
توہیں رسالت کیس۔۔
توہیں رسالت ایک گھناؤنا جرم ہے جس کی سزا، سزائے موت ہے۔کوئی مذہب اور مذہب کے پیروکار اس بات کو برداشت نہیں کرسکتے کہ رسول ؐکے شان میں گستاخی ہو۔گذشتہ روز جامع مسجد چترال میں بھی ایساہی ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ایسے موقعے پر دو صورتیں ہوسکتی ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ گنا ہ کے مرتکب ہونے کے بعد اس گستاخ کو وہی پر قتل کیا جائے جس کا کوئی قصاص دین اسلام میں نہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ گستاخ کو قانون کے حوالے کیا جائے،گواہوں کے بیانات قلم بند کرکے ریاستی اور گستاخ رسولؐ قانون کے تحت سزائے موت دیدی جائے۔یہ دونوں صورتیں ایسے ملعون کی سزا کے لےئے تاریخ اسلام میں موجود ہیں۔
چونکے خطیب شاہی جامع مسجد ایک بصیرت رکھنے والے امام اور شخصیت ہیں اس نے گستاخ رسولؐ کے لئے دوسری صورت اختیار کرلی جو وقت اور حالات کے عین مطابق تھا۔ اس نے ملعون مجرم کو قانون کے حوالے کرکے ایک ذمہ دار اور صحیح شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ ورنہ ایسے صورت حال میں جبکہ ملک کے اندر فرقہ واریت ،فسادات اور دہشت گردی اپنے عروج پر ہیں ملک کے امن اور معاشی حالت برُی طرح متاثر ہوچکے ہیں شرپسند عناصر کوئی بھی تخریبی کام کرسکتے تھے اس لئے قانون کی بالادستی نا گزیر ہوچکی تھی ۔
یہ مسلم امہ کا قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی حق بھی ہے کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے شان میں گستاخی کرنے والے قانون کے شکنجے میں رہتے ہوئے کیفرکردار تک پہنچ سکے تاکہ آنے وقتوں میں کوئی گمراہ ایسے گناہ کا مرتکب نہ ہو۔
ایسے صورت حال میں دہشت گردی اپنا موقع ضائع ہونے نہیں دیتا، فرقہ پرستی کو ہوا ملتی ہے، نفرت کی ہوائیں چلنا شروع ہوجاتی ہیں اور نتیجتاً پرامن ماحول بگڑ کر فسادات اور پریشانیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے پر زوراپیل کرتے ہیں کہ ہم اسلامی ریاست مملکت خداداد کے مٹی پر ،جو امن وآشتی کا گہوارہ رہا ہے کسی بھی تخریبی اور شرپسندی سے اپنے آپ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ذمہ دارشہری ہونے کا ثبوت دیں۔ املاک کو نقصان پہنچانا ، اپنے ہی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والوں پر پتھر برسانا ،تھانوں اور چوکیوں پر حملہ کرنا کسی بھی اچھے شہری کا شیوانہیں۔اس کے علاوہ میں پولیس ڈیپارٹمنٹ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ بے جا لاٹھی اور اسلحے کا استعمال پرامن شہریوں پر نہ کریں کیونکہ یہاں کوئی جنگل کا قانون نہیں، اسلامی جمہوری ریاست کا قانون پہلے ہی سے موجود ہے۔شناختی کارڈ اور گاڑیوں کی چیکنگ آپ کے قانونی دائرہ اختیار میں ہے اور شہریوں کی ضرورت بھی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا پولیس کااخلاقی فریضہ بنتا ہے جس سے یہ ایک مثالی ادارہ بنے گا۔
