ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……تھر و پر اپر چینل

………………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ……..

Advertisements

سرکاری ملازم ایم اے ، ایم ایڈ،ایم فل کے لئے فارم پُر کرنا چاہے تو اس کو محکمے سے اجازت لینی پڑتی ہے سرکاری ملازم اگر کسی دوسری پوسٹ کے لئے درخواست دیدے تو اس کو اپنے محکمے کی وساطت سے باقاعدہ اجازت لیکر درخواست دینے کی ضرورت پڑتی ہے اس قانون کا نام نو انجکشن سرٹیفکیٹ (NOC) بھی ہے اس کا نام تھر و پراپر چینل بھی ہے مگر خیبر پختونخوا میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والوں پر اس قانون کاا طلاق نہیں ہوتا ایک ٹیچر سی ٹی پوسٹ پر کام کرتا ہے دو سال سروس ہوچکی ہے وہ پی ایس ٹی کے لئے درخواست دیتا ہے سی ٹی کے لئے فارم پُر کرتا ہے ایس ایس ٹی کے لئے بھی درخواست بھجو ا دیتا ہے این ٹی ایس پاس کرتا ہے تینوں کے لئے کوالیفائی کرتا ہے ظاہر ہے قابلیت رکھتا ہے اگر اُمید وار مر د ہے تو خود آگے آتا ہے اگر اُمید وار خاتون ہے تو اس کا باپ بھائی یا شادی شد ہ ہوتو شوہر سامنے آجاتا ہے مخصوص سکول میں دوسرے نمبر پر آنے والے اُمید وار کے ساتھ لین دین کرتا ہے تین لاکھ روپے لیکر پی ایس ٹی سے دستبر دار ہوتا ہے مزید 3 لاکھ روپے لیکر سی ٹی سے دستبر دار ہوتا ہے اگر ایس ایس ٹی والا سکول گھر سے دور ہے تو تیسری بار 3 لاکھ روپے لیکر وہ بھی دوسرے نمبر پر آنے والے کے لئے چھوڑ دیتا ہے ٹھیکہ داری سسٹم میں رنگ (Ring) کی طرح گھر بیٹھ کر 9 لاکھ روپے وُصول کرلیتا ہے اُس کو صرف بیان حلفی پر دستخط کر نا پڑتا ہے کہ میں نے مذکورہ پوسٹ سے دستبرداری کا فیصلہ کسی کے دباؤ پر نہیں بلکہ اپنی رضا و رغبت سے ذاتی وجو ہات کی بنا ء پر کیا ہے اگر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو صوبے کے 25 پرانے اضلاع میں سے ہر ضلع میں سرکاری ملازمین کی بیسیوں حلفی بیانات اور دست برداری کے خطوط کا انبار مل جائے گا اس میں سے کسی ایک نے بھی محکمے کی وساطت سے درخواست نہیں دی کسی نے بھی محکمے سے این او سی لینے کی شرط پوری نہیں کی اس طرح دفتر کے باہر بکرا منڈی سجا کر مال جمع کیا اور واپس پرانی نوکر ی پر چلا گیا اس برائی میں دفتر کا کوئی کرپشن نہیں ہے مگر یہ ایک برائی اور قباحت ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک محکمے نے 10 آسامیوں کا اشتہار دیا 4000 اُمیدواروں نے این ٹی ایس میں1500 روپے فی کس جمع کر کے 5 سکولوں کے لئے درخواستیں دیدیں این ٹی ایس کے اکا ؤنٹ میں 60 لاکھ روپے جمع ہوئے ٹیسٹ پر 2 لاکھ روپے کا خرچہ آیا 58 لاکھ کا خالص منافع ملا 10 اُمید وار کا میاب ہوئے وہ سب سرکاری ملازم تھے انہوں نے نئی پوسٹیں اپنے گھر کے قریب حاصل کر کے پر انی پوسٹوں کو خالی کیا نتیجہ صفر آیا محکمے نے چھ ماہ کی جدو جہد کے بعد 10 پوسٹوں پر تقرری کر کے 10 پوسٹوں کو خالی کردیا اب خالی آسا میوں کا اشتہار آئے گا پھر 60 لاکھ روپے این ٹی ایس کے اکاؤنٹ میں جائینگے پھر چھ مہینے ضائع ہونگے پھر 10 پوسٹوں پر سرکاری ملازمین کی دوبارہ بھرتی ہوگی پھر 10 آسامیاں خالی ہو جائینگی راولپنڈی میں بیٹھا ہوا سیٹھ بنوں ، سوات دیر اور چترال کے پیسوں سے ارب پتی سے کھرب پتی بننے کی طرف گامزن ہوگا محکمہ تعلیم کا مسئلہ وہی رہے گا یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے سرکاری ملازم کواسی پوسٹ کے لئے یا کم تر آسامی کیلئے دوبارہ درخواست دینے کی اجازت نہ دو اگر این ٹی ایس والوں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ ریو نیو جمع کر وانے کے لئے دباؤ ہو تو بیشک این ٹی ایس کراؤ میرٹ لسٹ اور تقرری کے وقت سرکاری ملازم کے کاغذات کو مسترد کرو کہ اُس نے تھر و پراپر چینل درخواست نہیں دی اُس نے NOC نہیں لی یہ بالکل آسان طریقہ ہے این ٹی ایس کا پنجا بی ٹھیکہ دار بھی ناراض نہیں ہوگا مڈل مین کوکسی قسم کا خسارہ نہیں ہوگا محکمے کو بھی نقصان نہیں ہوگا بلیک میل کر کے رنگ کا پیسہ لینے والوں کی حوصلہ شکنہ ہوگی اور یہ قانون کا تقاضا ہے سرکاری ملازمت کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز کا تقاضا ہے اگر ایک سرکاری ملازم شمو زی ، کے سکول میں تنخواہ لیتا ہے تو وہ اوڈیگرام یا لنڈا کی کے سکول کے لئے کیوں درخواست دیتا ہے ؟ محکمہ سے اجازت لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتا ؟ تھر و پراپر چینل اپنی درخواست کیوں نہیں بھیجتا محکمہ اس کو اجازت کیوں دیتا ہے ؟ میرٹ لسٹ میں اس کا نام کیوں لاتا ہے ؟ اگر ’’ سکول بیسڈ‘‘نوکر ی پر اس کو اعتراض ہے تو اُس نے یہ ملازمت کسی خوشی میں قبول کی ؟ خیبر پختونخوا کی حکومت کی مدت ایک سال رہ گئی ہے اس مد ت میں سرکاری ملازمین پر NOC اور تھر و پر اپر چینل کا قانون نا فذ ہونا چاہیے تاکہ Ring والا سسٹم ختم ہو اور وقت کے ساتھ سرمایہ بھی ضائع نہ ہو یہ SOS پیغام ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى