
مضامین
پس وپیش ……چترال کے لوگوں کے ساتھ اِنصاف
……………. تحریر: اے ایم خان………….
اِس سال دُنیا میں صحت کے عالمی دِن کا تھیم ’’ڈپرشن‘‘ رکھا گیا ہے تاکہ دُنیا میں ذہنی صحت خصوصاً ڈ پرشن کے حوالے سے کام ، اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن اور دوسرے بین الاقوامی اِدارون کے تعاؤن سے اقدامات اُٹھائے جاسکیں۔
ہمارے جسم کے کسی عضو میں کوئی نقص یا تکلیف ہوجاتی ہے تو ہم اِس کے علاج کیلئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں اور اِس کا علاج کرلیتے ہیں۔اور جب ہمارے معاشرے میں کوئی بندہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو نہ اُس کا علاج ہوجاتا ہے ، اور نہ معاشرے میں اُس کا خیال رکھا جاتاہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ شخص اِس بیماری کی وجہ سے یا مرجاتا ہے یا پاگل ہوجاتا ہے۔ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے علاج نہ ہونے کے کئی ایک اسباب ہیں جن میں ایک اہم وجہ ہمارے ملک میں نفسیاتی معالج اور مریضوں کے علاج کیلئے ہسپتالوں کی کمی ہے۔ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 400 سائیکاٹرسٹس ( نفسیاتی معالج) اور صرف 5 ہسپتال موجود ہیں جوکہ کم وبیش 180 ملین آبادی کیلئے ناکافی ہیں۔ اگر اِس حساب سے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تناسب کو دیکھاجائے تو یہ ایک ڈاکٹر کیلئے 5 لاکھ مریضوں کا علاج کرنا پڑتاہے، جوکہ ناممکن ہے۔
امریکہ میں ایک اِدارہ (Medical Alliance for Mental Illness) کے ایک رپورٹ کے مطابق نصف ذہنی بیماریاں 14سال کی عمر میں اور تین چوتھائی 24 سال کی عمر میں شروع ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کا اِس تناظر میں دیکھا جائے تو عمر کے اِس نازک وقت میں ذہنی صحت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے ، جس سے کئی ایک کرونکchronic))بیماری جنم لیتے ہیں۔ ایک رپور ٹ کے مطابق پاکستان میں 34 فیصد لوگ ڈپرشن کی بیماری میں مبتلا ہیں جوکہ دُنیا میں یہ آبادی کا 20 فیصد ہے۔
پاکستان میں ذہنی بیماری میں مبتلا لوگوں کے ساتھ ایک سماجی ٹبو(taboo) بھی منسلک کی جاتی ہے جس سے بیماری مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔ ہمارے معاشر ے میں ڈپرشن کی بیماری کو مذہب سے بھی منسلک کیاجاتا ہے ۔ میڈیکل سائنس میں جسطرح بیماریوں کا علاج موجود ہے بالکل اِسی طرح نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی دریافت ہوچُکے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ذہنی مریضوں کا علاج نہ ہونے کے ساتھ اُنہیں مذاق کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جس سے اُن کا دماغی توازن اور نفسیاتی نوعیت مزید بگڑ جاتی ہے۔ ہمارے لوگوں میںیہ آگاہی بالکل موجو د نہیں کہ عام مریض سے زیادہ نفسیاتی مریض کیلئے ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے، اور اُس کا علاج بھی یہ سکون ہے !
پاکستان کے کچھ علاقوں جہاں لوگ کئی ایک مسائل اور پیچیدگیوں کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوچُکے ہیں ۔ جیسے ہی یہ لوگ ذہنی دباؤ اور کوفت کے ساتھ سوسائٹی میں آجاتے ہیں تو معاشرے میں اُنہیں مزید پریشانی اور نااُمیدی کی طرف دکھیل دیاجاتا ہے جس سے وہ اپنا ذہنی اور دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی ،نااُمیدی ، بے روزگاری اور نااِ نصافی کا شکار موجودہ دور کا اِنسان ، اور نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو چُکا ہے، جس کیلئے ذہنی سکون کی آشد ضرورت ہے۔
چترال میں نوجوانون(لڑکے اور لڑکیوں) میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طرف ذہنی بیماری پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ، تو دوسری طرف معاشرتی دباؤ اور مسائل شدت اختیار کر جاتی ہیں تو لوگ یہ شدید قدم اُٹھالیتے ہیں ۔ یہ شدید قدم کوئی اُس وقت لیتا ہے جب اُس کی ذہنی بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے ، اور اِسے کوئی اُمید نظر نہیں آجاتی۔ چترال کے کئی ایک علاقے جنہیں کیس سٹیڈی کیلئے لیا جاسکتا ہے میں نوجوانون میں خود کشی کا رجحان زیادہ تھا، جوکہ چند سالوں سے کم ہوا ہے۔ گزشتہ سال آغاخان ہسپتال کراچی کے ڈاکٹر ز چترال خصوصاً چرون اویر میں زلزلے کے بعد post-traumatic نفسیاتی مسائل کے شکار مریضوں کا علاج کرچُکے ہیں ، وہ بھی قابل ذکر ہے۔
اگر کوئی بندہ چترال بازار میں دیکھتا ہے تو تین چار نفسیاتی مریض جنہیں مقامی زبان میں ’’گدیری‘‘ کہا جاتا ہے پھرتے نظر آجاتے ہیں ،اُن پر کوئی توجہ نہیں دیا جاتا ہے۔ جب میں نے ایک مریض کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ پہلے کورٹ میں جج کے پوزیشن پر فائز تھا ، اور اب اِس بیماری سے اُسکا سب کچھ ختم ہوچُکا ہے یعنی چترال بازار میں سیگریٹ پی کر پھر رہا ہے۔
ہمارے علاقے میں ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص میں نفسیاتی بیماری کے علامات کی تشخیص ہوجاتی ہے تو ہمارے ڈاکٹرز اُس کا اپنی طرف سے علاج شروع کرجاتے ہیں جو ٹھیک ہونے کے بجائے کئی دوسرے بیماریوں کا وجہ بن سکتاہے، کے بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت تعلیم ، پولیس اور صحت کے حوالے سے اِصلاحات لا چُکا ہے جو عام آدمی کو نظر آتا ہے۔ اِس عمل کو کامیاب کرنے کیلئے مزید ڈاکٹرز، مریض، ہسپتال عملہ اور عام لوگوں کے ذہن سازی کیلئے وقت درکا ر ہے۔
گوکہ اب آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت بھی صوبے کے قانونی دائرہ اختیار میں آچُکی ہے۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں کام کررہا ہے ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نفسیاتی بیماروں کے علاج کیلئے سائیکاٹرسٹس کا انتظام اِس روز کی مناسبت سے ناگزیر ہوچُکا ہے۔ پانج لاکھ سے زیادہ آبادی پر مشتمل چترال کے کسی بھی ہسپتال میں ذہنی یا نفسیاتی بیماری کے علاج کیلئے ڈاکٹر موجود نہیں۔ اگر صوبائی حکومت نفسیاتی معالج کا انتظام ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کرلیتا ہے تو یہ چترال کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا اِنصاف ہے۔
ہمارے جسم کے کسی عضو میں کوئی نقص یا تکلیف ہوجاتی ہے تو ہم اِس کے علاج کیلئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں اور اِس کا علاج کرلیتے ہیں۔اور جب ہمارے معاشرے میں کوئی بندہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو نہ اُس کا علاج ہوجاتا ہے ، اور نہ معاشرے میں اُس کا خیال رکھا جاتاہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ شخص اِس بیماری کی وجہ سے یا مرجاتا ہے یا پاگل ہوجاتا ہے۔ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے علاج نہ ہونے کے کئی ایک اسباب ہیں جن میں ایک اہم وجہ ہمارے ملک میں نفسیاتی معالج اور مریضوں کے علاج کیلئے ہسپتالوں کی کمی ہے۔ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 400 سائیکاٹرسٹس ( نفسیاتی معالج) اور صرف 5 ہسپتال موجود ہیں جوکہ کم وبیش 180 ملین آبادی کیلئے ناکافی ہیں۔ اگر اِس حساب سے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تناسب کو دیکھاجائے تو یہ ایک ڈاکٹر کیلئے 5 لاکھ مریضوں کا علاج کرنا پڑتاہے، جوکہ ناممکن ہے۔
امریکہ میں ایک اِدارہ (Medical Alliance for Mental Illness) کے ایک رپورٹ کے مطابق نصف ذہنی بیماریاں 14سال کی عمر میں اور تین چوتھائی 24 سال کی عمر میں شروع ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کا اِس تناظر میں دیکھا جائے تو عمر کے اِس نازک وقت میں ذہنی صحت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے ، جس سے کئی ایک کرونکchronic))بیماری جنم لیتے ہیں۔ ایک رپور ٹ کے مطابق پاکستان میں 34 فیصد لوگ ڈپرشن کی بیماری میں مبتلا ہیں جوکہ دُنیا میں یہ آبادی کا 20 فیصد ہے۔
پاکستان میں ذہنی بیماری میں مبتلا لوگوں کے ساتھ ایک سماجی ٹبو(taboo) بھی منسلک کی جاتی ہے جس سے بیماری مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔ ہمارے معاشر ے میں ڈپرشن کی بیماری کو مذہب سے بھی منسلک کیاجاتا ہے ۔ میڈیکل سائنس میں جسطرح بیماریوں کا علاج موجود ہے بالکل اِسی طرح نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی دریافت ہوچُکے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ذہنی مریضوں کا علاج نہ ہونے کے ساتھ اُنہیں مذاق کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جس سے اُن کا دماغی توازن اور نفسیاتی نوعیت مزید بگڑ جاتی ہے۔ ہمارے لوگوں میںیہ آگاہی بالکل موجو د نہیں کہ عام مریض سے زیادہ نفسیاتی مریض کیلئے ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے، اور اُس کا علاج بھی یہ سکون ہے !
پاکستان کے کچھ علاقوں جہاں لوگ کئی ایک مسائل اور پیچیدگیوں کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوچُکے ہیں ۔ جیسے ہی یہ لوگ ذہنی دباؤ اور کوفت کے ساتھ سوسائٹی میں آجاتے ہیں تو معاشرے میں اُنہیں مزید پریشانی اور نااُمیدی کی طرف دکھیل دیاجاتا ہے جس سے وہ اپنا ذہنی اور دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی ،نااُمیدی ، بے روزگاری اور نااِ نصافی کا شکار موجودہ دور کا اِنسان ، اور نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو چُکا ہے، جس کیلئے ذہنی سکون کی آشد ضرورت ہے۔
چترال میں نوجوانون(لڑکے اور لڑکیوں) میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طرف ذہنی بیماری پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ، تو دوسری طرف معاشرتی دباؤ اور مسائل شدت اختیار کر جاتی ہیں تو لوگ یہ شدید قدم اُٹھالیتے ہیں ۔ یہ شدید قدم کوئی اُس وقت لیتا ہے جب اُس کی ذہنی بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے ، اور اِسے کوئی اُمید نظر نہیں آجاتی۔ چترال کے کئی ایک علاقے جنہیں کیس سٹیڈی کیلئے لیا جاسکتا ہے میں نوجوانون میں خود کشی کا رجحان زیادہ تھا، جوکہ چند سالوں سے کم ہوا ہے۔ گزشتہ سال آغاخان ہسپتال کراچی کے ڈاکٹر ز چترال خصوصاً چرون اویر میں زلزلے کے بعد post-traumatic نفسیاتی مسائل کے شکار مریضوں کا علاج کرچُکے ہیں ، وہ بھی قابل ذکر ہے۔
اگر کوئی بندہ چترال بازار میں دیکھتا ہے تو تین چار نفسیاتی مریض جنہیں مقامی زبان میں ’’گدیری‘‘ کہا جاتا ہے پھرتے نظر آجاتے ہیں ،اُن پر کوئی توجہ نہیں دیا جاتا ہے۔ جب میں نے ایک مریض کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ پہلے کورٹ میں جج کے پوزیشن پر فائز تھا ، اور اب اِس بیماری سے اُسکا سب کچھ ختم ہوچُکا ہے یعنی چترال بازار میں سیگریٹ پی کر پھر رہا ہے۔
ہمارے علاقے میں ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص میں نفسیاتی بیماری کے علامات کی تشخیص ہوجاتی ہے تو ہمارے ڈاکٹرز اُس کا اپنی طرف سے علاج شروع کرجاتے ہیں جو ٹھیک ہونے کے بجائے کئی دوسرے بیماریوں کا وجہ بن سکتاہے، کے بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت تعلیم ، پولیس اور صحت کے حوالے سے اِصلاحات لا چُکا ہے جو عام آدمی کو نظر آتا ہے۔ اِس عمل کو کامیاب کرنے کیلئے مزید ڈاکٹرز، مریض، ہسپتال عملہ اور عام لوگوں کے ذہن سازی کیلئے وقت درکا ر ہے۔
گوکہ اب آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت بھی صوبے کے قانونی دائرہ اختیار میں آچُکی ہے۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں کام کررہا ہے ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نفسیاتی بیماروں کے علاج کیلئے سائیکاٹرسٹس کا انتظام اِس روز کی مناسبت سے ناگزیر ہوچُکا ہے۔ پانج لاکھ سے زیادہ آبادی پر مشتمل چترال کے کسی بھی ہسپتال میں ذہنی یا نفسیاتی بیماری کے علاج کیلئے ڈاکٹر موجود نہیں۔ اگر صوبائی حکومت نفسیاتی معالج کا انتظام ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کرلیتا ہے تو یہ چترال کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا اِنصاف ہے۔
