تازہ ترین

صوبے کے مختلف اضلاع میں لوگوں نے شہادتیں دیں اور علماء نے اُن شہادتوں کی بنیاد پر چاند نظر آنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ پرویزخٹک

نوشہرہ (چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عید الفطر ایک مذہبی تہوار ہے۔ چاند کے نظر آنے اور نہ آنے کے فیصلے میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے ۔ہم علماء کی طرف سے شہادتیں اکھٹی کرنے کے پورے عمل سے لاتعلق رہے اور کسی بھی ایسی حرکت سے پرہیز کیا جس سے علماء کے شواہد اکھٹے کرنے کے عمل پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہو ۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں لوگوں نے شہادتیں دیں اور علماء نے اُن شہادتوں کی بنیاد پر چاند نظر آنے کا اعلان کیا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ایک دن پہلے پشاور آکر یہ شرعی عمل خود مکمل ہوتے دیکھتی۔ یہی قومی وحدت کیلئے پسندیدہ اور ناگزیر عمل ہو تا ۔صوبے میں حکومتی اختیار قائم اور نظر آرہا ہے ۔ امن لوٹ چکا ہے ۔ دہشت گردی اور شدت پسندی کے رجحانات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔مکمل امن کا حصول ہمار ا ہدف ہے ۔ حکومتی عملداری کے نتیجے میں ہم بتدریج اپنے اہداف کو حاصل کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے اپنے حلقہ نیابت مانکی شریف نوشہر ہ میں عید الفطر کے موقع پر عمائدین علاقہ ، عام عوام اور مختلف وفود سے عید الفطر کی مبارکبادکے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک،تحصیل ناظم اشفاق اور اسحاق خٹک اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ انہوں نے اداروں میں ریفارمزکے بعد ہر شعبے میں آگے بڑھنے کیلئے اہداف مقررکئے اور ان اہداف کا حصول ہماری دسترس میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی ہمار ا منشور ہے عوام کو ریلیف دینا ہمارا مشن ہے ۔انصاف اور قانون کی حکمرانی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی کو اس کی روح کے مطابق سمجھنا ضروری ہے ۔اسی تبدیلی کے تعاقب میں ہم نے ہر اُس شعبے میں اصلاحات کیں جس سے عوام کا واسطہ ہو ۔ تعلیم اور صحت کو ترجیحات میں سرفہر ست رکھا تاکہ ترقیافتہ قوم بنیں ۔ کرپشن کا خاتمہ کیا تاکہ قومی وسائل لوگوں کی جیبوں میں جانے کی بجائے عوام کی فلاح پر خرچ ہوں۔ پولیس کو عوام کی فلاح اور اُنہیں انصاف کی فراہمی پر لگا دیا ہے تاکہ کسی کا حق نہ مارا جا سکے ۔یہ سب کچھ ہم غریب عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھ کر رہے ہیں اور مقصد صرف یہی ہے کہ ادارے جن مقاصد کیلئے بنے ہیں وہ اُسی مقصد کے حصول کیلئے ڈیلیور کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمت ہیں وہ نمائندے جنہیں عوام اپنی نمائندگی کیلئے چنتے ہیں لیکن وہ عوام کے مصائب اور تکالیف کیلئے نہ سوچتے ہیں اور نہ اپنی توانائیاں بروئے کار لاتے ہیں حالانکہ عوام کے مسائل کے حل میں صحیح تسکین ہے اور اسی سے اطمینان قلب ملتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پورے معاشرے کو سدھارنے کیلئے فکری اور شعوری تربیت کے مشن کو اجتماعی مقصد سمجھ کر آگے بڑھناہو گا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں نمایاں فرق ہے۔انکی صوبائی حکومت نے اچھی حکمرانی ، بہترین مالی نظم و ضبط، کرپشن اور اقرا پروری کے خاتمے اور اداروں کو با اثر افراد سے آزاد کرکے خود مختار بنا کر صوبے کی ترقی اور مالی وسائل کی ٹھوس بنیادیں رکھ دی ہیں۔حکومت نے عوامی توقعات اور خواہشات کو مد نظر رکھ کر اداروں کی تشکیل نو کی۔ ہم نے جس شفاف نظام کی بنیاد ڈال دی ہے اسکو مزید بہتر بنائیں گے۔صوبائی حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے عوام ملک گیر سطح پر تبدیلی کی مخالف سٹیٹس کو کی قوتوں پر کاری ضرب لگانے کے لئے تیار ہیں۔آئندہ انتخابات میں سٹیٹس کو کی گرتی ہوئی دیوار کو گرانے کے لئے منظم انداز میں آگے آئیں گے۔وزیر اعلیٰ نے موجودہ صوبائی حکومت کا ماضی کی حکومتوں سے موازنہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے اپنے منشور پر عمل کیا ہے۔ عوامی توقعات کے مطابق خدمات کی انجام دہی کا نظام متعارف کرایا ہے۔وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ کیا ماضی میں حکمرانوں نے اپنی مرضی سے اختیارات چھوڑ کر اداروں کو مضبوط بنایا ہے۔یہ واحد حکومت ہے جس نے اپنے اختیارات اداروں کو منتقل کئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کے حکمران کل کا ماضی ہوتے ہیں جس طرح کے موجودہ حکمران ماضی بنتے جا رہے ہیں مگر اب بھی اقتدار کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں اور اس سے چمٹے رہتے ہیں۔انہیں صرف اقتدار کی ہوس ہوتی ہے عوام کا درد نہیں ہوتااور نہ ہی عوام کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے۔یہ لوگ قاعدہ اور قانون کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ غیر قانونی کاموں ، لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں وہ کبھی بھی عوام کے مفادات اور انکی نمائندگی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ انکے اقدمات نے نام نہاد سیاسی لیڈروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو ہمارے عوام دوست عزم اور نیت میں کیڑے نکال رہے ہیں مگر ان سیاسی شعبدہ بازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ عوام اب سب دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ انکی حکومت کی کارکردگی سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر خلوص نیت سے عوامی فلاح کے لئے کام کیا جائے تو بہترین نتائج دیئے جا سکتے ہیں۔ہماری کارکردگی کی عوام کی طرف سے پذیرائی ہمارے لئے اطمینان بخش ہے۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

إغلاق