مضامین

اخوت کا اسلامی تصور

…………… تحریر: اقبال حیات آف برغذی…………..

اسلام اپنے پیروکاروں کو ایک لڑی میں پرو رہا ہے۔ اور قرآن عظیم الشان مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دے کر اس ملت کے افراد کے باہمی محبت اور ربط کو قائم ودائم رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس تصور کی بنیاد پر مشرق میں مسلمان کے پاؤں پر کانٹا چھبنے کے درد کا احساس مغرب میں مقیم مسلمان کو اپنے دل میں محسوس کرنے کا عندیہ دلاتا ہے۔ اور یوں مسلمانوں کے اس جذبے کی راہ میں جغرافیائی سرحدات رنگ ونسل، قومیت،زبان حائل نہیں ہوسکتیں۔ اور اس مذہبی یگانگت میں اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کے اظہار کا فلسفہ کارفرما ہے۔ جسے حقیقت کے روپ میں دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔ اور اس کی تصدیق قرآن یہ کہہ کر دیتا ہے کہ پیغمبرﷺ اورجولوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحمدل ہیں ۔ نظام خداوندی کو مظبوطی سے تھامنے اور آپس میں بھائی چارے کی رسی میں جڑنے کے نتیجے میں مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی۔ مگر تسبیح کے دانوں کو جوڑنے والا تار ٹوٹنے کی وجہ سے دانے بکھرنے کی طرح مسلمانوں کی یکجہتی اور باہمی محبت کا ضامن نظام حیات کو چھوڑتے ہی ملت کا تصور قصہ پارینہ کی صورت اختیار کی۔ اور اپناسب کچھ ایک دوسرے پر قربا ن کرنے کا جذبہ خواب کے رنگ میں ڈھل گئے۔ یوں آج آفاتی طور پر بھائی چارے کا تصور تو دور کی بات گھروں کے اندر بھی نظر نہیں آتا۔دنیاوی معاملات پرایک ہی بطن مادر میں پیدا سگے بھائی ایک دوسرے کے دشمن اور خون کے پیاسے کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ مختلف مسالک سے وابستگی نے جہاں امت کے اندر نفرتوں اور عداوتوں کو ہوا دی۔وہاں رہی سہی کسر مغربی طرز جمہوریت نے پوری کردی ۔اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لئے ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی پگڑی اچھالی جاتی ہے۔ دنیا کے تمام عیوب کے داغ ڈھونڈ کر ایک دوسرے کے دامن میں لگانے کو سیاسی کمال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسلامی نظام کے لئے سرگرم عمل جماعتیں بھی ایک ہی پلیٹ فارم کے تحت جدوجہد کرنے سے گریزان ہیں۔ ان کی عام لوگوں کے بارے میں رائے کا تو ذکر ہی کیا۔ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو جنت میں جگہ دینے کے رودار نہیں۔ ایک دوسرے کی محفلوں میں اْٹھنا بیٹھنا تو درکنار جنازے میں شرکت اور عیادت جیسے مذہبی اقدار بھی اسلامی بھائی چارے کے حدود سے نکل کر پارٹی وابستگی کے فلسفے میں تبدیل ہوئے ۔یون دنیا کے مختلف ممالک میں اقتدار کے لئے مسلمان ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔مسلمان کا خون بے دریغ بہایا جارہا ہے۔ اپنے بھائیوں میں اصلاح کرنے کے قرآنی تصور کو اپنانے والا کہیں نظر نہیں آتا۔ اور دوسری طرف اقوام متحدہ اور دوسری انسانی حقوق کی خودساختہ بین الاقوامی تنظمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ حالانکہ دنیا میں ایک یہودی یا کسی غیر مسلم کا قتل ہوتا ہے۔ تو ان ہی تنظیموں میں بھونچال آتا ہے۔
مختصر یہ کہ دنیا کو مسلمانوں کے لئے تنگ کئے جانے کی اس کیفیت سے نکلنا تمام امت مسلمہ کو اللہ رب العزت کی طرف سے غلبہ حاصل کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ مشروط مومن کے اوصاف سے متصف ہونے اور اسلامی بھائی چارے کے رشتے سے جڑنے کے بغیر ممکن نہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔