تازہ ترین

چترال ،جمعہ کے روز بلوہ کرنے کے پاداش میں ڈیڑھ سو افراد کو حراست میں لے لیا گیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) جمعہ کے روز شاہی مسجد میں ایک شخص کی جانب سے امامت اور نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد کشیدہ صورت حال جلد ی سے قابو میں آرہی ہے جس کے لئے ضلع بھر میں دفعہ 144فافذ کرنے کے بعد شہر میں پولیس ، چترال سکاوٹس اور پاک آرمی کی نفری بھاری تعداد میں تعینات کئے گئے تھے جوکہ چترال شہر آنے اور جانے کے راستوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سڑکوں کی بھی سخت نگرانی کرتے ہوئے بغیر کسی معقول وجہ کے شہر میں داخل ہونے والوں پر کڑی رکھتے تھے۔ شہر اور مضافات میں مکمل طور پر کرفیو کا سماں رہا اور کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے تاہم پشاور بورڈ کے زیر اہتمام انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری رہے ۔ سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کی ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی جس کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کی بندش کی وجہ سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔ دریں اثناء جمعہ کے روز بلوہ کرنے کے پاداش میں ڈیڑھ سو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے ان کے بارے میں تحقیقات کے بعد ان کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کیا جائے گا۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ملزم رشید الدین کو انسداد دہشت گردی کے جج کے سامنے پیش کرکے ان کا ریمانڈ لینے کے لئے سوات بھیج دیا گیا جن کے خلاف تغزیرات پاکستان کے دفعہ 295۔سی کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعات 6اور 7کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چترال میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ڈی۔ آئی۔جی ملاکنڈ اختر حیات خان گنڈاپور بھی چترال پہنچ گئے ہیں۔ کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل نظام الدین شاہ نے خود ہی شہر میں گشت کرکے صورت حال کا جائزہ لیتا رہا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى