تازہ ترین

وزیراعلیٰ خیبرپختونےخوا پرویز خٹک نے ملک میں موجود تین مختلف تعلیمی نظام کو بیگاڑ اور قومی تنزلی کے بنیادی محرکات قرار دیاے

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ملک میں موجود تین مختلف تعلیمی نظام کو بیگاڑ اور قومی تنزلی کے بنیادی محرکات قرار دیا ہےImage may contain: 8 people, people sitting and people standing فی الوقت ملک میں سرکاری سکولوں ، انگلش میڈیم سکولز اور مدارس کے مختلف تعلیمی نظام موجود ہیں اور ہر نظام دوسرے سے مختلف ہے۔ جب حالات ایسے ہوں تو یکساں تعلیمی نظام اور معیاری تعلیم کی اہمیت اُ بھر کر سامنے آتی ہے اور یوں یکساں نظام تعلیم اور معیاری تعلیم کو قو می ترقی کی بنیاد بناناناگزیر ہو جاتی ہے ۔ وہ آج پشاور میں بین الصوبائی وزراء تعلیم کی دسویں کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم محمدبلیغ الرحمن ، پنجاب کے وزیر تعلیم رضاعلی گیلانی ، آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم افتخار علی تلانی، گلگت بلتستان کے وزیر تعلیم محمد ابراہیم سینائی، سنیٹر روزینہ خالد اور خیبرپختونخوا کے وزراء محمد عاطف خان، مشتاق احمد غنی ، وفاقی اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تعلیم کے مختلف نظام رائج ہوں تو معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کو معاشرے کے دہارے میں شامل کرنا مشکل کام بن جاتا ہے کیونکہ جب امیر کیلئے علیحدہ نظام ہو اور غریب کیلئے دوسرا نظام ہواور معاشرے کے سب سے پسماندہ طبقے کیلئے جگہ نہ ہوتومعاشرے میں ہر کسی کو دہارے میں لانا آسان کام نہیں رہتا ۔Image may contain: 10 people, people standingایک حقیقی عوا می حکومت کو معاشرے کے تمام لوگوں کو حقوق اور، مواقع دینا اور انہیں ایک لڑی میں پروناہے۔ ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں یکساں نصاب اور معیاری تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیئے اور معیارِ تعلیم کی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیئے۔ تعلیم کیلئے وضع شدہ پالیسیوں میں عدم تسلسل کی روش کو ختم کرنا چاہیئے اور یکساں نصاب ہوناچاہیے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم سب کو یہ پتہ ہے کہ موجودہ نظام تعلیم نے امیر اور غریب کے درمیان بہت بڑا فرق پیدا کیا ہے ۔امیر کو معیاری تعلیم تک آسان رسائی حاصل ہے جبکہ غریب تعلیم کے ایک ایسے راستے پر جاتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی ۔اسی طرح موجودہ تعلیمی نظام معاشرے میں تمام بیگاڑ کی جڑ ہے جو امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا دیتا ہے۔جب حالات ایسے ہوں تو برائیاں جنم لیتی ہیں اور قوم ، قوم نہیں رہتی ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے ان پہلوؤں پر توجہ دی تاکہ بیگاڑ کے عمل کے آگے بندھ باندھا جائے ۔اس کے علاوہ حکومت نے ناظرہ قرآن کو پرائمری کی سطح تک جبکہ بامعنی قرآن شریف کو سیکنڈری لیول تک صوبے بھر میں نافذ کرنے کیلئے قانون سازی کی ۔ ان اقدامات کی وجہ سے حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو دین اور دینی اقدار کے قریب لایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت کی پالیسیاں پورے ملک میں سراہی جارہی ہیں کیونکہ اُن کی حکومت نوجوانوں کے شاندار مستقبل کیلئے پرعزم ہے۔ ہم نوجوان نسل کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے میں بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں اورانہیں اس ملک کے مستقبل کے حکمران دیکھ رہے ہیں جب یہ اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کرلیں گے تو کوئی ان کے حقوق غصب کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں شفاف حکمرانی اور اداروں سے سیاست بازی کے خاتمے کیلئے کئے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ اُن کی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے کہ سسٹم از خود ڈیلیور کرے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت تعلیم کو سب سے زیادہ اہم مقصد سمجھتی ہے اور اسی کے حصول کیلئے کوشاں ہے ۔ہم تعلیم میں سرمایہ کار ی کو بہتر مستقبل سمجھتے ہیں کیونکہ تعلیم میں سرمایہ کاری سے ہنرمند پیدا ہوتے ہیں ۔ ذمہ دار شہری پیدا ہوتے ہیں جن میں اپنی ترقی خود پلان کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور برائیوں کے سامنے وہ خود نبردآزما ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف معاشرے کیلئے سود مند ہوں گے بلکہ معیشت کیلئے بھی کار آمد ہوں گے ۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ جب صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ادارے ابتری کا شکار تھے جبکہ محکمہ تعلیم سب سے زیادہ متاثر تھا ۔اس محکمے میں میرٹ اور شفافیت لانا اور شفاف طریقے سے تعیناتی کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا تاہم پی ٹی آئی کی حکومت نے شفاف طریقے سے این ٹی ایس کے ذریعے 35 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کئے اور اس کے لئے ایک شفاف طریقہ کار وضع کیا گیا ۔ اب مزید 10 ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے ۔انفراسٹرکچر پرتوجہ دی گئی ۔ اضافی کلاس رومز تعمیر کئے گئے اور سرکاری سکولوں میں missing facilities فراہم کی گئیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ 2018 تک تمام سرکاری سکولوں میں 90 فیصد سہولیات فراہم ہوں گی ۔اب ٹیچر کارکردگی کی بنیاد پر ترقی پائے گا اور نتائج کا خود ذمہ دارہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلی میں پرائیوٹ سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے قانون سازی کی گئی ہے جو سب سے خوش آئند بات ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں زیادہ بہتری آئی ہے ۔ اب سرکاری سکولوں میں جو اساتذہ بھرتی ہوں گے تو وہ اُسی سکول میں ترقی حاصل کریں گے اور ریٹائرمنٹ تک اُسی سکول میں رہیں گے ا نہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹس اور دیگر غیر ضروری تجربات پر وسائل کا ضیاع ہوتا ہے ۔میں ایسے ضیاع کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے دیگر حکومتوں سے بھی کہا کہ غلط تجربات نہ دہرائیں۔ وسائل کا ضیاع نہ کریں بلکہ معیار ی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سے کہا کہ صرف ایسے سکولوں کی فیزبیلٹی بنائیں جو ضروری ہوں اور مفاد عامہ میں ناگزیر ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس کانفرنس کی سفارشات کو حکومت یکساں نصاب کی تیاری کے عمل میں شامل کرے گی تاکہ معیاری تعلیم کاحصول ہو اور معیاری تعلیم کے لئے معیاری اساتذہ موجود ہوں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے فیتہ کاٹ کر خیبرپختونخوا ایجوکیشن سیکٹر پلان کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ وزیرتعلیم نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور محکمہ تعلیم میں کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ وفاقی وزیر مملکت محکمہ تعلیم محمد بلیغ الرحمن نے خیبرپختونخوا کی تعلیم کے شعبوں میں کامیابیوں کو سراہا اور دوسروں کیلئے قابل تقلیدقرار دیا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى