مضامین

چترال ٹاؤن – شہر ناپرسان

…………….تحریر: جی کے سریر………….
چترال ٹاؤن ایریا آج کل طرح طرح کی محرومیوں, صحت و صفائی کی ناقص صورتحال, انتظامی لاپرواہیوں اور عوام الناس کو لاحق پرخطر ماحول کا منظر پیش کر رہا ہے. جہاں ایک طرف پینے کے صاف پانی, بجلی جیسی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں عوام کو درپیش دیگر مسائل و مشکلات کی ایک لمبی فہرست موجود ہے, جبکہ متعلقہ اداروں اور افراد کی عدم دلچسپی کی وجہ سے حالات آۓ روز ابتری کی جانب گامزن ہیں. یہاں میں اس سارے منظر نامے کی ہلکی سی تصویرکشی کی جسارت کروں گا. چترال شہر میں چاروں طرف غلاظت اور کچرے کے ڈھیر ہر راہگیر کا منہ چڑا رہے ہیں. Image may contain: outdoorایسا لگتا ہے کہ عوام الناس گندگی, تغفن اور جراثیم کے سمندر میں غوطہ ذن طرح طرح کی بیماریوں مثلأ ٹی بی, ملیریا, ٹائفائڈ اور دیگر موذی امراض کا خطرہ فی سبیل اللہ مول لینے پر مجبور ہیں. ماہرین صحت علاقے میں بڑھتی ہوئی ان امراض اور نتیجتأ اموات کا ایک بڑا شاخسانہ صحت وصفائی کا ناقص انتظام قرار دے رہے ہیں. مثال کے طور پر بازار کے دونوں اطراف نالے اور چھوٹی بڑی چینلز ہر طرح کی گندگی سے اٹا اٹ بھرے ہوۓ ہیں. ان نالوں میں آس پاس کے گھروں, ہوٹلوں, دوکانوں اور واش رومز سے نکلنے والی انسانی فضلات سے لے کر مختلف قسم کی کیمکلزاورکوڑا کرکٹ شامل ہو رہے ہیں. نالوں کے ساتھ ساتھ گوشت, سبزی اور کھانے کے خشک و تیار سامان فروخت کیے جاتے ہیں. گندگی اور آلودگی کے سنگم میں یوں لگتا ہے کہ لوگ رقم کے بدلے ان دوکانوں سے بیماریاں خرید رہے ہیں. مضر صحت اشیاء کے مجرمانہ کاروبار میں بازار میں موجود ملوث مختلف مشروبات,Image may contain: one or more people and outdoor فاسٹ فوڈ اور بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والے غیر قانونی منافع خور بھی اپنی عوام دشمن سرگرمیاں ڈنکے کی چوٹ پر سرانجام دے رہے ہیں. چائنہ مارکیٹ میں زیرفروخت دو نمبر اشیاء سے لے کر بڑی بڑی ایجنسیز کے مالکوں کی طرف سے ایکسپائرڈ, نقلی, ناقص اور غیر صحتمندانہ اصولوں پر تیار شدہ سامان کی فروخت عوام کی صحت کے ساتھ کھلوار کے علاوہ ان کے خون پسینے کی کمائی پر بھی ڈھاکہ ہے. مثال کے طور بازار میں ایسی جعلی مشروبات دستیاب ہیں جنہیں اصل سے پہچاننا کسی بھی عام فرد کے لیے تقریبأ ناممکن ہے. یہ مشروبات اور اسی قبیل کی دیگر اشیاۓ خوردو نوش مضررساں کیمکلز اور غیرصحت مندانہ ماحول میں تیار کی جاتی ہیں اور جنہیں ہم اصل کی قیمت پر خرید رہے ہوتے ہیں. چترال بازار میں گوشت اور مرغ فروشوں کی روداد بھی کچھ مختلف نہیں ہے. صحت کے اصولوں کے برخلاف جگہ جگہ بکھری ہوئی اور بےترتیب جانور اور مرغی کا گوشت فروخت کرنے والی دوکانیں آپ کو ملیں گی. یہ کھلے عام دوکانیں نہ صرف خود غلاظت اور مکھیوں کی اماجگاہ ہیں بلکہ آس پاس کے ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دوکانوں کے لیے بھی خطرات کا باعث ہیں. Image may contain: shoes and outdoorعلاوہ سرکار کی طرف سے مقرر کردہ تنخواہ دار ویٹ ڈاکٹر کی موجودگی کے باوجود یہ دوکاندار آپ کو غیر قانونی, ناقص, اور سڑا ہوا گوشت بیجتے ملیں گے. وضاحت کے طور پر چند ایک دوکانوں میں جاکر جب میں نے تحقیق کرنے کی کوشش کی تو میری جیسے رونگٹیں کھڑی ہوگئیں. یہ لوگ مقرر کردہ ذبح خانوں سے ڈاکٹر کی طرف سے تصدیق شدہ ذبیحہ لانے کے بجاۓ اپنی من مرضی سے کہیں سے بھی غیرمصدقہ, لاغر اور بیمار زدہ جانور ذبح کرکے لے آتے ہیں. جب میں نے ایک دوکاندار سے استفسار کیا تو پتہ چلا کہ وہ گذشتہ دو مہینے سے سرکاری قصاب خانے کے بجاۓ گھر وغیرہ سے جانور ذبح Image may contain: foodکرکے لاتا رہا ہے. یہی کچھ مرغ کا گوشت بیجنے والے کرتے ہیں جو گاہک کو تازہ مرغ ذبح کرکے دینے کے بجاۓ ٹانکا ہوا پہلے سے تیار شدہ گوشت تھما دیتے ہیں. ایک طرح سے حکام نے یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ چاہے اپنی عقل سلیم استعمال کرکے حلال اور صحت مند گوشت کھالیں, چاہیں تو خدانخواستہ مردار اور نقصاندہ سالن نوش جان کرلیں. کھانے پینے کی غیرصحت مند اور مہنگی اشیاء کے علاوہ شہر میں ٹریفک اور کرایوں کا نظام بھی درہم برہم نظر آرہا ہے. عرصہ پہلے تحصیل حکومت نے ٹرانسپورٹ کا انتظام بہتر کرنے, عوام کا استحصال روکنے اور لوکل گورنمنٹ کے خزانے میں معقول ٹیکس و آمدنی جمع کرنے کی خاطر اتالیق بازار کے ساتھ ایک وسیع علاقے میں سرکاری اڈہ کھول دیا تھا. فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ جگہ جگہ جتنے بھی چھوٹے بڑے غیرقانونی اڈے اور پارکنگ سہولیات ہیں ان سب کا خاتمہ کیا جاۓ گا. بدقسمتی سے اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے. جہاں کہیں بازار کے آس پاس تھوڑی بہت خالی جگے ستیاب ہیں وہاں غیرقانونی اڈے اور پارکنگ پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں کھول لیے گئے ہیں. علاوہ بےدھڑک فلنگ اسٹیشنوں کے ساتھ گاڑیاں کھڑی کی جارہی ہیں جو آگ لگنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی خسارے کا سبب بن سکتی ہیں. بائی پاس روڈ کی تعمیر کا مقصد ٹریفک کی مشکلات اور کاروبار کے مسائل کا حل تھا. Image may contain: shoes and outdoorمگر جموژی سے لے کر دنین تک روڈ کی دونوں اطراف چھوٹی بڑی, سرکاری و غیرسرکاری ہر قسم کی گاڑیاں قطار در قطار کھڑی آپ کو پارکنگ ایریا کا منظر پیش کریں گی. Image may contain: car, sky, mountain, outdoor and natureپیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کی سہولت نہ ہونے اور روڈ سائڈ پر کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے لوگ سڑک کے بیچ گزرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. اس بےہنگم بےترتیبی کے طفیل راہگیروں کو درپیش کوفت اپنی جگہ, بسا اوقات انسانی قیمتی جانوں کو خطرات بھی لاحق رہتے ہیں. مختص اڈوں کا نظام غیرفعال ہونے اور سرکاری مداخلت نہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور حضرات چترال ٹاؤن کے اندر اور باہر مختلف علاقوں سے آنے جانے والے مسافروں سے من مانی اور منہ مانگی کرایہ وصول کر رہے ہیں. ساتھ ہی ضلعی/تحصیل حکومت کو ملنے والی متوقع اچھی خاصی آمدنی بھی ان غیرقانونی اڈوں کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے جو کہ ہم جیسے وسائل سے محروم علاقے کے لیے بہت معنی رکھتی ہے. روز پھیلتی گندگی اور سڑاند, غیرقانونی اڈوں, آسماں کو چھوتی کرایہ جات, ناقص اور مضرصحت اشیاۓ خوردو نوش کی بلاجھجک فروخت, سبزی منڈی کا انتظام وغیرہ وغیرہ اس بات کا غماز ہیں کہ غیرقانونی کاروباری حکام بالا اور سرکاری عمال کی ناک کے نیچے اپنا ناک کے نیچے اپنا دھندا رچاۓ ہوۓ ہیں جبکہ عوام لوٹ مار, صحت و بہبود کو درپیش مشکلات سے دوچار ہے. دراصل ضلعی انتظامیہ اور ڈی سی, ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر, فوڈ کمشنر, میونسلٹی انتظامیہ, محکمہ صحت, محکمہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں/افراد اور ان کے اوپر سیاسی طور پر منتخب شدہ مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا ادراک رکھیں, مفاد عامہ کا تحفظ کریں اور کسی بھی خطرے یا نقصان کے خلاف اقدامات اٹھائیں. مگر حالات و حقائق کا بغور جائزہ لینے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان اداروں/محکموں کے کچھ لوگ باوجود موٹی موٹی تنخواہوں اور مراغات کے جان بوجھ کر اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کر رہے یا پھر منافع خوروں اور کاروباریوں کے ہاتھوں عوام کی لٹتی ہوئی جمع پونجی میں باہم شریک ہیں. جانے کیوں اس لمحے کچھ عرصہ پہلے کا سابق ڈی سی شہید اسامہ وڑائچ صاحب اور ان کا فرض شناس عملہ یاد آ رہا ہے. انہوں نے مل کر اپنے حصے کا کردار حتی المقدور ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے. اس وقت کے اے اے سی جناب مظہر علی شاہ صاحب وقتأ فوقتأ کرائیوں, اشیاۓ خوردو نوش, ہوٹلوں, وغیرہ کی جانچ پڑتال کرنا اپنا فرض منصبی سمجھ کر خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی اقدامات اٹھاتے تھے. آج ان کارروائیوں کی کمی کا شدت سے احساس ہو رہا ہے. ہمارا مطالبہ ہے کہ موجودہ حالات میں غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ دار افراد کا کڑا احتساب ہونا چاہئیے جبکہ عوام دشمن گھناؤنے جرائم میں شریک ایسے کسی بھی فرد کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہے. دریں اثناء عوام کی صحت و فلاح کو درپیش مشکلات کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ درکار ہے. صاف موحول میں رہنا اور صحت مند چیزوں کا استعمال عوام کا بنیادی حق اور حکومت کی اولین ذمہ داری ہے.

 

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔