کریم اللہ

فکر فردا….پاکستان پیپلز پارٹی چترال کا مستقبل

…………کریم اللہ………
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا شمار چترال کے ان گنے چنے سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے جس کے انتہائی نامساعد حالات میں اب بھی بڑے ووٹ بینک موجود ہے۔ دیکھاجائے تو چترال میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی ہی مضبوط ووٹ بینک کی حامل سیاسی جماعتیں ہیں۔ گرچہ پیپلز پارٹی ماضی میں زیادہ کامیابی نہیں سمیٹی اس کی ایک بڑی وجہ نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اوپر سے امیدواروں کو عوام پر مسلط کرنا تھا۔
جب سے بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی ہے آپ نے ناراض ورکروں کو منانے اورنئے سرے سے تنظیم سازی کا فیصلہ کیا ۔ ہر صوبے کی سطح پرکمیٹی تشکیل دیتے ہوئے الیکشن کے ذریعے سے عہدے داروں کے چناؤ کا فیصلہ کیا ۔ اس سلسلے میں خیبرپختونخواہ کی تنظیمی کمیٹی ماہ اگست کے دوسرے ہفتے میں چترال کا دورہ کیا جس کا مقصد چترال میں تنظیم سازی کرنا تھا ۔ اس کمیٹی کے سامنے یہ مطالبہ رکھاگیا کہ چترال چونکہ انتہائی دور افتادہ ضلع ہے یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے صدر کے لئے پورے ضلع کو کور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔اس لئے چترال میں دو علیحدہ تنظیمیں قائم کیا جائے ۔ کمیٹی نے اس فیصلے سے اتفاق کیا اور اسی تناظر میں الیکشن ہوئے جس میں اطلاعات کے مطابق اپر چترال سے صدارت کے لئے سابق ناظم امیر اللہ اور جنرل سیکرٹری کے لئے حامد جلال کا نام سامنے آیا۔ اس کے بعد ماہ فروری میں چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور قائم مقام چیرمین آصف علی زرداری کی قیادت میں اسلام آباد میں خیبرپختونخواہ کے ڈویژنل اور ضلعی قیادتوں کے انتخاب کے لئے انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس وقت بھی ان کے سامنے چترال کے تناظر میں یہ بات رکھی گئی کہ تنظیم سازی کے وقت خصوصی طورپر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ممبران اسمبلی آنے والے انتخابات میں ٹکٹ کے امیدواروں کو ضلعی سیٹ اپ میں شامل نہ کیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگ پارٹی کے لئے وقت نہیں نکال سکتے ۔ جو کہ اصولی بات تھی ۔
لیکن چند دن ہوئے چیرمین کی جانب سے ڈویژنل اور ضلعی سطح کے انتظامی عہدے داروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں سے چترال کی صدارت پر متمکن سلیم خان کو پھر ضلعی صدر،کئی دہائیوں سے جنرل سیکرٹری کے عہدے پرقابض حکیم خان ایڈوکیٹ کو پھر جنرل سیکرٹری اور انفارمیشن سیکرٹری کا عہدہ مسلم لیگ (ن) سے دو برس قبل پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے قاضی فیصل احمد سعید کو عنایت کردیا گیا ۔ اس فیصلے کے بعد چترال بالخصوص اپر چترال میں مایوسی اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت میں اپر چترال کو مسلسل نظر اندا ز کیا جاتا رہاہے۔ اب بھی تینوں کے تینوں کلیدی عہدے لوئر چترال کے آزمائے ہوئے لوگوں کو دوبارہ تفویض کردی گئی ۔سلیم خان اور حکیم خان ایڈوکیٹ نے گزشتہ آٹھ نو برسوں سے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کی قیادت کرتے آرہے ہیں ان آٹھ نو برسوں میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی پارٹی کارنر اجلاس یا وکرر کنویشن بلانے کی زحمت گوارا نہیں کی کہیں بھی تنظیم سازی نہیں ہوئی ۔ان لوگوں نے خود کو اپر چترال کے دورے کے کبھی قابل بھی نہیں سمجھا۔محترم سلیم خان صاحب کو اندازہ ہی نہیں کہ جن لوگوں کو لے کروہ سیاسی میدان میں آگے بڑھ رہا ہیں انہی لوگوں کے ہاتھوں بربادی ان کا مقتد ر ہے۔سن 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت ایک مرتبہ بھی ورکروں کا اجلاس نہیں بلایا اور نہ ہی انتخابی کمپین کرتا ہوا دکھائی دیا۔ پھر بھی انتہائی نامساعد حالات کے باؤجود ضلع کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی جو تین نشستیں جیت چکی ہیں وہ تینوں اپر چترال کے ہیں ۔لیکن ضلع کونسل میں خواتین کی مخصوص نشست لوٹکوہ کے ایک خاتون کو تفویض کی گئی ۔ اصولی لحاظ سے وہ نشست بھی اپر چترال کو ملنی چاہئے تھی۔ اسی ہی بلدیاتی انتخابات میں لوئر چترال میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو جس بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا اس کی نظیر نہیں ملتی لوٹکوہ کے تینوں حلقوں میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار چوتھے نمبر پر رہیں ۔ حکیم خان ایڈوکیٹ 2013ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار تھے جس میں وہ چوتھی پوزیشن حاصل کی ۔ اس کے بعد سن 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں یوسی کوہ سے ضلع کونسل کے امیدوار کے طورپر میدان میں آئے جس میں اسے تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ۔ قاضی فیصل احمد سعید کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہیں ۔ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے وقت انہیں پاکستان پیپلزپارٹی میں لاکر ضلع کونسل کا ٹکٹ دیاگیا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ بھی انتخابی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔ تحصیل مستو ج کے صدر ابولیث رامداسی یوسی چرون سے پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر امیر اللہ کے مقابلے میں آزاد امیدوار کے طورپر میدان میں آئے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے اپنے ٹکٹ ہولڈر امیر اللہ انتہائی سخت مقابلے کے بعد ہار گئے تو ابولیث کے خلاف ایکشن لینے اور انہیں تحصیل صدارت کے عہدے سے برطرف کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی ۔ یہی نہیں دروش میں پیپلزپارٹی کاامیدوار کھڑاکرنے کی بجائے جیالوں کے سب سے بڑے حریف آل پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار خالد پرویز کی حمایت کی گئی ۔ حالانکہ پاکستان پیپلزپارٹی کا جیالا حید رعباس ان انتخابات میں آزاد لڑتے ہوئے صرف دو سو ووٹوں کے فرق سے ہار گیا ۔سرتاج احمد خان جیسے مخلص جیالے کو پارٹی سے باہر نکال دیا گیا۔
چلوسلیم خان اگر خود صدر رہتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن زندگی بھر جنرل سیکرٹری رہنے والے حکیم خان ایڈوکیٹ صاحب کودوبارہ اسی پوزیشن پر بحال رکھنے کی بجائے یہ عہدہ اپر چترال کے کسی جیالے کو دیا جاتا تو کیا زیادہ بہتر نہ ہوتاحکیم صاحب زندگی بھر سیاست کرتے رہے لیکن ابھی تک ایک مرتبہ بھی کونسلر منتخب نہیں ہوسکے۔محترم سلیم خان صاحب حالات بہت زیادہ تبدیل ہوچکے ہیں۔ جو لوگ آپ کو غلط مشورہ دے رہے ہیں وہ نہ آپ کے مخلص ہیں اور نہ ہی پارٹی کے۔ سن 2018ء کے انتخابات ماضی کے برعکس بالکل ہی نئے نتائج سامنے لے کرآئینگے۔ اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ حالات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کی جائے اگر وقت ہاتھ سے نکل گیا تو سوائے آفسوس کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى