ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……نجی تعلیمی اداروں کی بندش کا خطرہ

………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ
اخبارات میں پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی بل کا شوشہ بار بار دہرایا جارہا ہے حکومت اس بل کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو مزید پاپندیوں میں جکڑ کر بند کرانا چاہتی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی تنظیم (PEIMA)نے بل کو مسترد کر دیا نیشنل ایجوکیشنل کونسل (NEC)صوبائی ایکشن کونسل (PEC)فاٹا ایجوکیشنل کونسل(FEC)اور دیگر تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایاشاہد ولی خٹک ، مرتضیٰ حسین، علی مروت اور دیگر عہدیداروں نے 16مئی سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے ہڑتال کی کال دیدی تاہم سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے ایجوکیشن کے چیرمین حاجی صبورسیھٹی اور قائمہ کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ملاقات اور طویل میٹنگ کے بعد نجی تعلیمی اداروں نے ہڑتال کو اس یقین دہانی پر ملتوی کردیا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی وزیر اعلیٰ کی وطن واپسی کے بعد اتھارٹی بل کو واپس لینے یا پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے لئے قابل قبول بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریگی میٹنگ میں نجی یونیورسیٹوں کے وائس چانسلر صاحبان اور پشاور کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے پرنسپلوں نے شرکت کی اس طرح نجی تعلیمی اداروں کی بندش کے خطرے کو روکنے کی طرف مثبت قدم اٹھایا گیامخلوط حکومت میں شامل جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے تحفظات کو دور کرکے اتھارٹی بل کو تمام طبقوں کے لئے قابل قبول بنایا جائے ۔ گذشتہ چار سالوں میں صوبائی حکومت نے مختلف شعبوں میں جو بے جا سیاسی مداخلت کی ہے اس ریکارڈ کو دیکھ کر معلوم ہو تا ہے کہ ہماری صوبائی قیادت یورپ یا امریکہ میں رہتی ہے یا یہ قیادت کسی اور ملک میں مقیم ہے خیبر پختونخواہ میں اس قیادت کا کبھی گزر بھی نہیں ہوا صوبے کے نجی تعلیمی اداروں کو گذشتہ 4سالوں میں سیکورٹی بڑھانے کے لئے گیارہ نکاتی فارمولا دیدیا گیا۔ 9فٹ چار دیواری ، واک تھرو گیٹ اور سی سی ٹی وی کیمرے سے لیکر چار سیکورٹی گارڈ رکھنے کی شرط تک 11بڑے اقدامات کا پابند کیا گیا چار دیواری پر باڑ لگوائے گئے ہر ضلع میں 20فیصد سکول اور کالج ان شرائط کو پورا نہ کرنے پر بند کئے گئے طلباء طالبات کو تعلیم سے محروم کیا گیا اساتذہ بے روز گار ہوئے یہ سیکورٹی کا مسئلہ تھا حساس معاملہ تھا اس پر کوئی بڑی مزاحمت نہیں ہوئی اس کے بعد نجی تعلیمی اداروں کے کھیلوں پر پابندی لگا کر ان کو سرکاری تعلیمی اداروں کے ماتحت کر دیا گیا نجی تعلیمی اداروں کے کھیلوں کا معیار متاثر ہوا ان کے کھیلوں کی تنظیم ٹوٹ گئی ان کے درمیان کھیلوں کے مقابلے کا رجحان ختم ہوگیا ان کے ٹورنمنٹ اور ایونٹ متاثر ہوئے یہ دوسرا بڑا دھچکا تھا اس کے بعد حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی کے لئے پانچویں جماعت کا امتحان بورڈ میں رکھوادیا ان کے امتحانات کا اندرونی سسٹم متاثر ہوا بھتہ کلچر آگیا اور پانچویں جماعت کے بورڈ امتحان کا غیر معیاری، سفارش پر مبنی کلچر متعارف کراکر تعلیمی معیار کو متاثر کیا گیا یہ بھی سیاسی مداخلت کی بد ترین مثال تھی اب پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے الگ اتھارٹی بل کے ذریعے نیا بھتہ کلچر متعارف کرایا جارہا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کے سسٹم میں سیاسی مداخلت کی ایک اور کوشش ہے اس بل کی تیاری سے پہلے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ،کوئی سروے نہیں ہوا ، کوئی تحقیق نہیں ہوئی اندھے کی لاٹھی کی طرح اتھارٹی بل متعارف کرادیا گیااگر حکومت سروے کراتی ،اگر حکومت مشاورتی عمل شروع کرتی، اگر حکومت نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے ریکارڈ کو ملاحظہ کرتی تو معلوم ہو جاتا کہ 75فیصد نجی تعلیمی ادارے دور دراز دیہات اور پہاڑی یا میدانی اضلاع کے دیہی علاقوں میں قائم ہیں 60فیصد نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں برائے نام ہیں مثلاً دیہاتی علاقوں میں سالانہ فیس 5ہزار روپے سے کم ہے ٹیوشن فیس 120روپے پرائمری ، 300روپے مڈل،1000روپے میٹرک اور 1400روپے انٹر سے بی اے/بی ایس سی تک ہے اس طرح غریب ، متوسط اور لوئیر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور یہ ایسی سہولت ہے جو حکومت کی کوششوں کو سپورٹ کرتی ہے سرکاری اداروں میں داخلہ نہ ملے تو لوگ بچوں اور بچیوں کو نجی تعلیمی اداروں کے ذریعے زیور علم سے اراستہ کرتے ہیں سرکاری اداروں کے اندر ایک کمرہ جماعت میں اگر 80طلباء یا طالبات کو بٹھایا جاتا ہے تو نجی تعلیمی اداروں میں ایک کلاس کے اندر 30یا 40طلباء یا طالبات کی گنجائش رکھی جاتی ہے ماضی کی حکومتوں نے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے فرنٹیر ایجوکیشن فاونڈیشن کے ذریعے کم سے کم سر چارج پر تعمیراتی مقاصدکیلئے قرضے دینے کی پالیسی دی اور نجی تعلیمی اداروں کو انفراسڑکچر بہتر بنانے میں مدد دی موجودہ حکومت نے اُس مد کے فنڈ بھی روک لئے اور نجی شعبے میں کام کرنے والے تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی کا ہر ممکن حربہ آزمایا ایک سال بعد نئی حکومت جس پارٹی کی بھی آئے وہ یقیناًنجی شعبے میں تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی موجودہ حکومت کے پاس ایک سال کا عرصہ رہ گیا ہے اس لئے حکمت و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کیلئے نئے اتھارٹی بل کو واپس لیکر نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کا سابقہ نظام بحال رکھا جائے اگر سابقہ نظام کی خامیوں کو دور کرنا ہے تو یہ کام تحقیق ، تفتیش اور باہمی مشاورت کے ذریعے بہتر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ انگریزی اصطلاح کی رُو سے ’’ہیپ ہیزرڈ‘‘(Hap hazard)کے طریقے سے کوئی مفید کام نہیں ہوسکتا اُمید ہے کہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرکے نجی تعلیمی اداروں کی بندش کے خطرے کا سد باب کرے گی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى