تازہ ترین

21اپریل شاہی مسجد کا واقعہ اور اسیران کا پریس کانفرنس

عبد المجید سالار
……….جمعیت علماء اسلام چترال…….



شاہی مسجد چترال میں جھوٹی نبوت کا دعوی کر نے والے شخص کے خلاف احتجاج کر نے پر جن لوگوں کے خلاف ایف ائی ار درج ہوا ، پھر ان کو دہشت گردی عدالت سوات میں پیش کر نے کے بعد ڈی ائی خاں جیل منتقل کرتے وقت ڈی ائی خاں میں گاڑی حادثے کا شکار ہواجس کی وجہ سے قیدیوں کو چوٹیں آئی ،ساتھ ساتھ ان قیدیوں کو غیر قانونی طور پر حوالات میں رکھکر جو مظالم پولیس کی طرف سے ڈھائے گئے اس پر چترال کے عوام میں انتہائی غم غصہ پایا جا رہا تھا، قیدیوں کے ساتھ عوام کی ہمدردیاں تھیں، مذہبی جماعتوں کے قائیدین دن رات ان قیدیوں کی رہائی میں مصروف نظر آرہے تھے، اس دوران چترال انتظامیہ کی طرف سے چترال میں پولو ٹورنامنٹ کرانے کی کو شیش کی گئی تو چترال کے دونوں مذہبی جماعتوں کے قائیدین جان ہتھیلی پے رکھکر پو لو ٹرنامنٹ یہ کہکر ملتوی کر دیا کہ چترال کے گھروں میں غم کی کفییت ہے،اس دوران جشن مناناقیدیوں کے رشتہ دارون کے زخموں پر نمک پاشی ہو گی،دونوں مذہبی جماعتوں کے قائیدین نے بازار مسجد میں چترال کے عوام کو جمع کر کے ان قیدیوں پر ہونے والے مظالم پر صدائے احتجاج بلند کر تے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان قیدیون کی رہائی کے حوالے سے دونوں مذہبی جماعتوں نے ڈپٹی کمشنر چترال ڈی پی او چترال ایس پی انوسٹیگشن ، تفتشی آفیسر، ڈی پی پی چترال سے کئی بار ملاقاتین کی، اور قیدیوں کے رہائی کے حوالے سے دفعات ختم کر نے میں اپنا کردار ادا کیا،قیدیوں کی رہائی کے بعد دونوں مذہبی جماعتوں کے قائیدین نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے زریعے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف جوڈیشل انکوایری کا مطالبہ کیا، ضلع کونسل چترال سے پولیس کی طرف سے کئے گئے مظالم کے خلاف جو ڈیشل انکوایری کا متفقہ قرارداد بھی پاس ہو کر سامنے آیا۔ تب ایک سازش کے تحت اسیران کے زریعے پریس کانفرنس کرایا گیا جس کی وجہ سے عوام کی جو ہمدردیاں اسیران کے ساتھ تھی، اس پر پانی پھر دیا گیا، ان اس پریس کانفرنس میں اسیران کی کتنی رضامندی شامل تھی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مگر وقتی طور پر پولیس کو فائیدہ پہنچانے کی کوشیش کی گئی پھر اس پریس کانفرنس میں پولیس کو فائیدہ پہنچانے میں جن جن شخصیات کے تصاویر نظر آرہے ہیں،ان سے بھی چترال کے عوام بخوبی اگاہ ہیں، لگتا ایسا ہے، کہ ان اسیران کے ہاتھوں پے تیار کردہ پریس کانفرنس تھماکر ان کو پریس کانفرنس پے مجبور کیا گیا ہے، اور مذہبی جماعتوں کے قائیدین کے کئے کرائے پر پانی پھرانے کے ساتھ ساتھ ان کو بدنام کرنے کی کوشیش کی گئی ہے، مگر ان سب کا جواب عوام وقت انے پر دینگے، ہم سب نے اس وقت کا انتظار کرنا ہے، تاہم اس پریس کانفرنس کرانے میں چترال کے سیاسی شخصیات کا کتنا ہاتھ ہے وقت انے پر سامنے آجائیگا۔

میں آپنے اس مضموں میں اسیران سے یہ گلہ ضرور کرونگا جن شخصیات کو انہوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان میں ایک نام مولانا عبدالشکورکا بھی ہے ، جس کو ہم نے گاڑی حادثے کے دن ڈیرہ اسماعیل خاں میںJUIڈیرہ ، ختم نبوت ڈیرہ اور JUI کے مرکزی رہنما مولانا عطاء الرحمن کو ہسپتال میں زخمیوں کی طرف متوجہ کرتے دیکھا اور عبدالشکور 25گھنٹہ مسلسل ڈیرہ ہسپتال میں ان زخمیوں کی خدمت کی ۔ پھر سوات کے دہشت گردی عدالت میں وکلاء کو لیکر قیدیوں کے حوالے سے حاضر ہوئے، چترال آکر قیدیوں کی رہائی تک بھی ان کو سکون کرتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا قیدیوں کے ساتھ جیل میں ملاقات، ان کے ساتھ ہمدردی، اور ان کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے مولانا ہمیں نظر آئے۔مگر آج ان پر یہ الزام لگاکر پریس کے زریعے یہ پیغام دیناکہ عبدالشکور ہما را نام لیکر سیاست کر نا بند کر دے کم از کم مولانا کے حوالے سے یہ بات نہیں کر نی چاہیے تھی۔ بقول اسیران کے اگر ان کے باتوں میں سچائی بھی ہے، تو کیا جن کے نام اسیران لے رہے ہیں یا جو اس پریس کانفرنس میں بیھٹے ہیں کیا وہ شخصیات کسی خانقاہ سے تعلق رکھتے ہیں یقیناًایسا نہیں بلکہ ان شخصیات نے اسیران کے کندھوں پے بندوق رکھکر بہت کچھہ شکار کھیلنے کی کوشش کی ہے بہت ساورں کو فائیدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ آفسوس صد آفسوس

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق