مضامین

استاد کا احترام

…………..تحریر : اقبال حیاتؔ آف برغذی ………….
گاؤں کے ایک سکول ٹیچر کے ہمراہ فاتحہ خوانی سے آرہا تھا۔ راستے میں ایک جگہ چار نوجوان لڑکے انتہائی انہماک کے ساتھ کانوں میں ہیڈ فون لگائے اپنے اپنے موبائل کے ساتھ سر گرم عمل تھے ۔ ایک طائیرانہ نظر ہم پر دوڑانے کے بعد اپنے لگن میں مگن ہوئے۔ ان کے قریب سے گزرنے کے بعد میرے ہمراہی سکول ٹیچر نے انتہائی موثر انداز میں آہ بھر کر پیشانی پر مٹھی مارتے ہوئے گویا ہوئے کہ یا اللہ ! کیا عجیب دور دیکھنے کو ملا۔ انسانیت ، شرافت ، اخلاق اور تہذیب صرف الفاظ کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے اور ان پر عمل کا تصور قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ۔ ان کے اس پر تاثیر شکوے کے اسباب پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ چاروں بیٹھے ہوئے لڑکے میرے شاگرد ہیں ۔ انہیں احتراماً اُٹھ کر سلام کے چند بول بولنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی ۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے اخلاقیات پر فاتحہ خوانی کے مترادف ہے۔
ان کے ان شکو ے شکایات کو اگر حقیقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھا جائے تو اگر چہ ہر شعبہ حیات کے اندر انسانی اقدار اور مزاج میں واضح تبدیلی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور انسانیت کے ارفع مقام کی بربادی کو دیکھتے ہوئے آہ بھر نے کے سوا کسی مداوے کی صورت بھی نظر نہیں آتی مگر ان کے اسباب و علت کے بارے میں غور و فکر کر نے کی ضرورت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ حقیقتاً استاد کو روحانی باپ کی حیثیت حاصل ہے۔ جن کے زیر سایہ بچہ مقصد حیات کے تمام ضوابط اور اسلوب سے آگہی حاصل کر تا ہے۔ اور خصوصاً معلم نام کی بنیاد پر اسکی نسبت انسانیت کے سب سے بڑے معلم آقائے نامدار ﷺ سے ہوتی ہے۔ اور یوں اسکی عزت و توقیر مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس مناسبت سے ایک لفظ کسی سے سیکھنے کے بعد سکھانے والے کی تعظیم و تکریم کا یہ منظر بھی اپنی جگہ یادگار ہے کہ شیخ سعدی ؒ ایک دفعہ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ایک بچہ جب بھی بال لیکر ان کے سامنے آتے تھے ۔ تو سعدی ؒ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ پاس بیٹھے ایک شخص نے اس لڑکے کے ساتھ خصوصی لگاؤ اور احترام کی وجہ پوچھی تو سعدی ؒ نے فرمایا کہ اس لڑکے کا باپ میرا استاد ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اس کا باپ تو عیسائی ہے آپ کے کیسے استاد ہوسکتے ہیں ۔ سعدی ؒ نے فرمایا کہ یقیناًوہ مذہب کے لحاظ سے عیسائی ہیں ۔ مگر مجھے کتے کے بالغ ہونے کی علامت کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ ٹانگ اٹھا کر پیشاب کرنا کتے کی بلوغت کی علامت ہے۔ یوں ایک لفظ سکھانے والے کی تکریم کا اگر یہ معیار سامنے رکھا جائے۔ تو بہت کچھ سیکھنے والوں کو اپنے محسن استادوں کے جوتوں کے تلے چاٹنا بھی بے جانہ ہوگا۔ اور اس قسم کا منظر ماضی قریب تک دیکھنے کو ملتا تھا۔ استاد کے سامنے آنے پر نظر یں احتراماً ان کے جوتوں پر ٹک جاتی تھیں ۔ اور دست بو سی کے بعد سر اُٹھا کر استاد کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہوتی تھی ۔ البتہ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے۔ کہ وہ اساتذہ وقار اور وجاہت کے مجسم ہوتے تھے ۔ اور بچوں سے اپنا مقام خود منواتے تھے ۔ ان سے آزدانہ ماحول کے تعلق سے اجتناب کر تے تھے ۔ درس و تدریس کے بغیر شاگر دوں سے فاصلے رکھنے پر خصوصی توجہ دیتے تھے ۔ پڑھائی کے اوقات میں بچوں سے اپنا ذاتی کام لینے سے قطعی طور پر پرہیز کر تے تھے ۔ اور پڑھائی کے اوقات کو امانت سمجھتے تھے ۔ اساتذہ اپنے کردار ، گفتار عملی صلاحیتوں اور فرائض کی بجا آوری کے ذریعے بچوں پر مثبت اثرات چھوڑتے تھے۔ علم کی ترویج کی ذمہ داری کو اس کے حقیقی روح کے مطابق ادا کر تے تھے ۔ اور بچوں کے اندر بیسا کھیوں کے سہارے آگے قدم رکھنے کی بجائے خود اعتمادی کو پروان چڑھاتے تھے۔ چونکہ استاد قوم کی مستقبل کا معمار ہوتا ہے۔ اور قوم کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ اس لئے اگر استاد ہمہ وقت پوری قومی زندگی کے بارے میں فکرو خیال کے تحٹ دیانتداری ، فرض شناسی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائے گا۔ تو اس کے ثمرات سے پوری قوم مستفید ہوگی ۔اور ایسے اساتذہ اپنے احترام کو بھی خود منوائیں گے۔ اور انہیں بے احترامی کے شکوے شکایت کا موقعہ نہ ملے گا۔ اگر ان کے شاگرد معاشرے میں بہت اونچا مقام بھی حاصل کریں گے تو اپنے اس مقام کو استاد کے خاک پا کے برابر بھی نہیں سمجھیں گے ۔ فاتح عالم سکندر اعظم ایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں ایک بہت بڑا بر ساتی نالہ بارش کی وجہ سے طغیانی پر آیا ہوا تھا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان اس خطر ناک نالے کو پہلے عبور کرنے کے سلسلے میں بحث ہوا۔ سکندر نالہ پہلے عبور کرنے پر بضد تھا۔ آخیر ارسطو نے اسکی بات مان لی ۔ پہلے سکندر نے نالہ عبور کیا پھر ارسطو نالے کے پار ہو کر اپنے شاگر د سے پوچھا کہ کیا تم نے آگے چل کر میری توہین نہیں کی ؟ سکندر نے جواب دیا نہیں استاد محترم ! میں نے اپنا فرض پورہ کیا ہے۔ ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہو جائیں گے لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کر سکے گا۔
زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔