
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی محکموں کے ورکنگ گروپس کوبیجنگ روڈ شو کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے
پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی محکموں کے ورکنگ گروپس کوبیجنگ روڈ شو کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ منصوبوں پر ایم او یوز ممکنہ حد تک روڈ شو سے پہلے دستخط کرلیں اور جو ایم او یوز ہو چکے ہیں ان کو فالو کریں۔وزراء بھی اپنے محکموں میں مجوزہ اہداف پر نظر رکھیں۔ روڈ شو سے پہلے ہر محکمہ موثر پریزینٹیشن تیار کرلے۔ ہر محکمے سے روڈ شو کیلئے دو نمائندے تجویز کریں جو ہر اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے گریٹر پشاور سرکلر ریلوے پراجیکٹ کی فیزیبلٹی اور پی سی ون سمیت تمام انتظامات مئی کے آخر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سی پیک کے تناظر صوبائی محکموں کے ورکنگ گروپس کی پراگراس پر اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
سینئر صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی، مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، معاونین خصوصی ڈاکٹر امجد، عبد الکریم ، چیف سیکرٹری عابد سعید، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں و اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شعبہ صنعت میں روڈ شو کیلئے 15 منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔17 سپیشل اکنامک زونز بھی روڈ شو میں مارکیٹ کئے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے رشکئی صنعتی بستی کیلئے مطلوبہ اراضی کا انتظام جبکہ انڈسٹریل پارک ڈی آئی خان میں مطلوبہ زمین کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے ڈی آئی خان میں صنعتی پارک کیلئے آئندہ ہفتے تک متعلقہ کمپنی کے ساتھ ایم اویو دستخط کرنے کی ہدایت کی ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ویب سائٹ کا اجراء 31 مارچ تک کر دیا جائے گا۔ منصوبوں کی تمام تفصیلات آن لائن ہوں گی جس کا کوئی بھی شخص آسانی سے ویزٹ کر سکے گا۔ ویب سائٹ انگلش اور چینی زبانوں میں ہو گی ۔ آئی ٹی کے تحت مجموعی طور پر چار منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ جن میں رشکئی میں ٹیکنالوجی سٹی ، پشاور میں سی پیک آئی ٹی ٹاور جو 12.7 کنال اراضی اور 14 منازل پر مشتمل ہو گا اور ایبٹ آباد میں آئی ٹی ٹاور بھی شامل ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرکلر ریلوے پراجیکٹ سی پیک کا حصہ ہے جس کو روڈشو میں بھی پیش کیا جائے گا۔ چائنا ریلوے فرسٹ گروپ اس منصوبے کی فیزیبلٹی سٹڈی کر رہی ہے۔ 202 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر 1.9 بلین ڈالر لاگت آئے گی تاہم زمین کی لاگت مجوزہ لاگت میں شامل نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کیلئے پشاور اور نوشہرہ میں علیحدہ ٹریک ہونا چاہیئے۔ شعبہ ہاؤسنگ میں چھ منصوبوں پر بریفینگ دی گئی جن میں سے ماڈل ٹاؤن پشاور اور موٹروے سی پیک سٹی ایف ڈبلیو او کے حوالے کئے جارہے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نشتر آباد کمرشل کمپلیکس کیلئے زمین کی منتقلی کا عمل پراسس میں ہے جبکہ کمرشل کمپلیکس ٹکڑ III کیلئے زمین کی منتقلی ہونے والی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کو سی پیک پراجیکٹ بنانے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے ہنگو ٹاؤن شپ کیلئے زمین کا قابل عمل پروپوزل بنا کر پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ کے چھ منصوبوں میں سے پانچ کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہو چکی ہے۔ ان منصوبوں کیلئے تین کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ پی ڈی اے کے تحت منصوبوں پر تیار ی کے حوالے سے بتایا گیا کہ نادرن سیکشن آف رنگ روڈ کی تعمیر جو ورسک روڈ سے جمرود روڈ کو ملائے گی اس منصوبے پر 12 ارب روپے لاگت آئے گی۔10.694 ارب روپے کی لاگت سے ریزیڈینشل کمپلیکس حیات آباد فیز II ،تقریباً14 ارب روپے کی لاگت سے نیوجنرل بس سٹینڈ، 5 ارب روپے کی لاگت سے سی پیک ٹاوراور دیگر شامل ہیں۔ ان منصوبوں پر کل 64 ارب روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ نئے جنرل بس سٹینڈ اور پرانے اڈہ پر مجوزہ کمرشل پراجیکٹ کو ایک ہی کمپنی کے حوالے کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے نئے اڈہ میں منتقلی کا ٹائم لائن متعین کرنے اور عارضی طور پر شیڈز کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ۔ پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے تحت 10 منصوبے روڈ شو کیلئے تیار کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ روڈ شو میں وہ سکیم لیکر جائیں جو بی او ٹی پر جا سکے باقی سکیموں کو سی پیک میں لے کر جائیں ۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ ایگر کلچر اور لائیوسٹاک میں سات منصوبے بنائے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ان منصوبوں کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ مائنز اینڈ منرل کے تحت پانچ منصوبے پیش کئے گئے جن میں پلیسر گولڈ ڈیپازٹ ، ملاکنڈ اور ہزارہ میں میٹلاک منرلز بلاکس، ملاکنڈ میں کرومائیٹ ، بونیر میں نفلین سی نائٹ اور سوات میں ایمریلڈ کے منصوبے شامل ہیں۔ شعبہ توانائی میں مجوزہ 10 منصوبوں میں سے سات کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل کرلی گئی ہے جبکہ دیگر پراگراس میں ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگلے ہفتے دو ہزار میگا واٹ کے منصوبوں پر ایم او یو دستخط کرلیں گے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سیاحت میں 16 منصوبے جبکہ ثقافتی ورثہ کے چار منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔ شعبہ اعلیٰ تعلیم کے تحت مجوزہ 10منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام سے مل کر مارکیٹ ہونے والے وہ منصوبے شامل کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ وہ وکیشنل ٹریننگ کے سلسلے میں متعلقہ چینی حکام کے ساتھ پہلے سے طے شدہ معاملات کو فالو کریں تاکہ مطلوبہ ضروریات کے مطابق چین افرادی قوت تیار کر سکے۔
