملازمین ابھی تک تنخواہوں سے محروم ہیں اور اس کے آرڈر فراڈ ثابت ہوئے ،مطالبہ ہے کہ سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ چترال اور اسکے کلر یکل اسٹاف کی طرف سے کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں ہیرا پھیری ،اقربا پروری اور سنگین بے قاعدگیوں کا نوٹس لیا جائے مذکورہ ٹیم کی طرف سے کلاس فور کی مستقل پوسٹو ں میں تو اپنے رشتہ داروں کی بھرتی کی گئی لیکن دوسرے بے بس افراد کو کنٹریکٹ بنیاد پر چودہ ہزار فیکس پے میں جعلی آرڈر تھما کر ان کو ذلیل و خوار کیا گیا اور ان میں سے اکثر ڈیڑھ سالوں سے در پدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور انکو نہ ہی تنخواہیں دی جارہی ہیں اور نہ ہی ان کو قبول کیا جا رہا ہے اور کئی سالوں سے بہت قلیل تنخواہوں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ان کو مستقل کرنے کے بجائے ان کے چودہ ہزار روپے تقسیم در تقسیم کی جارہی ہیں ویلج کونسلوں کے فنڈ سے بھی غیر قانونی طور پر ہاتھ صاف کئے گئے ہیں حکومت صوبہ خیبر پختونخوا کے متعلقہ ذمہ داروں اور خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور عنایت اللہ سے اس سلسلے میں مکمل انکوائری اور مظلومین کی داد رسی کا مطالبہ کیا ہے ‘‘واہ جی واہ کیا بات ہے اس کو کہتے ہیں سیاست اور وہ بھی دین کے نام پر۔ بیوروکریسی کو آڑے ہاتھوں لو ،اور اسی بیوروکریسی کو لیکر عوام کے ساتھ مذاق کرو اور پھر مقامی میڈیا میں آکے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرو اس سے عوام بھی خوش ،بیوروکریسی کے ساتھ پس پردہ ڈیل بھی ہو۔ اسکو کہتے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ،محترم /مکرم اب ہر گز ایسا نہیں چلے گاکیونکہ عوام پہلے سے ذیادہ ہو شیا ر ہو چکے ہیں Progress یعنی کارکردگی لفظوں میں نہیں تحریروں میں نہیں بلکہ Practical ہونا چاہئے اور وہ بھی پورے Hierarchy کے دونوں اطراف تسلسل کے ساتھ ۔انتہائی عاجزانہ اور معصومانہ اندازسے صرف دو سوال کرنے کی جرات اور گستاخی کر سکتا ہوں ؟ جی حضور!پہلا سوال لازمی ہے سوال یہ ہے کہ اکتوبر 2015 ء سے لیکر نومبر 2016 تک آپ کہاں تھے ؟ نومبر 2016 میں آپ نے کلاس فور کی تقرریوں کے سلسلے میں جو دھرنا دیا تھا وہ دھرنا کس شرط پر ختم ہوا تھا؟ دوسرا سوال آپ جما عت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم مالیا ت ہیں لوکل اخبار میں اور وہ بھی چترال جیسے دور افتادہ علاقہ ہو اخباری بیان دیکر کیا چاہتے ہیں حالانکہ آپکی جماعت کے وزیر بلدیات جو کہ میرے نزدیک بلدیات کے نظام میں تباہی اورگھپلوں کی وجہ ہے ان سے چترال کے فکس پے کلاس فور ملازمین کا مسئلہ Discussکیوں نہیں کرتے ؟ جی محترم آپ ایسا ہر گز نہیں کریں گے اگر اس حوالے سے ایسا کوئی معجزہ ہوا بھی تو یقیناکلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں ہیرا پھیری ،اقربا پروری او رسنگین بے قاعدگیوں میں ملوث ایک اور چہرہ اپنے ساتھ کئی چہروں کو لیکر منظر عام پر آئے گا لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ہر گز ایسا نہیں کرینگے کیوں کہ آپ نے سیا ست کرنی ہے اور سیاست میں جو وعدے اور دعوے ہوتے ہیں ان کی عملی عبادت سے کیا تعلق اگر قول وفعل کا تضاد سیاست میں شامل نہیں ہے تو چترال کے بلدیاتی نظام میں اتنے بڑے پیمانے پر اقربا ء پروری اور سنگین بے قاعدگیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا ؟ پہلی بار پورے پاکستان کے چاروں صوبوں میں صرف KPK میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا پرانے یونین کونسلوں کو مزید آبادی کے تنا سب سے نئے ڈھانچے میں تبدیل کیا گیا یونین کونسل کے بجائے ویلج کونسل ،نیبر ہڈ کونسل متعارف کر ایا گیا اسی طرح ضلع چترال کے 24 یونین کونسلوں کو آبادی کے تناسب سے 100ویلج کونسلوں ،نیبر ہڈ کونسلوں میں تبدیل کیا گیا ہر ویلج کونسل کو سابقہ یونین کونسل کے برابر فنڈ ،ناظم کو اختیارات ،ناظم کے دفتری کام نمٹانے کیلئے سکرٹری اور مستقل کلاس فور اپوائمنٹ کیا گیا ۔لیکن یہ الگ بات ہے کہ چترال میں سیکرٹری اور مستقل کلاس فور کی بھرتی کے سلسلے میں سیاسی گیم کھیلا گیا چترال کے 100ویلج کونسل و نیبر ہڈکونسل میں سے 24 یونین کونسلوں کے پہلے سے موجودملازمین کے علاوہ76 نئے سیکرٹری اور اتنے ہی مستقل کلاس فوربھرتی ہونا تھی سیکرٹری کے امیدواروں سے درخواستیں ویلج کونسل کی بنیاد پر لی گئیں تعیناتی پر یونین کونسل کا فارمولہ لاگوکیا گیا ،ٹھیک اسی طرح مستقل کلاس فور ملازمین کے اُوپر بھی یہ طریقہ دہرایا گیا شہر نا پرُ سا ن تھا ایک بنی بنائے بلدیاتی سسٹم کو سیاست کی نذر ہونے میں تھوڑا بھی وقت نہیں لگا اوراب میرے محترم ناظم مالیات جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کو ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد کنٹریکٹ ،کلاس فور ملازمین کا خیال آیا اور اس میں سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو مو رد الزام ٹھہرانے سے پہلے ایک بار بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی۔ محترم سسٹم کو گرانے میں اگر ایک A.D اکیلا ہی کافی ہوتا تو کب آپکی سیاست ختم ہوچکی ہوتی مگر پاکستان میں کوئی بھی ادارہ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا، وجہ یہ ہے کہ ہرDepartment کو دو طرح کی دیمک کا سامنا ہوتا ہے ایک بیوروکریسی اور دوسر ی سیاست لہذا آپ خود سو چیں کہ چترال کے بلدیاتی نظام کی تباہی میں آپ کس صف میں کھڑے ہیں کچھ تو خدا کا خوف کریں کہ آخر کب تک ہم دو غلا پن کی زندگی گزار تے رہیں اور مخمصوں کا شکارہوتے رہیں الجھنوں کے اس دور کے بارے میں اسی لئے اقبال کہتے ہیں۔
نہ مروت ،نہ محبت نہ خلوص ہے اقبال
میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا انسان ہوکر

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔