ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……..سرفروشی سے خرفروشی تک

……………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی……………

Advertisements

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں خیبر پختونخواکی طر ف سے چین کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے بہت بڑا ’’روڈ شو‘‘ منعقد کیا ہے۔روڈ شو میں صوبے کے آبی وسائل،اور معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ صوبے کے دولاکھ گدھوں کی مارکیٹنگ کا بھی اہتمام کیا ہے۔بیجنگ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چینی سرمایہ کاروں نے پانی اور معدنیات سے زیادہ گدھوں کے کاروبار میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اگلے روڈ شو میں چینی دوستوں کو خیبر پختونخواہ کے کتوں کی تجارت پر بھی راغب کیا جائیگا۔منشی تلوک چند محروم اردوکے ادیب شاعر اور دانشور گذرے ہیں۔یہ قیام پاکستان کے بعد کا ذکر ہے۔موصوف کسی کالج میں لیکچرر تھے۔انہوں نے استعفیٰ دیدیا۔لوگوں نے استعفیٰ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ایک ایسے جملے میں جواب دیا جس کا آدھا فارسی اور ادھا اُردوہے۔ہوسکتا ہے فارسی کسی اور کا قول ہو۔منشی تلوک چند محروم نے کہا’’ بہ سگاں ادب نمودن بہ خران سلام کردن مجھے راس نہیں آئی‘‘سیدھا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ کتوں کو ادب سکھانے اور گدھوں کا ادب کرنے کی فضا مجھے راس نہ آئی۔اتفاق سے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان کے ساتھ پیش آنے والے و اقعے کے ایک روز بعد ہمارے وزیراعلیٰ چین کے دورے پر گئے اور وہاں انہوں نے گدھوں کی مارکیٹنگ شروع کردی۔سردست یہ معلوم نہیں ہوا کہ وزیراعلیٰ اپنے ساتھ خیبر پختونخوا کے گدھے لے گئے یانہیں؟تاہم اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ انہوں نے ہمارے ہاں پایے جانے والے گدھوں اور کتوں کی نمایاں خصوصیات پر عبور رکھنے والے ماہرین سے ضرور استفادہ کیا ہوگا ہمارے دوست نذیر گردیزی پیروڈی کے ماہر ہیں۔انہوں نے ایک نازک موضوع پر حساس گفتگو کرتے ہوئے غالب کے شعر کی یوں پیروڈی کی۔
گدھا سمجھ کے وہ چپ تھا میری جو شامت آئی اُٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے دربان کے لئے
ہمارے برخوردار عمران الحق نے اس پر پھہتی کستے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ڈوگرہ اور فرنگی کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام کی جدوجہد اور امریکی استعمار کے خلاف پختونوں کی طویل قوت ازمائی کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بیجنگ روڈ شو کیلئے’’سرفروشی سے خرفروشی تک‘‘کا عنوان تجویز کیا ہے۔کسی دوست نے رحمان بابا کے کلام کی پیروڈی کرتے ہوئے ایک دفعہ کہا تھا۔
پہ یو قدم ترچینہ پوری رسی مالیدلے دے رفتارد بدمعاشانو
اس حوالے سے ہمارے دوست سید شمس النظر فاطمی کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ چین ہمارا سدا بہار دوست ہے۔چین نے ہر نازک مرحلے پر پاکستان کی مدد کی ہے اور پاکستان کو ہر بحران سے نکالاہے۔چینی دوستوں کو پتہ ہے کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ گدھا ہے۔گدھے کی وجہ سے عوام کو انصاف نہیں ملتا۔تعلیم اور آگاہی نہیں ملتی۔عقل وشعور سے شناسائی نہیں ملتی۔توانائی کا بحران بھی گدھوں کی وجہ سے ہے۔کرپشن کا ناسور بھی گدھوں کی مرہون منت ہے۔فرقہ واریت اور عدم برداشت بھی گدھوں کی وجہ سے ہے اس لئے چینی دوستوں نے ہماری مددکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شاید چینیوں نے غنی خان کے کلام سے بھی استفادہ کیا ہوگا۔ایک نظم میں غنی خان کہتا ہے کہ اے خدا!مجھے حکومت نہ دے،بادشاہی نہ دے،اقتدار نہ دے،اقتدار اور حکومت سونے کی بنی ہوئی کاٹھی (کت)ہے۔اسے کسی گدھے کی پیٹھ پر کس دے اور اُس گدھے کو نصیحت کردے کہ غنی کو لات نہ مارے۔پورا شعریوں ہے۔
چرتہ غٹ خر تہ پہ شاکڑہ دادسرو زروکتہ،او نصیحت ورتہ اوکڑہ ربہ!زمالہ بابتہ ،گورہ پام کوہ ددے لہ خرہ!چرتہ غنی اونہ وہے پہ لتہ۔
ہمارے چینی دوستوں کو پتہ ہے کہ آج کل گدھے نصیحت لینے والے نہیں ہیں گدھوں کی نئی نسل اپنے اسلاف پر نقش قدم پر چلنے سے انکاری ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ غنی خان کے’’کلی وال)کو گدھوں سے نجات دلائی جائے۔ایک چینی خاتون کے ساتھ پاکستانی کی دوستی ہوگئی ایک دن چینی خاتون نے پاکستانی کی ضیافت کی۔ضیافت میں دوسری بہت سی چیزوں کے علاوہ گدھے کا’’لذیذ گوشت ‘‘بھی تھا۔پاکستانی نے گوشت کو ہاتھ نہیں لگایا۔چینی میزبان نے پوچھا گوشت کیوں نہیں کھاتے؟پاکستانی نے جواب دیا،گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے۔چینی میزبان نے کہا کہ تمہارے مذہب میں تو شراب اور زنا بھی حلال نہیں ہے۔پاکستانی کو پھر بھی شرم نہیں آئی اُس نے کہا’’خدا مہربان ہے معاف کرنے والا ہے‘‘اب دولاکھ گدھوں کی پہلی کھیپ گوادر پورٹ سے چین کی طرف روانہ کی جائیگی۔تو ان گدھوں کے ساتھ دوٹانگوں والے گدھے بھی جائینگے۔چین جاکر وہ دیگر گناہ تو کرینگے مگر گدھے کا گوشت نہیں کھائینگے۔اس مقام پر خدا کا مہربان اور غفور الرحیم ہونا کسی بھی گدھے کو یاد نہیں رہتا۔سیانے کہتے ہیں کہ چائنا پاکستان اکنامک کو ریڈور (CPEC) عوام کے لئے خوشحالی لائے گی۔اب یہاں گدھوں کے بڑے بڑے فارم بنینگے۔گدھوں کی افزائش نسل ہوگی۔دوٹانگوں والے گدھے ان فارموں نے بیماروں کا حق کھایا ہے،قیدیوں کے راشن میں چوری کی ہے،پاگلوں کے راشن میں چوری کی ہے۔مرغیوں اور مچھلیوں کے راشن میں غبن کیا ہے۔اب CPECکے زرین مواقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گدھوں کے حصے کا راشن بھی کھاجائینگے۔اور یہ نیا عالمی ریکارڈ ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں گدھوں کے راشن پر ہاتھ صاف کیا گیا’’خرمستی ‘‘کی حد ہوگئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى