تازہ ترین

پارٹی پالیٹکس

………….. محکم الدین ایونی…………….

سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کی طرف سے فاتحہ خوانی کیلئے حاضری ، راہ چلتے لوگوں سے پُر تپاک طریقے سے ملنا ،سپورٹس ٹورنامنٹ میں بطور مہمان خصوصی شرکت، افتتاحی تقریبات میں سبقت لے جانے کی کوشش اور اُکھاڑ پچھاڑ و جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو جائے ۔ تو سمجھ لیں ۔ کہ انتخابات کی ہوائیں چلنے لگی ہیں ۔ اور یہی وہ باد الیکشن ہے ۔ جو پانچ سال بعد نمایندگان کو زمین کی طرف لے آتی ہے ، اور نرمی ، ہمدردی ، غمخواری اور مہربانی پر مجبور کرتی ہے ۔ ورنہ بہت کم سیاسی رہنما اور نمایندگان ایسے ہیں ، جو الیکشن جیتنے کے بعد ووٹرز کی طرف توجہ دینا تو دور کی بات ، کال کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ الیکشن کی یہ ہوائیں ہمارے چترال کی ان وادیوں میں بھی گھس آئی ہیں ۔ تنظیم سازی ، کار نر میٹنگز ، اور آنے والے متوقع الیکشن کے لئے امیدواروں کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر کوئی اپنی پارٹی کے پہلوانوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہا ہے ۔ مانوں یا نہ مانوں کی صدائیں بھی سنی جارہی ہیں ۔ جو مختلف پارٹیوں کے اندر کی آوازیں ہیں ۔ اور کچھ سیاسی گرو ابھی سے ان اختلافات سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے جال بُن رہے ہیں ۔ اگرچہ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے ۔ کہ اصل معاملہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے اعلان کے بعد ہی ہو گا ۔ جس میں انتخابات قبل از وقت ہونے یا اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آ جائے گی ۔ بہر حال یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ کہ 2018الیکشن کا سال ہے ۔ جس کیلئے تیارئیاں شروع ہو چکی ہیں ۔ چترال میں متوقع الیکشن کے لئے مختلف پارٹیوں کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی ، جمعیت العلماء اسلام ، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ ن ، آل پاکستان مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایسی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ جن کی ملک ، صوبے اور چترال پر ایک یا اس سے زیادہ حکومتیں رہ چکی ہیں ۔ اور عوام کو ان کی کارکردگی کے بارے میں کسی حد تک معلومات حاصل ہیں ۔ کہ کونسی پارٹی کس حد تک ملک کے ساتھ اور خصوصاً چترال جیسے پسماندہ اور مشکلات سے دوچار ضلع کے ساتھ وفادار رہا ہے ۔ اور اس علاقے کی طرف توجہ دی ہے ۔ چترال کے لوگوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے ۔ کہ موجودہ پانچ سالہ دور حکومت میں چترال جن آفات سے دوچار ہوا ۔ اور جن مسائل سے اب دوچار ہے ، اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومت تک اُن کے نمایندوں کی رسائی کس حد تک رہی ۔ اور وہ مصیبت میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنے میں کہاں تک کامیاب رہے ۔ چترال کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے ۔ کہ ہمارے نمایندگان چترال کی ترقی میں اس مرتبہ سب سے زیادہ رکاوٹ بنے رہے ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ جو سڑک ٹوٹا ، جو پُل گرا ، جو پائپ لائن بند ہو ا،اور جو نہر سلائڈنگ کا شکار ہوا ۔ اُن کی عدم بحالی کی ایک بڑی وجہ خود ہمارے ممبران وسیاسی نمایندگان کی آپس کی کھینچا تانی ہے ۔ کہ اگر پیپلز پارٹی کے نمایندے نے کسی نہر کی بحالی کیلئے کوشش کی ۔ تو پاکستان تحریک انصاف نے اُس میں روڑے اٹکائے ، اسی طرح پی ٹی آئی کی کوششوں سے کسی پُل پر کام شروع ہوا ،تو کسی دوسری پارٹی نے عوامی سطح پر ایسا ماحول بنایا ۔ کہ کام کرنا محال ہوا ، غرض جو بھی پارٹی اگر کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ اُس نے اگر کوئی کام کرنے کی کوشش کی ۔ تو باہمی چپقلش اور کریڈٹ لینے کی جنگ نے اُن ترقیاتی منصوبوں کا ستیاناس کر دیا ۔ ایسا بھی دیکھا گیا ۔ کہ ایک پارٹی منصوبوں کا افتتاح کر بیٹھا ، سائن بورڈ لگوایا ۔ تو دوسروں نے بے صبری اور عدم برداشت کی انتہا کرتے ہوئے مخالفت میں نصب شدہ سائن بورڈ ہی اُکھاڑ دیے ۔ عرض یہ پورا ٹینیور فوائد حاصل کرنے کی بجائے قوم کے گلے پڑ گئی ۔ اور ہمارے نمایندگان چاہے وہ صوبائی ہوں ، قومی ہوں کہ ضلعی اپنی توانائیاں چترالی قوم کے مفاد کیلئے استعمال کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے پر صرف کئے ۔ 2013اور2015 کے سیلاب اور زلزلے ممبران اسمبلی اور دیگر نمایندگان کیلئے ایسی Opportunities تھیں ۔ کہ ان کو بنیاد بنا کر وہ متفقہ طور پر کام کرکے حکومت سے بہت کچھ چترال کیلئے حاصل کر سکتے تھے ۔ جو کہ نہیں کئے جا سکے ۔ چترال کے لوگوں کو اب اس بات کا احساس ہوا ہے ۔ کہ انہوں نے مختلف پارٹیوں کے امیدواروں کو جیتوا کر خود اپنے پا ؤں آپ کلہاڑی ماری ہے ۔بھلا یہ کوئی ہوش و حواس والے کا کام تھا ۔ کہ صوبائی اسمبلی کیلئے پی پی پی کے امیدواروں کو ووٹ دیں ، مرکز کیلئے آل پارٹیز کو سپورٹ کریں ، ضلع ناظم جماعت اسلامی کا بنائیں ۔اور سیاسی کُشتی کیلئے اکھاڑا تیار کریں ۔ یہی وہ فیصلہ تھا ۔ جس کی بناپر چترال کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ بہت سارے سیانے لوگوں کا خیال ہے ۔ کہ چترال کے لوگوں کو گلگت بلتستان کے عوام کی طرح اپنے مفادات کیلئے ووٹ دینا چاہیے ۔مرکز میں پی پی پی کی حکومت آئی ، اپنے صوبے میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو جیتایا۔ اور فوائد حاصل کئے ۔ دوسری بار مسلم لیگ کی حکومت وفاق میں آئی تو سب مل کر مسلم لیگ کے امیدواروں پر ووٹوں کی بارش کی ۔ اورثمرات آج کھا رہے ہیں ۔ لیکن چترال میں معاملہ بالکل اُلٹ ہے ۔ ہم نے ووٹ دی ، لیکن وفاق میں کوئی توجہ حاصل کرسکے اور نہ صوبے سے مراعات لینے کے قابل ہوئے ۔ہم عجیب لوگ ہیں مرکز میں جس پارٹی کی حکومت آنے کا امکان ہوتاہے ۔ ہم اُس کے مخالف امیدوار کو ووٹ دے کر یہ توقع رکھتے ہیں ۔ کہ یہ میرا مسئلہ حل کرے گا ۔ این خیال است و محال است و جنون ، یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ ہمیں اپنی سوچ اور فکر کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔ اور روایتی ووٹرز کی بجائے مفادات کے تناظر میں اپنے فیصلے کرنے ہوں گے ۔ بصورت دیگر ہم ان مشکلات میں گھیرے رہیں گے ۔
نوٹ : سیاسی تجزیے اس کے بعد جاری رہیں گے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔