تازہ ترینفاروق اعظم

خانۂ انوری کجا باشد

……تحریر:فاروق اعظم……



ہمارا پیارا چترال جو اپنی مخصوص تمدن و ثقافت اور اپنے باسیوں کی نرم خوئی و شائتہ مزاجی کی بنا پر پوری دنیا میں نیک نام ہونے کے باوجود قسمت ایسی پائی ہے کہ فارسی زبان کے ایک نامور اور کلاسیکل شاعر محمد انوری کے یہ قطعہ اس پر پورا اترتا ہے۔ انوری نے اپنے سیاح بختی کا رونا اس طرح رویا تھا:
ہر بلا کہ از آسمان آید
گر چہ دیگرے قضا باشد
بر زمینی رسد می پُرسد
خانۂ انوری کجا باشد
یعنی ہر مصیبت جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، اگر چہ کسی دوسرے کے نصیب میں ہوتی ہے، مگر زمین پر اتر کر فورا انوری کے گھر کا پوچھنے لگتی ہے۔
ہمارے چترال کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ قدرتی آفات اور ناگہنانی مسائل کی دردناکی اور ہولناکی اپنی جگہ، مگر انسانی رویے اور مقتدر حلقوں کی ستم کاریاں بھی کچھ کم اذیت ناک نہیں ہیں۔ یہاں بائی پاس روڈ کی تعمیر جو زیادہ سے زیادہ ایک سال کی متقاضی تھی، آٹھ سالوں میں ناقص طریقے سے پائے تکمیل کو پہنچتی ہے۔ جس کی فنشنگ کا مرحلہ ہنوز باقی ہے۔ لواری ٹینل کا قصہ آپ کے سامنے ہے، زرادی کی حکومت آئی تو کم و بیش چار سال کام معطل رہا ، ورنہ رفتہ موسم سرما میں ہمیں انسانیت سوز اور درد انگیز مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بجلی کا مسئلہ تو کب سے ناک کا بال بنا ہوا ہے۔ دوسال قبل ٹاون کے لیے بجلی گھر منصوبے پر کام شروع ہوا، اور چھ مہینے وعدہ کے باوجود آج دوسال گزر گئے، مگر ٹاون کے لوگ بجلی کو ترس ہی رہے ہیں ۔ اور اب تو خبر آئی ہے کہ بجلی گھر کی کمر اتنی پتلی ہے کہ یکبار ٹاون کی ضرورت پوری کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ ہسپتالوں اور دوسرے اداروں کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ اس پر مستزاد 21 مئی کا واقعہ فاجعہ تھا، جس نے پورے چترال کو ہلاتے ہلاتے رہ گیا۔ سردیوں میں برفبای کی وجہ سے مواصلات کی صعوبت، گرمیوں میں بجلی کے ہاتھوں بربادی اور سیلابوں کی صورت میں تباہی سب ہمارے مقدر کا حصہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ سال شدید زلزلہ سے جو تباہی آئی تھی، متاثرین اب بھی گریہ کناں ہیں، مگر مقتدر حلقوں کو ان کی آواز سنائی دیتی ہے نہ فریاد۔
بس اپنی کیفیت کچھ اس طرح ہے:
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں میرا دم
آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق