
دو اپریل تک ریشن ہائیڈرو ہاؤر اسٹیشن کی بحالی پر کام شروع نہ کرنے کی صورت میں مردم شماری کا مکمل بائیکاٹ سمیت بھرپور احتجا ج کیا جائیگا۔مظاہرین کا جلسے سے خطاب
چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ریشن ہائیڈروپاؤر اسٹیشن کی گزشتہ تین سالوں سے مسلسل بندش اور صوبائی حکومت کی طرف سے اس کی بحالی میں لیت ولعل سے کام لینے اور عدم توجہی سے دلبرداشتہ ہوکر بجلی گھر سے
مستفید ہونے والے 16ہزار گھرانوں نے آنے والے مردم شماری کی مکمل بائیکاٹ کا اعلان کردی جبکہ دوسری طرف حکومت کو بجلی گھر کی بحالی کاکام شروع کرنے کے لئے 2۔اپریل کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے تنبیہ کیا گیا کہ احتجاج کا اگلا مرحلہ پرامن نہیں اور غصے سے بپھرے ہوئے عوام کا احتجاج بدترین صورت اختیار کرسکتی ہے۔ اتوار کے روز ریشن گول کے مقام پر حاجی بلبل امان کی صدارت میں ریشن بجلی گھر کی عدم بحالی اور تین سالوں سے بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقررین ویلج ناظم شہزادہ منیر،عبدالرب،جنرل سیکرٹری عبدالمراد خان اور دوسرے
مقررین ابولیث رامداسی، محمد اسلم، یوتھ ناظم انیس الرحمن، اعجاز احمد، شاہ عالم خان، شیر مراد خان، افسر علی شاہ، حاجی گل، شاہان گنج، سید سردار حسین شاہ، عارف اللہ، نادر جنگ ، خیر بیگ، عبدالغفار اور دوسروں نے تین سال گزرنے کے باوجود بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع نہ ہونے کو پی ٹی آئی کے لئے شرمناک قرار دیا اور کہاکہ 4.2میگاواٹ پیدواری گنجائش کی اس بجلی گھر سے 16ہزار گھرانے روشن ہورہے تھے
لیکن حکومت نے اب تک نہایت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے حکمرانوں کو پانامہ لیکس کے پیچھے دوڑنے اور اسلام آباد پر چڑہائی کرنے کی بجائے اس پسماندہ تحصیل کی بجلی گھر کوبحال کرنا چاہئے تھا جوکہ تین سال قبل سلاب سے متاثر ہوا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی گھر کا 70 فیصدانفراسٹرکچر پاؤر چینل اور فوربے ٹینک اور ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ صحیح سالم حالت میں ہیں
اور سیلاب نے صرف پاؤر ہاؤس کو نقصان پہنچایا ہے جسے چند مہینوں میں ہی دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا تھا لیکن پیڈو کے کرپٹ ادارے نے ذیادہ منافع کمانے کی خاطر بجلی گھر کو مکمل طور پر تباہ قرار دیتے ہوئے اس کی بحالی کے لئے اربوں روپے طلب کئے ۔ انہوں نے تمام نمائندگان،ایم این اے۔ایم پی ایزاور ضلع ناظم کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بھی اس حساس ترین مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی
اور آپس میں اختلافات اور سیاسی مفادات کی جنگ کی وجہ سے تعمیری کاموں کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اس لئے اگر چترال کے ممبران ریشن ہائیڈیل کیلئے کچھ نہیں کرسکت تو عوام کی جدوجہد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ریشن بجلی علاقے کے لئے تحفے کے طورپر نہیں بلکہ بالائی چترال میں چرس اور افیون کی کاشت کے عوض تعمیر کی گئی تھی۔ ۔ مقرریں نے بجلی گھر کی بحالی کے لئے احتجاجی جلسوں کو روکنے کے لئے علاقے میں دفعہ 144لگانے پر انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ اب کسی
احتجاج سے ڈرنے والے نہیں اور ڈی۔آئی ۔ خان اور بنوں کی جیلوں سے خوفزدہ نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں گڈ گورننس کی رٹ لگارہی ہے
تو دوسری طرف سولہ ہزار گھرانوں کو تین سالوں سے دوبارہ تاریکی میں دھکیل دے کر خود بے فکری سے حکمرانی کے مزے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی گھر کو نقصان بھی حکومت کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے پہنچ گیا تھا کیونکہ 2013ء میں سیلاب سے بجلی گھر کے عقب میں چند بڑے بڑے سائز کے پتھر جمع ہوگئے تھے
لیکن مقامی لوگوں کی بار بار درخواست کے باوجود انہیں نہیں ہٹادئیے گئے اور دوسال بعد آنے والے سیلاب کا ریلہ ان پتھروں سے ٹکراکر بجلی گھر کا رخ کرلیا۔ اس موقع پر چترال سے ممبران اسمبلی کے خلاف نعرہ بازی بھی ہوئی۔
