
لواری پاس کھولنے اور گاڑیوں کی آمد ورفت بحال ہونے کے باوجود بڑی گاڑیوں کی آمدورفت پرپابندی انتہائی ظلم ہے۔ شبیر احمد
چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس )لواری پاس کھولنے اور گاڑیوں کی آمد ورفت بحال ہونے کے باوجود بڑی گاڑیوں کی آمدورفت پرپابندی انتہائی ظلم ہے یہ بات تجار رہنما شبیر احمدنے پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ چترال شہر میں ا شیائے خر دونوش کی قلت اور چیزوں کی ہو شربا قیمتوں نے صارفین کی کمرتوڑ دی ہے انہوں نے کہا کہ بازارمیں ٹماٹر کی قیمت 180روپے فی کلو ہے اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ دوسرے اشائے کی قیمتیں کس حد تک بلند اور غریبوں کے واسطے ناقابل رسائی ہو چکی ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ ضلعی انتظامیہ کی تجاہل عارفانہ پر نہایت افسوس کا اظہار کیا اور خبر دار کیا کہ اگر فوری طورپر بڑی گاڑیوں کے لواری ٹاپ نہ کھولا گیا تو اس کے خطر ناک نتائج برآمد ہو نگے انہوں نے کہا کہ بازار میں بنیادی اشیائے خوردی اور دوسرے چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور دوکانداروں کے سامان دوسرے شہروں کے اڈوں میں پڑے ہیں تاجروں کو نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے چترال بازار کے ساتھ ساتھ دروش بازار میں بھی اشیاء خردنوش کی قلت پیدا ہوچکی ہے اور دکا نداروں کو بھی شدید مشکلات در پیش ہیں انہوں نے لواری ٹاپ فوراًاور ہنگامی بنیادوں پر کھولنے پر زور دیا ہے انہوں نےCNWکے ایکسین کو خبر دار کیا ہے کہ بائی پاس روڈ کے کناروں پر نالیاں گندگی سے بھرچکی ہیں اگر ان کی فوری طور پر صاف نہ کی گئی تو اس سے گندگی پھیلنے اور صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے اس وجہ سے دوکاندار وں کے لے بہت سے مسائل پید ا ہوگئے ہیں انہوں نے TMAپر زور دیا کہ وہ بازار کی صفائی پر کڑی نظر رکھے ۔
