تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ……..فیس بُک کلچر

………ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ ……..
آدمی کی حیثیت کا تعین ایک زمانے میں اس کی قابلیت ،ذہانت ، سخا وت ،دولت اورحسب و نسب کے ذریعے ہوتا تھا اب زمانہ بد ل گیا ہے آدمی کی سماجی حیثیت کو فیس بک اکاونٹ کے ذریعے پر کھا اور جانچاجاتا ہے اب یہ انگریزی محاورے کی رو سے سٹیٹس سمبل Status symbol بن گیا ہے پڑھے لکھے معاشرے کے لئے اس میں کوئی خرابی نہیں لیکن ہمارا معاشرہ جہالت پر مبنی معاشرہ ہے اس وجہ سے کئی قباحتوں نے جنم لیا ہے ان قباحتوں کا تدارک نہیں ہو سکتا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ شائستہ ،مہذب اور پڑھے لکھے لوگ فیس بک کو خیر باد کہہ دیں اور سو شل میڈیا یہ وسیع فورم صرف غیر سنجیدہ حلقوں کے لئے مختص ہو کررہ جائے فیس بک پر دوستیاں بھی ہوتی ہیں دشمنیاں بھی جنم لیتی ہیں نہ دوستی حدود کے اندر رہتی ہے نہ دشمنی حدودکی پا بند ہو تی ہے دونوں میں حد سے تجا وہوتا ہے اگر آپ کا فیس بک اکاونٹ ہے تو آپ کے پاس دوستی کی درخواست آتی ہے درخواست بھیجنے والے کا مختصر تعارف ہوتا ہے آپ اس کو دوست بنا لیتے ہیں ’’نہ جان نہ پہچان میں تیر امہمان ‘‘کے مصدا ق وہ آپ کا دوست بن گیا اب وہ کسی کو گالی دے کر آپ کو اس میں شامل کرتا ہے قابل اعترا ض تصویر کے ساتھ آپ کو شامل کر تا ہے جسے فیس بک کی اصطلاح میں ٹیگ کہتے ہیں دو چار ایسی وار داتوں کے بعد آپ اُس شخص کو پہچان لیتے ہیں دوستی ختم کر کے اس کو دوستوں کی فہرست سے نکال دیتے ہیں مگر وہ بد ستور آپ کے ساتھ چمٹا رہتا ہے یا’’چمٹی رہتی ہے ‘‘دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں نیٹ ورک میں داخل ہوتے اور کسی کو دوست بناتے وقت آپ کی نیت ٹھیک ہوتی ہے ایک دوست اگر سنگا پور ،دوبئی یا ہانگ کانگ میں بیٹھا ہے کو اس میں کوئی مضائقہ نہیں مگر کل آپ کے دوست نے کسی نا گوار یا مشکوک سر گرمی کے ساتھ آپ کو ٹیگ کر دیا تو لینے کے دینے پڑجائینگے نیز اگر آپ کسی اہم کام میں مصروف ہیں تو دوستوں کی اوٹ پٹانگ ’’پوسٹوں‘‘پر تبصرہ کرتے کرتے گھنٹے دو گھنٹے ضائع ہو جائینگے اس کا ایک آپشن لائک (Like) دوسراکمنٹ (Comment)اور تیسراشیئر(Share) ہے لائک میں ایسی خرافات آجاتی ہیں کہ خدا کی پناہ !مثلاًمقتول کی خون آلود تصویر ہے 245بندوں نے اس کو لائک کیا ہے آپ سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ لائک کر و لائک پسند کو کہتے ہیں اس میں پسند والی کونسی بات ہے ؟کمنٹ کے آپشن میں 10بندوں نے غلیظ گالیاں دی ہیں آپ اُن گالیوں کے جواب میں کیا کمنٹ دینگے ؟اُن کی سطح پر اتر ینگے یا ان کو نصیحت کرینگے ؟ان کی سطح پر اترنا آپ کے ضمیر پر بوجھ بن جاتا ہے ان کو نصیحت کرنا فضول ہے ایک آدمی کنیڈا ،برطانیہ ،امریکہ یا ملائشیا میں بیٹھا ہے اُس کا کلچر آپ کے کلچر سے مختلف ہے اس کو آپ کیا نصیحت کرینگے ؟ اس طرح فیس بک کی دشمنی بھی عجیب ہے ہماری کتابوں میں آتاتھا کہ ابراہیم لودھی اور شیر شاہ سوری کے درمیاں خونریز جنگ پانی پت کے میدان میں لڑی گئی اب ہماری نئی نسل کے سامنے جو صورت حال ہے وہ یہ کہ فیس بک کی کونسی لڑائی کس کس کے درمیاں لڑی گئی ؟کون جیتا اور کون ہارا ؟اب پانی پت کی جگہ فیس بک کی پہلی لڑائی فیس بک کی دوسری لڑ ائی اور فیس بک کی تیسری لڑائی کا ذکر ہوتا ہے فا تح اور مفتوح کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا کیونکہ فیس بک خیالی دنیا ہے اس میں نہ کوئی فاتح نہ کوئی مفتوح ہے مرزا غالب نے کیا بات کہی!
تھا خیال کو خواب میں تجھ سے معاملہ
کھلی جب آنکھ تو زیاں تھا نہ سود تھا
سب لوگ خیال کے گھوڑوں پر سوا ر ہیں خیالی میدانِ جنگ ہے ایک دوست لکھتا ہے کہ آئن سٹائن مرنے سے پہلے مسلمان ہوا تھا وہ سنی مسلمان تھا دوسرا دوست پوچھتا ہے کہ سنیوں میں دیو بندی تھا یا بریلوی ؟اس پر لڑائی چھڑ جاتی ہے جماعت اسلامی اور تبلیغی جما عت کو درمیان گھسیٹا جاتا ہے اور گھمسان کا ایسا رن پڑتا ہے کہ خد ا کی پناہ! میں نے ایک دوست کے پوسٹ میں 180 غلیظ ترین گالیوں کو دل پر پتھر رکھ کر پڑھا اور اس کو دوستی کے دائرے سے نکال دیا ان فرینڈ کر کے جان چھڑائی مگر ایک سے جان چھڑائی تو دوسرا تیس مار خان آیا وہ پہلے تیس مار خان سے 10گزآگے نکل گیا اس طرح آپ کتنے تیس مار وں کو ’’ان فرینڈ ‘‘کرینگے اور کب تک اس بے مقصد مشق میں مصروف رہینگے ؟فیس بک کلچر یورپ کے پڑھے لکھے معاشرے میں ان کی تہذیب کے لحاظ سے بہت مفید ہے ہمارے جہالت زدہ معاشرے میں ہمارے کلچر کے حساب سے نئی نسل کے لئے ایک چیلنج ہے اب ہم اس کلچر کے نرغے میں آچکے ہیں اس سے جان چھڑانا مشکل ہے اس عقر یت کو قابومیں لانے کیلئے سکولوں ،کالجوں اور گھروں کی سطح پر شعور ،آگہی اور اخلاقیات کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا تاکہ فیس بک کو تعلیم،آگہی ،مسرت ،تفریح اور دیگر مفید مقاصد کیلئے مناسب طورپر استعمال میں لایا جا سکے اور فاسد مادے کو اپنے سماجی اور معاشرتی نظام میں داخل ہونے سے روکا جاسکے یہی وجہ ہے کہ چینیوں نے فیس بک پر پابندی لگائی ہے چینی قوم کا اپنا سو شل میڈیا ہے جو ان کے کلچر سے مطابقت رکھتا ہے ہم چین کی طرح ترقی یافتہ اور مستحکم قوم بنینگے تو یہ آپشن بھی سامنے ہوگا اب فیس بک کلچر ہے اور ہماری جان ناتواں کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِکتا ب آخر
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى