ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیدا د……….. پولیس کا منسٹر یل سٹاف

………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ……..

Advertisements

پولیس کے سینئر ،نیک نام اور خاموشی میں بڑے بڑے کام کرنے والے افیسر صلاح الدین محسود کے انسپکٹر جنرل بننے کے بعد اُمید یں بڑھ گئی ہیں تو قعات آسمانوں اورستاروں کی خبر لارہے ہیں مگر انگریز ی کا مشہور مقولہ ہے کہ ذہین لوگ خاموشی کیساتھ کام کرتے ہیں وہ خود نہیں بولتے اُن کا کام بولتا ہے خبیر پختونخوا کی حکومت بھی انقلابی اقدامات کے بہانے ڈھو نڈ رہی ہے نیا انسپکٹر جنرل پولیس بھی انقلابی اقدامات کے لئے شہرت رکھتا ہے اس لئے خیبر پختونخوا کی پولیس کے 4 ہزار سے کچھ زیادہ منسٹریل سٹاف کو ایک بار پھر توقع خوش فہمی میں ڈالنے والا ہے کہ ان کو سروس سٹرکچر اور رسک الاؤنس جیسی 5 مراعات ملینگی جو دوسرے محکموں کے منسٹریل سٹاف کو ملی ہو ئی ہیں بجٹ کی آمد آمد ہے مختلف محکموں کے لوگ ہڑتال پر ہیں ہسپتالوں کامنسٹریل سٹاف ہیلتھ پرو فیشنل الاؤنس کے لئے ہڑ تال کئے ہو ئے ہے بازو پر سیاہ پٹیاں بند ھی ہوئی ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے منسٹریل سٹاف کی ڈیوٹی بھی ڈاکٹر ، نرس اور میڈیکل ٹیکنیشن کی طرح ہے دونوں ملکر دفتر آتے ہیں مل کر چھٹی کرتے ہیں ڈیوٹی کا بوجھ یکساں ہے دیگر کیڈرزکو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس ملتا ہے منسٹریل سٹاف کو یہ الاؤنس کیوں نہیں ملتا حکومت نے جائز مطالبہ ماننے کے لئے ہڑتال اور بدامنی کی شرط رکھی ہوئی ہے دوسرے محکموں کے لوگ ہڑتال کر سکتے ہیں مگر پولیس کامنسٹریل سٹاف ہڑتال نہیں کر سکتا آپ پشاور کے جیل پُل یا خیبر روڈ سے سول سکرٹریٹ کی طرف مڑ ینگے تو آپ کو نہر کے ایک طرف سول سکرٹریٹ کا گیٹ دکھائی دیگا دوسری طرف سنٹرل پولیس آفس کا دروازہ ملے گا 38 سال پہلے دو بھائیوں نے ایک ساتھ ملازمت لے لی بڑے بھائی کو پولیس میں جو نےئر کلر ک کی پوسٹ ملی چھوٹا بھائی سو ل سکرٹریٹ میں جو نےئر کلرک بھرتی ہو ا چھوٹا بھائی 4 تر قیاں لیکر گریڈ سترہ میں سکشین افسیر ریٹا ئر ہوا بڑے بھائی کو 23 سال بعد ایک ترقی ملی اس کے بعد ریٹا ئر ہوا وہ جو نےئر کلرک سے 38 سالوں میں بمشکل سینئر کلرک بن سکا اسی سکیل میں اُ س کو ہیڈ کلرک کا کام دیا گیا پے افسر کا کام دیا گیا دوسرے بڑے بڑے کام دئیے گئے خالی نام دئیے گئے ترقی نہیں ہوئی سکیل نہیں ملا آئی جی اور ڈی آئی جی کا دربار ہوتا ہے اس میں سپاہی سے لیکر ڈی ایس پی تک سب اپنے مسائل بیان کرتے ہیں داد رسی ملتی ہے کلرک اپنا مسئلہ بیا ن کرے تو کہا جاتا ہے کہ تم پولیس فورس کا حصہ نہیں ہو اگر وہ اپنے مطالبے کے لئے بازو پر سیاہ پٹی باندھے تو کہا جا تا ہے کہ تم پولیس فورس میں ہو تمہیں ہڑتال کا حق کس نے دیا ؟ سزا کے وقت وہ پولیس فورس کا حصہ شمار ہوتا ہے تنخواہ ، الاؤنس ، ترقی اور مراعات کے وقت وہ پولیس فورس کا ملازم شمار نہیں ہوتا وہ بجٹ بناتا ہے سورس بھر تا ہے دفتری خط و کتا بت کا سارا کام کر تا ہے سپاہی سے لیکر آئی جی تک سب کے لئے مراعات اُس کے قلم سے جاری ہوتے ہیں مگر اُس کے قلم میں خود اپنے کے لئے ایک آنہ ، پائی ، دھیلہ بھی نہیں ہے وہ بے جان سیڑھی کی طرح ہے اس پر چڑھ کر سب لوگ اوپر جاتے ہیں اُس کے اپنے نصیب میں اوپر جانا نہیں ہے سینٹرل پولیس آفس کے سینئر افیسروں میں سے ایک درد مند افسر کا کہنا ہے کہ کلید ی عہد وں پرمنسٹریل سٹاف کبھی نہیںآیا اس لئے اس طبقے کے مسائل پر کسی نے غور نہیں کیا اب یہ ’’ مرغی پہلے یا انڈا ‘‘ والی بات ہے پہلے سروس سٹرکچر ملے گا تو کلیدی عہدوں پر جو نےئر کلرک بھی آئے گا یا کلید ی عہدوں پر جو نےئر کلرک آئے گا تو اُ س کو سروس سٹرکچر ملے گا ؟ سوال یہ ہے کہ سروس سٹر کچر نہیں ملے گا تو کلیدی عہدوں پر کیسے آئے گا ؟ چندسال پہلے ڈ سپنسر کا سروس سٹر کچر نہیں تھا لائبر یر ین کا سروس سٹرکچر نہیں تھا فزیکل ایجوکیشن ٹیچر ،عر بک ٹیچر ، ٹی ٹی اور قاری کا سروس سٹرکچر نہیں تھا مختلف محکموں میں کلرکوں کا بھی سروس سٹرکچر نہیں تھا اُن لوگوں نے ہڑتالوں کے ذریعے سروس سٹرکچر حاصل کیا بدامنی کے زور پر اپنا حق منوالیا ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ کا دفتر سید و شریف میں واقع ہے دفتر کے اندر کا م کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جو وردی میں ہیں دوسرے وہ ہیں جووردی میں نہیں ہیں دہشت گردوں کیطرف سے دونوں کو خطر ہ ہے دونوں کی زندگی کو یکسان رسک (Risk) کا سامنا ہے دشمن حملہ کر تاہے تو دونوں کو مارتا ہے وردی والوں کو حکومت نے رسک الاؤ نس دید یا ہے مگر منسٹریل سٹاف کو رسک الا ؤ نس نہیں دیا دشمن حملہ کر ے تو کلرک بھی اُن کی زد میں میںآتا ہے مارٹر گولہ کا نسٹیبل اور کلر ک میں تمیز نہیں کرتا خود کش حملہ آور ایس ایچ او یا سینئر کلرک میں تمیز نہیں کرتا حکومت کہتی ہے کہ سینئر کلرک پولیس کی نفری میں حساب نہیں ہوتا اس کا مرنا ، املوک کے تول ‘‘ میں گنا جائے گا میں نے یہ کہانی یو نائٹیڈ نیشنر ڈیو لپمنٹ پروگرام (UNDP) کے ایک سینئر افسیر کو سنائی تو وہ حیراں ہوا اُس کویقین نہیں آرہا تھا ایک ہی دفتر کے اندر ایک ساتھ بھرتی ہونیوالے دو افراد میں سے ایک فرد 5 بار ترقی کر کے ڈی ایس پی ریٹا ئر ہوتا ہے دوسرا فرد ریٹا ئر منٹ کے قریب پہنچ کر صرف ایک ترقی لے سکتا ہے آگے نہیں جاسکتا اُس کا حق ہی نہیں بنتا وہ ترقی کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پولیس اصلاحات کے تحت انسپکٹر جنرل اور سنٹرل پولیس آفس کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے نئے رولز آف بزنس کے تحت پولیس کی فائل چیف سکرٹری کے پاس نہیں جاتی اس لئے انسپکٹر جنرل ایسے معاملات میں خود فیصلہ کرنیکا مجاز ہے صوبائی سطح پر دیگر محکموں میں کلرکوں کو سروس سٹرکچر ملا ہے درجہ چہارم ملازمین کو بھی سروس سٹرکچر کے تحت کلرک کے عہدے پر ترقی کا حق مل گیا ہے لیگل برانچ اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اس لئے موجودہ وقت محکمہ پولیس کے 4 ہزار کے لگ بھگ کی تعداد میں منسٹریل سٹاف کوسروس سٹرکچر ، رسک الاؤ نس او ردیگر مراعات دینے پر غور کے لئے بہت ہی مناسب وقت ہے اس کا کریڈٹ یقیناًپرویز خٹک اور عمران خان کے ساتھ ساتھ نئے آئی جی پی صلاح الدین محسود کو بھی ملے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى