
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا مالی سال میں آبنوشی، سٹریٹ اور روڈ لائٹس کے تمام تر منصوبے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ملک میں جاری توانائی بحران کے پیش نظرمالی سال میں آبنوشی، سٹریٹ اور روڈ لائٹس کے تمام تر منصوبے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کیلئے وسائل کی کمی آڑے نہیں آنے دی جائے گی ۔ انہوں نے خوراک، مواصلات و تعمیرات، زراعت،آبنوشی اور صحت سمیت تمام شعبوں میں کوالٹی کنٹرول کے یقینی انتظامات کو بھی نئے اے ڈی پی کا حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو رواج دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے
تاکہ معیار کی موقع پر ہی جانچ پڑتال یقینی بنائی جا سکے اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہفتوں اور مہینوں بعد مرضی کے کوالٹی کنٹرول کے نتائج لانے کا مکمل سد باب کیا جاسکے ۔ انہوں نے تمام محکموں اور شعبوں میں کوالٹی کنٹرول کے شعبہ جات کو متعلقہ یونیورسٹیوں کے تحقیقی مراکز سے مربوط بنانے کی ہدایت بھی کی ا س مقصد کیلئے انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سرپرستی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کرنے ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کو فوکل پرسن مقرر کرنے اور سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات کو سہولت کاری کا ٹاسک حوالے کرنے کی منظوری بھی دی وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔جس میں نئے مالی سال کیلئے محکمہ ہائے آبنوشی، بلدیات و دیہی ترقی اور مواصلات و تعمیرات کی ترقیاتی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کئی نئی سکیموں کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ ، وزیر بلدیات عنایت اﷲ، وزیرمال علی امین گنڈا پور ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میاں خلیق الرحمن پشاور میگا پراجیکٹس کے فوکل پرسن شوکت علی یوسفزئی ، چیف سیکرٹری عابد سعید اور ایڈیشن چیف سیکرٹری محمد اعظم خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ پرویز خٹک نے واضح کیا کہ شمسی توانائی کو فروغ دے کر بجلی ، مالی وسائل اور قیمتی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کی تکالیف اور مضمرات سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ شمسی توانائی کو آبنوشی ، سٹریٹ ، روڈ لائٹس کی سکیموں میں بروئے کار لانے کے اب تک کے تجربات کا فی حوصلہ افزاء رہے ہیں تاہم انہوں نے سولر انرجی کے موجودہ اور نئے منصوبوں میں بیٹریوں کی کھپت وخرابی کو کم سے کم سطح پر لانے ، انکی موثر دیکھ بھال اور صفائی یقینی بنانے اور کارکردگی مزید بہتر بنانے کا میکنزم وضع کرنے پرزور دیتے ہوئے کہاکہ تبدیلی کا جذبہ ہو تو سب کچھ کم سے کم وقت میں ممکن ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ آبنوشی سکیموں میں بجلی کے استعمال کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کے سبب واٹر سپلائی مسلسل متاثرہونے کے علاوہ صرف محکمہ آبنوشی کی جانب سے 20 کروڑ روپے بجلی بلوں پر خرچ ہو جاتے ہیں جبکہ سولر ائزیشن کی بدولت ان مسائل میں کمی جبکہ توانائی اور وسائل کے ساتھ ساتھ آبنوشی پر ترقیاتی مد میں خرچ ہونے والے 68 کروڑ روپے کی بچت بھی ممکن ہے ۔ انہوں نے آبنوشی کی تمام جاری سکیمیں 30 جون تک ہر حال میں مکمل کرنے جبکہ اس عمل کو مکمل طور پر آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ناکامی کی صورت میں متعلقہ افسران کی سرزنش ہونے کے علاوہ مزید فنڈز بھی نہیں دیئے جائیں گے ۔انہوں نے سیاحتی اہمیت کی حامل شاہراہوں کی تعمیر و مرمت سمیت تمام سماجی اور ترقیاتی شعبوں کی آؤٹ سورسنگ پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری شعبے میں ترقیاتی سکیموں کی بروقت اور معیاری تکمیل ہمیشہ سوالیہ نشان بنی رہتی ہے اور عوام کسی طور نہ تو ان سے مطمئن ہوتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور مستفید ہو پاتے ہیں ۔اس لئے حکومت کاکام صرف نگرانی اور کوالٹی کنٹرول تک محدود رہنا چاہیئے نہ کہ عملی طور پر کاروباری سرگرمیوں میں شریک ہو اور اپنا بنیادی کام پورا نہ کر سکے۔انہوں نے مالم جبہ روڈ کی تکمیل میں تاخیر اور فنڈز کی کمی سے متعلق معروضات پر سختی سے ہدایت کی کہ بینک آف خیبر سے فنڈنگ کیلئے معاہدہ کرکے اس کی تکمیل اگلے مالی سال میں ہر صورت یقینی بنائی جائے ۔
